براہ راست نشریات

کفیل گرفتار، اقامہ بھی نہیں بنا: اب نقلِ کفالت کیسے ہو؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
اقامہ کے بغیر نقلِ کفالت

اوورسیز پوسٹ کے قاری محمد انعام الحق نے ایک اہم مسئلے میں رہنمائی طلب کی ہے۔ 

وہ حال ہی میں سعودی عرب آئے ہیں، ابھی ان کا اقامہ جاری نہیں ہوا اور جس کفیل کے ویزے پر وہ مملکت پہنچے تھے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 

کفیل سے کسی ذریعے سے رابطہ بھی نہیں ہو پا رہا۔ 

ان کا سوال ہے کہ کیا وہ کسی دوسرے آجر کے پاس منتقل ہو سکتے ہیں یا انہیں کوئی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا؟

یہ مسئلہ صرف ایک کارکن تک محدود نہیں۔ 

بعض اوقات کوئی شخص نئے ورک ویزے پر سعودی عرب پہنچتا ہے، لیکن کمپنی کی بندش، کفیل کی گرفتاری، وفات یا انتظامی مشکلات کے باعث اس کا ورک پرمٹ اور اقامہ جاری نہیں ہو پاتا۔ 

ایسے حالات میں کارکن پریشان ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے قانونی راستے موجود ہیں۔ 

اہم ترین نکات
  • اقامہ کارڈ نہ ملنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اقامہ نمبر بھی جاری نہیں ہوا۔
  • سب سے پہلے ورک پرمٹ اور اقامہ کی سرکاری حیثیت معلوم کریں۔
  • نجی ادارے کو ابتدائی 90 دن کے اندر ورک پرمٹ جاری کرنا ہوتا ہے۔
  • 90 دن گزرنے پر بعض شرائط کے ساتھ بارڈر نمبر سے منتقلی ممکن ہوسکتی ہے۔
  • نقلِ خدمات کی درخواست نئی کمپنی شروع کرے گی۔
  • کفیل کی گرفتاری سے نقلِ خدمات خودکار طور پر منظور نہیں ہوتی۔

اقامہ واقعی جاری نہیں ہوا

اقامہ کارڈ ہاتھ میں نہ ہونے کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ اقامہ نمبر بھی جاری نہیں ہوا۔ بعض اوقات کارکن کا اقامہ سسٹم میں بن جاتا ہے، لیکن اسے کارڈ یا اس کی تفصیلات نہیں ملتیں۔

اس لیے سب سے پہلے جوازات، قویٰ یا وزارتِ افرادی قوت سے پاسپورٹ اور بارڈر نمبر کی بنیاد پر معلوم کیا جائے کہ:

  • ورک پرمٹ جاری ہوا ہے یا نہیں؟
  • اقامہ نمبر بنا ہے یا نہیں؟
  • کارکن اب بھی اسی کفیل یا کمپنی کے ریکارڈ میں موجود ہے؟
  • کوئی ہروب یا تغیب کی رپورٹ تو درج نہیں کی گئی؟

یہ معلومات اس لیے ضروری ہیں کہ اقامہ جاری ہونے اور اقامہ بالکل جاری نہ ہونے کی صورت میں نقلِ خدمات کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔

90 دن کی مدت کیوں اہم ہے؟

سعودی ضوابط کے مطابق نجی شعبے کے آجر کو غیر ملکی کارکن کے مملکت میں داخل ہونے کے ابتدائی 90 دن کے اندر ورک پرمٹ جاری کرنا ہوتا ہے۔ 

اسی ورک پرمٹ کی بنیاد پر اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔

فیکٹ باکس
اہم مدتمملکت میں داخلے کے ابتدائی 90 دن
بنیادی دستاویزبارڈر نمبر
کمپنی ملازمقویٰ اور وزارتِ افرادی قوت
گھریلو کارکنمساند
اہم شرطپہلے کبھی اقامہ جاری نہ ہوا ہو
حتمی فیصلہمتعلقہ سرکاری ادارے کریں گے

اگر کارکن کو سعودی عرب آئے ہوئے 90 دن سے زیادہ ہو چکے ہوں اور اس دوران نہ ورک پرمٹ بنا ہو اور نہ کبھی اقامہ جاری ہوا ہو تو دوسری کمپنی بارڈر نمبر کے ذریعے اس کی خدمات منتقل کرنے کی کارروائی شروع کر سکتی ہے۔

اس سروس کو عربی میں نقل خدمات وافد برقم الحدود کہا جاتا ہے۔ 

یہ کارروائی کارکن خود نہیں کرتا بلکہ اسے ملازمت دینے والی نئی کمپنی اپنے سرکاری اکاؤنٹ سے شروع کرتی ہے۔

نئی کمپنی کارکن کا بارڈر نمبر اور متعلقہ معلومات درج کرکے محدود مدت کا استثنائی ورک پرمٹ حاصل کرتی ہے۔ 

اس کے بعد جوازات سے عارضی اقامہ نمبر لیا جاتا ہے اور پھر اسی نمبر کے ذریعے نقلِ خدمات کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔

وزارتِ افرادی قوت کے مطابق یہ مخصوص سہولت ایسے کارکن کے لیے ہے جسے سعودی عرب آئے ہوئے 90 دن گزر چکے ہوں، لیکن اس کا ورک پرمٹ جاری نہ کیا گیا ہو۔ 

یہ سہولت 90 دن مکمل ہونے سے پہلے یا پہلے کبھی اقامہ جاری ہو چکنے کی صورت میں استعمال نہیں کی جا سکتی۔

تاہم 90 دن مکمل ہوتے ہی نقلِ خدمات خودکار طور پر نہیں ہو جاتی۔ 

نئی کمپنی کا وزارت کی شرائط پر پورا اترنا، کارکن کی سرکاری حیثیت درست ہونا اور متعلقہ اداروں کی منظوری ضروری ہوگی۔

⚖️ کیا آپ کو کوئی قانونی مسئلہ درپیش ہے؟ قانونی مشیر سے رائے لیں رابطہ کریں

اگر ابھی 90 دن مکمل نہیں ہوئے تو کیا کریں؟

اگر سعودی عرب آئے ہوئے ابھی 90 دن نہیں ہوئے تو خاموشی سے مدت پوری ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ 

فوراً وزارتِ افرادی قوت میں شکایت یا درخواست درج کرائی جائے تاکہ سرکاری ریکارڈ میں یہ بات آجائے کہ کفیل گرفتار ہے، اس سے رابطہ ممکن نہیں اور کارکن کا اقامہ جاری نہیں کیا جا رہا۔

اگر ویزا کسی کمپنی یا مؤسسے کا ہے تو یہ بھی معلوم کرنا چاہئے کہ کیا وہاں کوئی منیجر، قانونی نمائندہ یا بااختیار شخص موجود ہے۔ 

ضروری نہیں کہ مالک یا کفیل کی گرفتاری سے کمپنی کی تمام کارروائیاں رک جائیں۔ بعض صورتوں میں کمپنی کا مجاز نمائندہ ورک پرمٹ اور اقامہ جاری کر سکتا ہے۔

اگر کوئی نمائندہ موجود نہیں یا کمپنی عملی طور پر بند ہو چکی ہے تو وزارت کو صورتِ حال سے آگاہ کرکے نقلِ خدمات یا کسی دوسرے قانونی حل کی درخواست دی جائے۔ 

یہ کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب میں نئے کارکن کی قانونی حیثیت ورک پرمٹ اور اقامہ سے منسلک ہوتی ہے۔ اگر کفیل گرفتار، غائب یا رابطے سے باہر ہوجائے تو کارکن یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کے تمام راستے بند ہوگئے ہیں۔

قانونی حل موجود ہیں، لیکن خاموشی سے انتظار، غیر رسمی ملازمت یا دلالوں پر اعتماد مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے بروقت سرکاری شکایت اور کارکن کی حیثیت کی تصدیق انتہائی ضروری ہے۔

گھریلو کارکن کی صورت میں ضابطہ مختلف ہے

اگر کارکن ڈرائیور خاص، عامل منزلی، مالی، گھریلو ملازم یا اسی نوعیت کے کسی پیشے پر آیا ہے تو اس کا معاملہ قویٰ کے بجائے عموماً مساند اور گھریلو کارکنوں کے ضوابط کے تحت آئے گا۔

سعودی وزارتِ افرادی قوت کے مطابق گھریلو کارکن کو بعض حالات میں موجودہ کفیل کی اجازت کے بغیر دوسرے آجر کے پاس منتقل کیا جا سکتا ہے۔ 

ان حالات میں کفیل کا اقامہ جاری نہ کرنا بھی شامل ہے۔

اسی طرح اگر کفیل سفر، گرفتاری، قید یا کسی دوسری وجہ سے موجود نہ ہو اور اس کے نتیجے میں وہ کارکن کی تنخواہ یا دوسری بنیادی ذمہ داریاں پوری نہ کر سکے تو یہ بھی منتقلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف گرفتاری کی خبر سن کر کارکن خود دوسری جگہ کام شروع کر دے۔ 

پہلے مساند یا وزارت میں درخواست دے کر صورتِ حال ثابت کرنا اور باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

اقامہ، ویزا، ملازمت اور قانونی معاملات کی مستند رہنمائی

عملی طور پر اب کیا کرنا چاہئے؟

متاثرہ کارکن کو پاسپورٹ، ورک ویزا، بارڈر نمبر، داخلے کی مہر، ملازمت کا معاہدہ اور کفیل یا کمپنی سے رابطے کی کوششوں کے ثبوت محفوظ کر لینے چاہئیں۔

اس کے بعد درج ذیل اقدامات کیے جائیں:

  1. سعودی عرب میں داخلے کی تاریخ سے 90 دن شمار کریں۔
  2. جوازات یا متعلقہ پلیٹ فارم سے تصدیق کریں کہ اقامہ یا ورک پرمٹ جاری ہوا ہے یا نہیں۔
  3. وزارتِ افرادی قوت کے نمبر 19911 پر شکایت درج کرائیں اور شکایت نمبر محفوظ رکھیں۔
  4. اگر 90 دن گزر چکے ہیں تو کسی اہل نئی کمپنی سے بارڈر نمبر کے ذریعے نقلِ خدمات کی درخواست دلوائیں۔
  5. کمپنی ملازم قویٰ کے نمبر 920000105 سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
  6. گھریلو کارکن مساند کے نمبر 920002866 پر رابطہ کرے۔
  7. اقامہ، بارڈر نمبر یا امیگریشن ریکارڈ کے لئے جوازات کے نمبر 992 سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
90 دن کا اصول کیا ہے؟
90

نجی شعبے کے آجر کو غیر ملکی کارکن کے سعودی عرب میں داخل ہونے کے ابتدائی 90 دن کے اندر ورک پرمٹ جاری کرنا ہوتا ہے۔

اگر 90 دن گزر جائیں، ورک پرمٹ جاری نہ ہوا ہو اور پہلے کبھی اقامہ بھی نہ بنا ہو تو نئی اہل کمپنی بارڈر نمبر کے ذریعے نقلِ خدمات کی کارروائی شروع کرسکتی ہے۔

90 دن مکمل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ منتقلی خودکار طور پر منظور ہوگئی؛ سرکاری شرائط اور نئی کمپنی کی اہلیت پوری ہونا ضروری ہے۔

غیر قانونی راستے سے بچیں

ایسی مشکل صورتِ حال میں بعض دلال فوری نقلِ کفالت کا وعدہ کرکے رقم طلب کرتے ہیں۔ 

کسی غیر سرکاری شخص کو پاسپورٹ یا بڑی رقم نہ دی جائے اور وزارت کی اجازت سے پہلے کسی دوسری جگہ کام شروع نہ کیا جائے۔

اسی طرح عربی میں لکھے ہوئے کسی اقرارنامے، بقایاجات سے دست برداری یا خالی کاغذ پر سمجھے بغیر دستخط نہ کریں۔ 

تمام کارروائی قویٰ، مساند، وزارتِ افرادی قوت یا جوازات جیسے سرکاری ذرائع سے ہی ہونی چاہئے۔ 

خلاصہ

اگر کسی نئے کارکن کا کفیل گرفتار ہو گیا ہے اور اقامہ جاری نہیں ہوا تو اس کا معاملہ بے حل نہیں۔ 

نجی کمپنی کے کارکن کو 90 دن مکمل ہونے کے بعد، شرائط پوری ہونے کی صورت میں، نئی کمپنی بارڈر نمبر کے ذریعے منتقل کرا سکتی ہے۔

اگر 90 دن مکمل نہیں ہوئے تو فوری سرکاری شکایت درج کرانا ضروری ہے۔ 

گھریلو کارکن کے معاملے میں اقامہ جاری نہ ہونا اور کفیل کا قید یا غیر موجودگی کے باعث ذمہ داریاں پوری نہ کر پانا، اجازت کے بغیر منتقلی کی قانونی بنیاد بن سکتا ہے۔

حتمی فیصلہ کارکن کے پیشے، مملکت میں قیام کی مدت اور سرکاری ریکارڈ دیکھنے کے بعد وزارتِ افرادی قوت کرے گی۔

اصل اور سرکاری ذرائع اقامہ جاری نہ ہونے پر بارڈر نمبر سے نقلِ خدمات 8 SOURCES
favicons?domain=hrsd.gov سعودی وزارتِ افرادی قوت — بارڈر نمبر سے نقلِ خدمات 90 دن سے زیادہ گزرنے کے باوجود ورک پرمٹ جاری نہ ہونے پر نئی کمپنی کی درخواست، استثنائی ورک پرمٹ، عارضی اقامہ نمبر اور نقلِ خدمات کا بنیادی سرکاری طریقہ۔ HRSD سرکاری طریقہ ↗ favicons?domain=hrsd.gov وزارتِ افرادی قوت — ورک پرمٹ کا اجرا اور تجدید غیر ملکی کارکن کی آمد کے ابتدائی 90 دن میں ورک پرمٹ جاری کرنے کی ذمہ داری اور اقامہ کے اجرا سے اس کے قانونی تعلق کی سرکاری وضاحت۔ HRSD سرکاری تفصیلات ↗ favicons?domain=qiwa قویٰ — غیر سعودی کارکن کی دوسری کمپنی میں منتقلی موجودہ آجر کی جانب سے مقررہ مدت میں ورک پرمٹ جاری نہ کرنے کی صورت میں اہلیت اور نئی کمپنی کے ذریعے منتقلی کی درخواست شروع کرنے کی سرکاری رہنمائی۔ QIWA سرکاری رہنمائی ↗ favicons?domain=hrsd.gov گھریلو کارکن کی کفیل کی اجازت کے بغیر منتقلی اقامہ جاری نہ کرنے، کفیل کے سفر، قید یا غائب ہونے اور بنیادی ذمہ داریاں پوری نہ ہونے سمیت گھریلو کارکن کی منتقلی کے سرکاری حالات۔ DOMESTIC سرکاری فیصلہ ↗ favicons?domain=hrsd.gov وزارتِ افرادی قوت — شکایت اور رابطہ ورک پرمٹ، اقامہ یا نقلِ خدمات میں رکاوٹ کی صورت میں استفسار، شکایت اور خلاف ورزی کی اطلاع کے لیے سرکاری رابطہ سروس؛ ہیلپ لائن 19911۔ 19911 رابطہ کریں ↗ favicons?domain=qiwa قویٰ — ہیلپ لائن اور معاونت نجی شعبے کے ملازمین، ورک پرمٹ، معاہدے اور نقلِ خدمات سے متعلق معلومات اور تکنیکی معاونت کے لیے قویٰ کا رابطہ مرکز؛ نمبر 920000105۔ 920000105 معاونت حاصل کریں ↗ favicons?domain=musaned.com مساند — گھریلو کارکنوں کا رابطہ مرکز گھریلو ملازمین، ڈرائیور خاص اور اسی زمرے کے کارکنوں کے معاہدوں، شکایات اور نقلِ خدمات کی رہنمائی کے لیے رابطہ نمبر 920002866۔ 920002866 رابطہ مرکز ↗ favicons?domain=gdp.gov سعودی جوازات — اقامہ اور امیگریشن معلومات اقامہ، بارڈر نمبر، عارضی اقامہ نمبر اور امیگریشن ریکارڈ سے متعلق معلومات کی تصدیق کے لیے جوازات کا سرکاری رابطہ صفحہ؛ ہیلپ لائن 992۔ 992 سرکاری رابطہ ↗

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے