سعودی نظامِ محنت کے مطابق کمپنی استعفے کی درخواست کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا نہیں رکھ سکتی۔
جواب نہ ملنے پر درخواست 30 دن بعد منظور سمجھی جاتی ہے، جبکہ کام کی ضرورت کے تحت تحریری وجہ سے منظوری مزید 60 دن مؤخر ہوسکتی ہے۔
7 سال کی مسلسل ملازمت کے بعد استعفیٰ دینے والے کارکن کو مکمل اینڈ آف سروس کا دو تہائی حصہ ملتا ہے، جو عمومی حساب کے مطابق اس کی آخری حقیقی اجرت کے 3 ماہ کے برابر بنتا ہے۔
اوورسیز پوسٹ کے قاری منظور احمد نے ریاض سے ہمیں سوال بھیجا ہے۔
وہ کہتے ہیں:
میں گزشتہ 7 برس سے ریاض کی ایک کمپنی میں کام کر رہا ہوں۔
حال ہی میں مجھے ایک دوسری کمپنی سے بہتر ملازمت اور تنخواہ کی پیشکش ہوئی، جسے میں قبول کرنا چاہتا ہوں۔
اس مقصد کے لئے میں نے اپنی موجودہ کمپنی کو باقاعدہ تحریری استعفیٰ دے دیا، لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک میری جگہ کوئی متبادل ملازم نہیں مل جاتا، میرا استعفیٰ منظور نہیں کیا جا سکتا۔
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا سعودی قانونِ محنت کے تحت کمپنی کو متبادل ملازم نہ ملنے کی بنیاد پر میرا استعفیٰ روکنے یا غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنے کا حق حاصل ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ تحریری استعفیٰ دینے کے بعد کمپنی کو کتنے دنوں کے اندر اس پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے؟
اگر کمپنی جواب نہ دے تو کیا ایک مقررہ مدت گزرنے کے بعد استعفیٰ خود بخود منظور سمجھا جائے گا؟
مجھے خدشہ ہے کہ اگر یہ معاملہ زیادہ عرصے تک لٹکا رہا تو دوسری کمپنی کی جانب سے ملنے والی اچھی پیشکش میرے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔
ایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
ریاض میں سات سال سے کام کرنے والے منظور احمد کو دوسری کمپنی سے بہتر ملازمت کی پیشکش ملی، لیکن موجودہ کمپنی نے کہا کہ متبادل ملازم آنے تک ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا جائے گا۔
سعودی نظامِ محنت کے مطابق استعفے کی درخواست کو غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا نہیں رکھا جاسکتا۔ کمپنی 30 دن کے اندر اسے قبول، مسترد یا تحریری وجہ کے ساتھ مؤخر کرسکتی ہے۔
جواب نہ آنے پر استعفیٰ 30 دن بعد منظور سمجھا جاتا ہے، جبکہ قانونی مؤخر کرنے کی مدت زیادہ سے زیادہ 60 دن ہے۔ سات سال کی مسلسل ملازمت کے بعد استعفیٰ دینے پر کارکن کو عمومی طور پر آخری حقیقی اجرت کے تین ماہ کے برابر اینڈ آف سروس ملے گی۔
میرا تیسرا سوال اینڈ آف سروس بینیفٹ سے متعلق ہے۔
7 سال ملازمت کرنے کے بعد اگر میں اپنی مرضی سے استعفیٰ دیتا ہوں تو کیا مجھے اینڈ آف سروس ملے گی؟
اگر ملے گی تو مکمل ملے گی یا اس کا کچھ حصہ، اور اس کا حساب کس تنخواہ کی بنیاد پر کیا جائے گا؟
تفصیلی جواب
کمپنی استعفے کی درخواست کو غیر معینہ مدت تک محض یہ کہہ کر زیرِ التوا نہیں رکھ سکتی کہ ابھی متبادل ملازم نہیں ملا۔
البتہ کمپنی کے پاس 3 راستے ہوتے ہیں:
مزید پڑھیں
- استعفیٰ فوراً قبول کردے۔
- مقررہ مدت کے اندر اسے باضابطہ طور پر مسترد کردے۔
- کام کی ضرورت کی بنیاد پر تحریری وجہ بتاتے ہوئے منظوری زیادہ سے زیادہ 60 دن تک مؤخر کردے۔
اگر کمپنی 30 دن تک کوئی جواب نہیں دیتی تو استعفیٰ قانوناً منظور سمجھا جاتا ہے۔
لیکن اگر کمپنی 30 دن کے اندر درخواست باقاعدہ مسترد کردے تو ملازم محض 30 دن گزرنے کے بعد کام چھوڑنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
کیا متبادل ملازم نہ ملنے پر استعفیٰ روکا جاسکتا ہے؟
سعودی نظامِ محنت کی دفعہ 79 مکرر کے مطابق استعفے کی درخواست پر کارروائی کے لئے ابتدائی مدت 30 دن مقرر ہے۔
متبادل ملازم کی تلاش کو کمپنی اپنے کاروباری مفاد یا کام کی ضرورت کے طور پر پیش کرسکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر استعفیٰ غیر معینہ مدت تک نہیں روکا جاسکتا۔
اہم قانونی نکات ⌄
- کمپنی استعفے کو قبول، مسترد یا قانونی مدت کے لیے مؤخر کرسکتی ہے۔
- 30 دن تک جواب نہ ملنے پر درخواست منظور سمجھی جاتی ہے۔
- مؤخر کرنے کی وجہ تحریری اور کام کی ضرورت سے متعلق ہونی چاہیے۔
- مؤخر کرنے کی مدت زیادہ سے زیادہ 60 دن ہوسکتی ہے۔
- متبادل ملازم نہ ملنے کی بنیاد پر غیر معینہ زبانی تاخیر کافی نہیں۔
- درخواست زیرِ کارروائی ہونے کے دوران ملازمت کا معاہدہ برقرار رہتا ہے۔
- قانونی اختتام سے پہلے کام چھوڑنے پر معاوضے کا مطالبہ ہوسکتا ہے۔
اگر کمپنی منظوری مؤخر کرنا چاہتی ہے تو اسے:
- ابتدائی 30 دن ختم ہونے سے پہلے ملازم کو اطلاع دینا ہوگی۔
- تاخیر کی وجہ تحریری طور پر بتانا ہوگی۔
- مؤخر کرنے کی باقاعدہ مدت مقرر کرنا ہوگی۔
- یہ مدت تحریری اطلاع دیئے جانے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 60 دن ہوسکتی ہے۔
لہٰذا صرف زبانی طور پر یہ کہنا کہ ’متبادل شخص آنے تک استعفیٰ منظور نہیں ہوگا‘ قانونی مؤخر کرنے کے لئے کافی نہیں سمجھا جانا چاہئے۔
کمپنی سے تحریری جواب اور پلیٹ فارم ’قوى‘ پر درخواست کی اصل حیثیت معلوم کرنا ضروری ہے۔
استعفیٰ کتنے دن میں منظور ہوتا ہے؟
استعفے کی درخواست کے بعد 4 ممکنہ صورتیں ہوسکتی ہیں:
استعفے کی درخواست کے بعد چار ممکنہ صورتیں
| کمپنی کا اقدام | قانونی نتیجہ |
|---|---|
| کمپنی فوراً استعفیٰ قبول کرلے | قبول کیے جانے کی تاریخ سے معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ |
| کمپنی 30 دن تک کوئی جواب نہ دے | 30 دن مکمل ہونے پر استعفیٰ خود بخود منظور سمجھا جائے گا۔ |
| کمپنی تحریری وجہ کے ساتھ منظوری مؤخر کردے | ملازم کو زیادہ سے زیادہ مزید 60 دن کام کرنا پڑسکتا ہے۔ |
| کمپنی 30 دن کے اندر استعفیٰ باضابطہ مسترد کردے | درخواست خود بخود منظور نہیں ہوگی اور ملازم کو متبادل قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ |
اگر کمپنی 30 ویں دن کے قریب تحریری طور پر استعفیٰ مؤخر کرتی ہے تو درخواست دینے سے معاہدہ ختم ہونے تک مجموعی مدت تقریباً 90 دن تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم یہ کوئی مستقل 90 دن کی مہلت نہیں، مؤخر کرنے کے 60 دن اس تاریخ سے شمار ہوں گے جس دن ملازم کو تحریری وجہ دی گئی ہو۔
’قوى‘ کی سرکاری وضاحت کے مطابق صاحبِ کار استعفے کی درخواست کو قبول، مسترد یا کام سے متعلق وجہ کی بنیاد پر مؤخر کرسکتا ہے۔ قوى پر ملازمت کا موجودہ معاہدہ چلانے کا طریقہ
کیا کمپنی استعفیٰ مکمل طور پر مسترد کرسکتی ہے؟
یہ نکتہ غیر سعودی ملازمین کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
سعودی نظامِ محنت کی دفعہ 37 کے مطابق غیر سعودی کارکن کا معاہدہ تحریری اور محدد المدت، یعنی مقررہ مدت کا ہونا ضروری ہے۔
نظام میں استعفے کی تعریف بھی مقررہ مدت کے معاہدے کو ختم کرنے کی تحریری درخواست کے طور پر کی گئی ہے، جسے صاحبِ کار قبول کرتا ہے۔
اسی لئے ’قوى‘ پر کمپنی کو درخواست مسترد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
اگر کمپنی 30 دن کے اندر استعفیٰ واضح اور باضابطہ طور پر مسترد کردیتی ہے تو ملازم کو فوراً کام چھوڑنے سے گریز کرنا چاہئے۔
ایسی صورت میں ممکنہ راستے یہ ہوسکتے ہیں:
- موجودہ کمپنی سے باہمی رضامندی کے تحت معاہدہ ختم کرانا۔
- نئی کمپنی سے ’قوى‘ کے ذریعے انتقالِ خدمات کی درخواست بھجوانا۔
- موجودہ معاہدے کی آخری تاریخ تک کام کرکے معاہدے کی تجدید نہ کرانا۔
- معاہدے میں قبل از وقت خاتمے اور معاوضے کی شق کا جائزہ لینا۔
- غیر قانونی رکاوٹ یا تنازع کی صورت میں وزارتِ انسانی وسائل سے رجوع کرنا۔
قانونی طریقے سے معاہدہ ختم ہونے سے پہلے کام چھوڑ دینے پر کمپنی اسے غیر مشروع طور پر معاہدہ ختم کرنا قرار دے کر دفعہ 77 کے تحت معاوضہ طلب کرسکتی ہے۔
مقررہ مدت کے معاہدے میں یہ معاوضہ معاہدے کی باقی مدت کی تنخواہ تک ہوسکتا ہے، الاّ یہ کہ معاہدے میں معاوضے کی کوئی دوسری متعین شق موجود ہو۔
نئی کمپنی کی آفر محفوظ رکھنے کے لیے کیا کیا جائے؟
منظور احمد کو نئی کمپنی سے تحریری آفر حاصل کرکے اس میں ملازمت شروع کرنے کی تاریخ موجودہ قانونی کارروائی سے مشروط کرانی چاہئے۔
بہتر ہوگا کہ نئی کمپنی کو بتایا جائے کہ استعفے اور انتقالِ خدمات کے عمل میں 30 سے 90 دن لگ سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ استعفیٰ منظور ہونا اور اقامہ یا خدمات کا نئی کمپنی میں منتقل ہونا دو الگ کارروائیاں ہیں۔
نئی کمپنی میں کام اسی وقت شروع کیا جاسکتا ہے جب ’قوى‘ اور متعلقہ سرکاری نظاموں میں انتقالِ خدمات مکمل ہوجائے۔
استعفے کی قانونی ٹائم لائن ⌄
قانون کے مطابق انتقالِ خدمات کی فیس وہ نیا صاحبِ کار ادا کرتا ہے جو کارکن کی خدمات اپنے ادارے میں منتقل کرانا چاہتا ہے۔
اگر موجودہ سالانہ معاہدہ جلد ختم ہونے والا ہے تو استعفیٰ دینے کے بجائے ’تجدید نہ کرانے‘ کا راستہ مالی طور پر زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
اس کے لئے ’قوى‘ پر موجود معاہدے میں تجدید، اطلاع کی مدت اور اختتامی تاریخ ضرور دیکھی جائے۔
سات سال کی ملازمت پر اینڈ آف سروس کتنی بنے گی؟
دفعہ 84 کے مطابق مکمل اینڈ آف سروس کا حساب اس طرح لگایا جاتا ہے:
- پہلے 5 سال: ہر سال کے بدلے نصف ماہ کا آخری اجرت۔
- 5 سال کے بعد: ہر اضافی سال کے بدلے ایک ماہ کا آخری اجرت۔
سات مکمل سال کی ملازمت پر ابتدائی حساب:
- پہلے 5 سال: 5 × نصف ماہ = 2.5 ماہ
- اگلے دو سال: 2 × ایک ماہ = 2 ماہ
- مکمل اینڈ آف سروس: 4.5 ماہ کی آخری اجرت
لیکن چونکہ منظور احمد خود استعفیٰ دے رہے ہیں اور ان کی سروس 7 سال سے زیادہ مگر 10 سال سے کم ہے، اس لئے دفعہ 85 کے مطابق انہیں مکمل اینڈ آف سروس کا دو تہائی حصہ ملے گا۔
4.5 ماہ × دو تہائی = 3 ماہ کی آخری حقیقی اجرت
مثال کے طور پر اگر ان کی آخری حقیقی ماہانہ اجرت 7,000 ریال ہے تو:
7,000 × 3 = 21,000 ریال
سات سال بعد استعفے پر متوقع مکافأت
| آخری حقیقی ماہانہ اجرت | متوقع مکافأت |
|---|---|
| 5,000 ریال | 15,000 ریال |
| 7,000 ریال | 21,000 ریال |
| 8,000 ریال | 24,000 ریال |
| 10,000 ریال | 30,000 ریال |
یہ حساب 7 مکمل سال، مسلسل سروس اور کسی قابلِ کٹوتی مدت کے نہ ہونے کی بنیاد پر ہے۔ 7 سال سے زائد مہینوں اور دنوں کا حصہ بھی متناسب طور پر شامل کیا جائے گا۔
حساب بنیادی تنخواہ پر ہوگا یا مکمل تنخواہ پر؟
نظام میں ’اجرت‘ سے مراد حقیقی اجرت ہے، یعنی بنیادی تنخواہ کے ساتھ وہ مستقل اور واجب الادا اضافے اور الاؤنسز بھی شامل ہوسکتے ہیں جو معاہدے یا ادارے کی منظور شدہ پالیسی کے تحت ملازم کو ملتے ہیں۔
اس لئے اینڈ آف سروس ہمیشہ صرف بنیادی تنخواہ پر محدود نہیں ہوتی۔
البتہ کمیشن، سیلز پرسنٹیج یا ایسی متغیر ادائیگیاں جو بڑھتی گھٹتی رہتی ہوں، تحریری معاہدے کے تحت حساب سے مکمل یا جزوی طور پر خارج کی جاسکتی ہیں۔اجرت اور حقیقی اجرت کی سرکاری تعریف
اگر استعفے کے بجائے معاہدہ مکمل ہوجائے تو کیا فرق پڑے گا؟
یہ بہت اہم مالی فرق ہے۔
اگر 7 سال بعد ملازم استعفیٰ دیتا ہے تو اسے دو تہائی اینڈ آف سروس، یعنی 3 ماہ کی اجرت ملے گی۔
لیکن اگر موجودہ معاہدہ اپنی مقررہ مدت پوری کرکے ختم ہوتا ہے اور کارکن بروقت اطلاع دے کر اس کی تجدید نہیں کراتا تو اختتام کی وجہ ’استعفیٰ‘ کے بجائے ’معاہدے کی مدت مکمل ہونا‘ ہوگی۔
ایسی صورت میں اصولی طور پر مکمل اینڈ آف سروس یعنی 4.5 ماہ کی آخری حقیقی اجرت واجب ہوسکتی ہے۔
سات سال بعد اینڈ آف سروس ⌄
مثلاً 7,000 ریال ماہانہ اجرت پر:
- استعفے کی صورت میں: تقریباً 21,000 ریال
- معاہدہ مکمل ہونے کی صورت میں: تقریباً 31,500 ریال
یعنی دونوں راستوں میں تقریباً 10,500 ریال کا فرق پڑسکتا ہے۔
اسی لئے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے موجودہ معاہدے کی اختتامی تاریخ اور خودکار تجدید کی شرط دیکھنا ضروری ہے۔
اینڈ آف سروس کے علاوہ کون سے حقوق ملیں گے؟
قانونی طور پر استعفیٰ مکمل ہونے کے بعد کارکن درج ذیل حقوق بھی طلب کرسکتا ہے:
- آخری کام کے دن تک واجب الادا تنخواہ۔
- استعمال نہ کی گئی سالانہ چھٹیوں کا نقد معاوضہ۔
- واجب الادا اوور ٹائم یا دیگر ثابت شدہ رقوم۔
- سروس سرٹیفکیٹ، جس میں ملازمت کی مدت، عہدہ اور آخری اجرت درج ہو۔
- کمپنی کے پاس موجود اصل اسناد اور دستاویزات کی واپسی۔
- انتقالِ خدمات کی صورت میں نئی کمپنی کی جانب سے منتقلی کی فیس۔
چونکہ تعلقِ ملازمت کارکن کی جانب سے ختم ہوگا، دفعہ 88 کے مطابق کمپنی کو معاہدہ ختم ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں کے اندر اس کے تمام مالی حقوق کا حتمی حساب کرنا ہوگا۔
استعفیٰ اور عدم تجدید کا مالی فرق ⌄
| صورت | سات سال بعد مکافأت | 7,000 ریال اجرت پر مثال |
|---|---|---|
| کارکن کا استعفیٰ | مکمل مکافأت کا دو تہائی، تقریباً 3 ماہ | تقریباً 21,000 ریال |
| معاہدے کی مدت مکمل ہونا | مکمل مکافأت، تقریباً 4.5 ماہ | تقریباً 31,500 ریال |
منظور احمد کو اب کیا کرنا چاہئے؟
- ’قوى‘ سے اپنے موجودہ معاہدے کی نقل نکالیں اور اختتامی تاریخ، تجدید، نوٹس اور معاوضے کی شقیں دیکھیں۔
- اگر استعفیٰ صرف کاغذ یا ای میل پر دیا ہے تو اس کے وصول ہونے کی تاریخ کا ثبوت محفوظ رکھیں۔
- کمپنی سے تحریری طور پر پوچھیں کہ درخواست قبول، مسترد یا مؤخر کی گئی ہے۔
- مؤخر کرنے کی صورت میں تحریری وجہ اور آخری تاریخ طلب کریں۔
- قانونی طور پر معاہدہ ختم ہونے اور انتقالِ خدمات مکمل ہونے سے پہلے کام چھوڑیں نہ نئی کمپنی میں کام شروع کریں۔
- اگر کمپنی درخواست کو بلاجواز لٹکائے یا ’قوى‘ کی حیثیت قانون کے مطابق تبدیل نہ ہو تو وزارتِ انسانی وسائل کے نمبر 19911 سے رابطہ یا تسویۂ ودی برائے محنت کش تنازعات میں درخواست دی جاسکتی ہے۔
منظور احمد کے لیے عملی رہنمائی ⌄
- «قوى» سے موجودہ معاہدے کی نقل اور اختتامی تاریخ دیکھیں۔
- خودکار تجدید، نوٹس اور قبل از وقت خاتمے کی شقیں پڑھیں۔
- استعفیٰ موصول ہونے کی تاریخ کا تحریری ثبوت محفوظ کریں۔
- کمپنی سے قبول، مسترد یا مؤخر کرنے کا تحریری جواب طلب کریں۔
- مؤخر کرنے کی صورت میں وجہ اور آخری تاریخ معلوم کریں۔
- نئی کمپنی سے آفر کی مدت 30 سے 90 دن رکھنے کی درخواست کریں۔
- انتقالِ خدمات مکمل ہونے سے پہلے نئی کمپنی میں کام شروع نہ کریں۔
- تنازع کی صورت میں 19911 یا تسویۂ ودی سے رجوع کریں۔
حتمی نتیجہ:
متبادل ملازم کی ضرورت استعفیٰ کچھ مدت کے لئے مؤخر کرنے کی وجہ بن سکتی ہے، لیکن غیر معینہ مدت تک زیرِ التوا رکھنے کا جواز نہیں۔
منظور احمد کو 7 سال کی سروس پر استعفے کی صورت میں عمومی طور پر 3 ماہ کی آخری حقیقی اجرت کے برابر اینڈ آف سروس ملے گی۔
تاہم اگر موجودہ معاہدہ جلد مکمل ہورہا ہے تو استعفے کے بجائے تجدید نہ کرانا ان کے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔