کمپنی نقلِ خدمات کے بدلے تمام واجبات سے دستبرداری کا اقرار مانگے تو کارکن کیا کرے؟
ریاض سے ایک پاکستانی کارکن نے پوچھا ہے کہ کمپنی اسے نقلِ خدمات یا اینڈ آف سروس میں سے ایک اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے۔
سعودی لیبر قانون کے تحت دونوں معاملات الگ ہیں۔
کارکن نئی کمپنی میں قانونی ٹرانسفر لے کر سابق کمپنی سے اپنی اینڈ آف سروس، بقایا تنخواہ، چھٹیوں اور دوسرے واجبات کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے۔
تاہم رقم وصول کئے بغیر ’میرے کوئی بقایا جات نہیں‘ کے اقرار پر دستخط کرنا بڑا قانونی خطرہ بن سکتا ہے۔
ریاض سے اوورسیز پوسٹ کے قاری وقاص احمد نے ایک اہم قانونی معاملے میں مشورہ طلب کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ 10 سال سے ایک کمپنی میں ملازمت کررہے ہیں، جس نے انہیں پاکستان سے ویزے پر بلایا تھا۔
اب کمپنی ان کا معاہدہ ختم کرنا چاہتی ہے، جبکہ اسی دوران انہیں دوسری کمپنی میں زیادہ تنخواہ پر ملازمت مل گئی ہے۔
مشکل یہ ہے کہ موجودہ کمپنی نے ان کے سامنے دو راستے رکھے ہیں:
یا نئی کمپنی میں تنازل لے لیں یا اینڈ آف سروس وصول کریں۔
تنازل کی صورت میں انہیں پہلے یہ اقرار کرنا ہوگا کہ کمپنی کے ذمے ان کا کوئی بقایا نہیں۔
وہ نئی ملازمت کا موقع بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے اور اپنے 10 سال کے حقوق سے بھی دستبردار نہیں ہونا چاہتے۔
یہ معاملہ انفرادی ضرور ہے، لیکن سعودی عرب میں کام کرنے والے بہت سے غیر ملکی کارکن اسی مشکل سے دوچار ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا کارکن کو واقعی نئی ملازمت اور اینڈ آف سروس میں سے صرف ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے؟
◷ ایک منٹ میں مسئلہ ⌄
قانونی جواب
اصولی طور پر کارکن نئی کمپنی میں قانونی طور پر نقلِ خدمات بھی لے سکتا ہے اور سابق کمپنی سے اپنی مدتِ ملازمت کے تمام واجبات بھی وصول کرسکتا ہے۔
نقلِ خدمات اور اینڈ آف سروس دو الگ قانونی معاملات ہیں۔
محض دوسری کمپنی میں ٹرانسفر ہونے سے سابقہ ملازمت کے دوران حاصل کیے گئے مالی حقوق خودبخود ختم نہیں ہوتے۔
البتہ کارکن کو ایسا اقرار نامہ ہرگز نہیں دینا چاہئے جس میں تمام واجبات کی وصولی لکھی ہو، جبکہ رقم حقیقت میں ادا نہ کی گئی ہو۔
اس معاملے میں فیصلہ کن بات یہ نہیں کہ کارکن نے تنازل لیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ:
- موجودہ معاہدہ کس نے ختم کیا؟
- قویٰ میں اختتام کی کون سی وجہ درج ہوئی؟
- کارکن کی سروس کتنی ہے؟
- کیا مکمل واجبات ادا ہوئے؟
- کارکن نے کس عبارت والے اقرار نامے پر دستخط کئے؟
تنازل کا اصل قانونی مطلب
عام گفتگو میں اسے ’تنازل‘ کہا جاتا ہے، لیکن موجودہ سرکاری نظام میں یہ کارروائی قویٰ کے ذریعے ’نقلِ خدمات‘ کہلاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کارکن کی ملازمت اور قانونی ریکارڈ ایک کمپنی سے دوسری کمپنی میں منتقل ہوگا۔
یہ کسی کارکن کی تنخواہوں، چھٹیوں یا اینڈ آف سروس سے دستبرداری کا نام نہیں۔
⚖ قانون کا واضح جواب ⌄
پرانے آجر کے ساتھ ملازمت ختم ہونے پر اس تاریخ تک بننے والے واجبات کا حساب ہونا چاہئے۔ نئی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ایک نیا اور الگ روزگار کا تعلق ہوگا، جب تک تینوں فریق سابقہ سروس جاری رکھنے کا کوئی واضح تحریری معاہدہ نہ کریں۔
کمپنی نے ویزا دیا تھا، کیا اس سے حقوق متاثر ہوں گے؟
کمپنی کا یہ کہنا کہ وہ کارکن کو بیرون ملک سے ویزے پر لائی تھی، اینڈ آف سروس روکنے کی قانونی بنیاد نہیں۔
سعودی لیبر قانون کے تحت غیر سعودی کارکن کی بھرتی، اقامہ، ورک پرمٹ، ان کی تجدید اور متعلقہ مقررہ اخراجات آجر کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
نقلِ خدمات کی سرکاری فیس اصولی طور پر وہ نیا آجر ادا کرتا ہے جو کارکن کو اپنے پاس منتقل کرنا چاہتا ہے۔
اس لیے سابق کمپنی یہ شرط عائد نہیں کرسکتی کہ چونکہ اس نے کارکن کو ویزا دیا تھا، اس لئے ٹرانسفر لیتے وقت اسے اپنی اینڈ آف سروس چھوڑنا ہوگی۔
اینڈ آف سروس کیسے بنتی ہے؟
سعودی لیبر قانون کی دفعہ 84 کے مطابق ملازمت کا تعلق ختم ہونے پر اینڈ آف سروس کا عمومی حساب یوں ہوتا ہے:
- پہلے 5 سال کے لیے ہر سال نصف ماہ کی اجرت
- 5 سال کے بعد ہر سال ایک ماہ کی اجرت
- سال کے کسی حصے کے لئے اسی تناسب سے رقم
- حساب کی بنیاد آخری قابلِ شمار اجرت
اگر کسی کارکن نے پورے 10 سال مکمل کیے ہوں تو اس کی بنیادی اینڈ آف سروس آخری قابلِ حساب اجرت کے ساڑھے 7 ماہ کے برابر بنے گی۔
10 10 سال کی اینڈ آف سروس ⌄
حساب آخری قابلِ شمار اجرت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
مثلاً آخری قابلِ حساب ماہانہ اجرت 6,000 ریال ہو تو:
- پہلے 5 سال: 15,000 ریال
- اگلے 5 سال: 30,000 ریال
- مجموعی اینڈ آف سروس: 45,000 ریال
یہ صرف اینڈ آف سروس کا حساب ہے۔
بقایا تنخواہ، غیر استعمال شدہ چھٹیاں، نوٹس پیریڈ اور ممکنہ برطرفی کا معاوضہ اس کے علاوہ ہوسکتا ہے۔
استعفیٰ دینے پر اینڈ آف سروس کتنی ہوگی؟
سعودی لیبر قانون کی دفعہ 85 کے مطابق استعفے کی صورت میں اینڈ آف سروس کا استحقاق مدتِ ملازمت کے مطابق بدلتا ہے:
% استعفے پر کتنا حق؟ ⌄
اس کا مطلب ہے کہ اگر کسی کارکن نے واقعی مسلسل 10 سال مکمل کیے ہیں تو استعفے کی صورت میں بھی اصولی طور پر مکمل اینڈ آف سروس بنے گی۔
اس کے باوجود اگر حقیقت میں کمپنی معاہدہ ختم کررہی ہے تو کارکن کو خود استعفیٰ نہیں دینا چاہئے۔
استعفیٰ دینے سے اینڈ آف سروس شاید پوری مل جائے، لیکن نوٹس پیریڈ یا بلاجواز برطرفی کے ممکنہ معاوضے پر اثر پڑسکتا ہے۔
چند دن کا فرق بھی اہم ہوسکتا ہے
کارکن کو ملازمت شروع اور ختم ہونے کی درست تاریخ ضرور دیکھنی چاہئے۔
اگر سروس پورے 10 سال ہے تو استعفے پر مکمل اینڈ آف سروس بن سکتی ہے، لیکن اگر سروس 9 سال اور 11 ماہ ہو تو استعفے پر رقم دو تہائی تک محدود ہوسکتی ہے۔
مثلاً:
- پورے 10 سال: استعفے پر بھی مکمل اینڈ آف سروس
- 9 سال اور 11 ماہ: استعفے پر عموماً دو تہائی
- کمپنی کی طرف سے اختتام: عام حالات میں مکمل اینڈ آف سروس
اسی لیے قویٰ کے معاہدے، جوائننگ لیٹر، اقامے کے پرانے ریکارڈ، تنخواہ کی منتقلی اور سروس سرٹیفکیٹ سے صحیح مدت کی تصدیق ضروری ہے۔
⇄ تنازل اور واجبات ⌄
نقلِ خدمات صرف کارکن کی ملازمت نئی کمپنی میں منتقل کرتی ہے۔ یہ سابقہ تنخواہ، چھٹیوں، اینڈ آف سروس یا دوسرے واجبات سے دستبرداری نہیں۔
کمپنی معاہدہ ختم کررہی ہو تو استعفیٰ کیوں نہ دیں؟
بعض کمپنیاں کارکن کو کہتی ہیں کہ ٹرانسفر کے لیے پہلے استعفیٰ جمع کرائے۔
لیکن اگر کمپنی پہلے ہی اسے فارغ کرنے کا فیصلہ کرچکی ہو تو استعفیٰ حقیقت کے خلاف ہوگا۔
قویٰ میں درج وجہ بعد کے مالی دعوے پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اس لیے:
- کمپنی کا فیصلہ ہو تو اختتام کمپنی کی طرف سے درج ہو
- معاہدہ پورا ہورہا ہو تو مدت پوری ہونے کی وجہ درج ہو
- کارکن اپنی مرضی سے جارہا ہو تو استعفیٰ درج ہو
- باہمی اختتام صرف اسی وقت قبول کیا جائے جب تمام شرائط اور رقم واضح ہوں
کارکن کو صرف ٹرانسفر جلد مکمل کرنے کے لئے ایسی وجہ قبول نہیں کرنی چاہئے جو اصل حالات کے مطابق نہ ہو۔
اقرار نامہ سب سے بڑا خطرہ
اس طرح کے معاملات میں سب سے زیادہ خطرناک دستاویز وہ اقرار نامہ ہوتا ہے جس میں لکھا ہو:
میں اقرار کرتا ہوں کہ مجھے تنخواہ، اینڈ آف سروس، چھٹیوں کے واجبات اور تمام مالی حقوق مکمل ادا کردیے گئے ہیں اور کمپنی کے ذمے میرا کوئی مطالبہ باقی نہیں۔
اگر رقم حقیقت میں ادا نہیں ہوئی تو کارکن کو اس عبارت پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں۔
سعودی لیبر قانون کی دفعہ 8 کے مطابق ملازمت جاری ہونے کے دوران کارکن کے قانونی حقوق سے دستبرداری، ابراء یا ایسی مصالحت باطل ہوسکتی ہے جو کارکن کے لیے زیادہ فائدہ مند نہ ہو۔
! خطرناک اقرار نامہ ⌄
مجھے تمام واجبات ادا کردیے گئے ہیں اور کمپنی کے ذمے میری کوئی رقم باقی نہیں۔رقم وصول کیے بغیر ایسی عبارت پر دستخط نہ کریں۔ یہ اقرار بعد میں قانونی دعوے میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ کارکن بلاخوف غلط اقرار پر دستخط کردے۔
بعد میں کمپنی یہی دستاویز ثبوت کے طور پر پیش کرسکتی ہے اور کارکن کو ثابت کرنا پڑسکتا ہے کہ رقم وصول نہیں ہوئی یا دستخط دباؤ کے تحت لیے گئے تھے۔
سب سے محفوظ اصول یہ ہے:
محفوظ اقرار کی ممکنہ عبارت
اگر کمپنی نقلِ خدمات کی رضامندی کے لئے تحریر مانگتی ہے تو کارکن یہ عبارت شامل کرنے کا مطالبہ کرسکتا ہے:
میں نئی کمپنی میں قانونی نقلِ خدمات پر رضامند ہوں، تاہم یہ رضامندی موجودہ آجر کے خلاف میری اینڈ آف سروس، بقایا اجرت، سالانہ چھٹیوں کے معاوضے، نوٹس پیریڈ اور دیگر قانونی حقوق سے دستبرداری تصور نہیں ہوگی۔
اگر کچھ رقم ادا ہوچکی ہو تو یہ بھی صاف لکھا جائے:
میں نے صرف مبلغ ______ ریال، بابت ______ وصول کیا ہے۔ یہ وصولی میرے باقی قانونی حقوق سے دستبرداری نہیں۔
کمپنی اگر یہ عبارت شامل کرنے سے انکار کرے اور مکمل وصولی کا جھوٹا اقرار مانگے تو کارکن کو دستخط سے گریز کرنا چاہیے۔
▦ کمپنی معاہدہ ختم کرے تو ⌄
اگر ملازمت ختم کرنے کا فیصلہ کمپنی نے کیا ہے تو کارکن کو اپنا استعفیٰ نہیں دینا چاہیے۔
کمپنی کو کن واجبات کا حساب دینا ہوگا؟
فائنل سیٹلمنٹ میں صرف اینڈ آف سروس نہیں بلکہ حالات کے مطابق درج ذیل مدات بھی شامل ہوسکتی ہیں:
آخری کام کے دن تک تنخواہ
سابقہ بقایا اجرت
مکمل اینڈ آف سروس
استعمال نہ کی گئی سالانہ چھٹیوں کا معاوضہ
واجب الادا اوور ٹائم
معاہدے میں شامل دوسرے الاؤنس یا مراعات
نوٹس پیریڈ کا معاوضہ
بلاجواز یا قبل از وقت اختتام کا معاوضہ
سروس سرٹیفکیٹ
کارکن کی اصل دستاویزات کی واپسی
کمپنی سے ہر مد کا الگ حساب مانگنا چاہئے۔
صرف ایک مجموعی رقم دیکھ کر کلیئرنس پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں۔
✓ دستخط سے پہلے پانچ سوال ⌄
- قویٰ میں اختتام کی وجہ کیا درج ہے؟
- میری سروس کی درست مدت کتنی ہے؟
- اینڈ آف سروس کا حساب کیسے لگایا گیا؟
- چھٹیوں اور بقایا تنخواہ کی رقم کہاں ہے؟
- کیا مکمل رقم بینک اکاؤنٹ میں آچکی ہے؟
معاہدہ مدت سے پہلے ختم ہو تو کیا ہوگا؟
غیر سعودی کارکن کا معاہدہ اصولی طور پر مقررہ مدت کا ہوتا ہے۔
اگر کمپنی اسے معاہدے کی آخری تاریخ سے پہلے کسی جائز قانونی وجہ کے بغیر ختم کرتی ہے تو دفعہ 77 کے تحت اضافی معاوضہ بن سکتا ہے۔
اس صورت میں یہ دیکھا جائے گا:
- معاہدہ کب ختم ہونا تھا؟
- کتنی مدت باقی تھی؟
- معاہدے میں قبل از وقت اختتام کا معاوضہ درج ہے یا نہیں؟
- کمپنی نے اختتام کی کون سی وجہ دی؟
- کیا معاملہ مستقل بندش، سرگرمی کے خاتمے یا کسی دوسری قانونی وجہ کا ہے؟
مقررہ مدت کے معاہدے میں بلاجواز اختتام کا معاوضہ، معاہدے کی شرائط کے مطابق، باقی مدت کی اجرت کے برابر ہوسکتا ہے۔ یہ رقم اینڈ آف سروس سے الگ ہوسکتی ہے۔
کمپنی کو ادائیگی کب کرنی ہوگی؟
کے مطابق اگر کمپنی ملازمت ختم کرے تو اسے زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں کارکن کی اجرت اور دوسرے واجبات کی تصفیہ کرنا ہوگا۔
اگر کارکن نے خود ملازمت ختم کی ہو تو ادائیگی کی زیادہ سے زیادہ مدت دو ہفتے ہے۔
نقلِ خدمات مکمل ہوجانے سے سابق کمپنی کی مالی ذمہ داری خودبخود ختم نہیں ہوتی۔
▣ ضروری ثبوت محفوظ کریں ⌄
قانونی دعویٰ صرف مؤقف سے نہیں، محفوظ ثبوت سے مضبوط ہوتا ہے۔
ایسی صورت میں کارکن کیا کرے؟
کارکن کو درج ذیل ترتیب سے کارروائی کرنی چاہئے:
- قویٰ سے موجودہ معاہدہ اور تمام تفصیلات محفوظ کرے۔
- کمپنی سے اختتام کی وجہ تحریری طور پر مانگے۔
- نئی کمپنی کا باقاعدہ قویٰ آفر حاصل کرے۔
- خود استعفیٰ نہ دے، اگر فیصلہ کمپنی کا ہے۔
- ملازمت کی درست ابتدا اور اختتام کی تاریخ چیک کرے۔
- تمام مالی واجبات کا الگ الگ حساب مانگے۔
- رقم ملنے سے پہلے فائنل کلیئرنس پر دستخط نہ کرے۔
- واٹس ایپ پیغامات، ای میل اور اقرار نامے کی نقل محفوظ کرے۔
- سرکاری ٹرانسفر مکمل ہونے سے پہلے نئی کمپنی میں کام شروع نہ کرے۔
- سابق کمپنی سے سروس سرٹیفکیٹ طلب کرے۔
کمپنی کو بھیجا جانے والا تحریری جواب
متاثرہ کارکن کمپنی کو یہ تحریری جواب بھیج سکتا ہے:
کمپنی کی طرف سے میرے موجودہ معاہدے کے اختتام کے فیصلے کے بعد میں نئی کمپنی میں قانونی نقلِ خدمات پر رضامند ہوں۔
تاہم میری یہ رضامندی موجودہ کمپنی میں ملازمت کے دوران بننے والی اینڈ آف سروس، بقایا اجرت، سالانہ چھٹیوں کے معاوضے، نوٹس پیریڈ یا کسی دوسرے قانونی حق سے دستبرداری نہیں ہے۔
☎ کمپنی انکار کرے تو ⌄
میں ایسی دستاویز پر دستخط نہیں کرسکتا جس میں تمام واجبات کی وصولی درج ہو، جب تک مکمل رقم حقیقتاً ادا نہ کردی جائے۔
براہِ کرم اختتامِ ملازمت کی اصل وجہ، آخری تاریخ اور مکمل مالی تصفیے کی تفصیل تحریری طور پر فراہم کی جائے۔
کمپنی انکار کرے تو شکایت کہاں ہوگی؟
اگر کمپنی اینڈ آف سروس روک دے، جھوٹے اقرار پر اصرار کرے یا واجبات ادا نہ کرے تو کارکن وزارتِ انسانی وسائل کی التسویۃ الودیۃ للخلافات العمالیۃ سروس کے ذریعے دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔
دعویٰ کے ساتھ یہ دستاویزات لگائی جاسکتی ہیں:
- قویٰ کا معاہدہ
- اقامہ
- بینک اسٹیٹمنٹ
- تنخواہ سلپس
- اختتامِ ملازمت کا خط
- کمپنی کے پیغامات
- متنازع اقرار نامہ
- نئی کمپنی کی ٹرانسفر درخواست
- واجبات کا اپنا حساب
وزارتِ انسانی وسائل کے رابطہ مرکز 19911 سے بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ملازمت ختم ہونے کے بعد مالی حقوق کا دعویٰ عمومی طور پر 12 ماہ کے اندر دائر کرنا ضروری ہے۔ اس لیے معاملہ غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔
آخری نتیجہ
ایسی صورت میں کارکن کے سامنے صرف دو راستے—تنازل یا اینڈ آف سروس—نہیں ہوتے۔
قانون کی روشنی میں ایک تیسرا اور زیادہ درست راستہ بھی موجود ہے:
نئی کمپنی میں قانونی نقلِ خدمات اور سابق کمپنی سے اختتامی تاریخ تک بننے والے تمام مالی حقوق کی وصولی۔
کارکن کو نئی ملازمت کے لیے اپنا مستقبل قربان نہیں کرنا چاہئے، لیکن مستقبل محفوظ کرنے کے نام پر گزشتہ کئی برس کی محنت بھی نہیں چھوڑنی چاہئے۔
سب سے اہم احتیاط یہ ہے کہ کمپنی کی طرف سے اختتام کو اپنا استعفیٰ نہ بنایا جائے اور حقیقی ادائیگی سے پہلے ’میرے کوئی بقایا جات نہیں‘ کے اقرار پر دستخط نہ کیے جائیں۔
⚖️
اصل سعودی سرکاری ذرائع
ملازمت کے اختتام، اینڈ آف سروس، نقلِ خدمات اور قانونی واجبات
10 بنیادی ذرائع
اصل سعودی سرکاری ذرائع
ملازمت کے اختتام، اینڈ آف سروس، نقلِ خدمات اور قانونی واجبات