مصنوعی ذہانت کی جاری عالمی دوڑ میں گوگل کے پاس پیسے، طاقتور کمپیوٹرز اور برسوں کی تحقیق کی کوئی کمی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
پھر بھی ایک سوال ٹیکنالوجی کی دنیا میں اہم ہوتا جا رہا ہے کہ کمپنی کے بہترین سائنسدان اور انجینئرز آخر اسے چھوڑ کیوں رہے ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ گوگل اپنی اے آئی قیادت کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔
ایک طرف جیمنائی کو چیٹ جی پی ٹی جیسے حریفوں کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے، دوسری طرف وہ لوگ بھی رخصت ہو رہے ہیں جنہوں نے
جدید اے آئی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
🧠
ذہین دماغ جا کیوں رہے ہیں؟
عوامل
گوگل کے اندر بڑی تبدیلی
گوگل نے اپنے مرکزی اے آئی ادارے ڈیپ مائنڈ میں ذمہ داریوں کی تقسیم بدل دی ہے۔ ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی ڈیمس ہسابیس اب طویل مدت کی سائنسی تحقیق اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
ان کی اہم ترجیحات میں مصنوعی عمومی ذہانت یا AGI بھی شامل ہے۔ یہ ایسی اے آئی بنانے کا تصور ہے جو محدود کاموں کے بجائے انسانوں کی طرح مختلف ذہنی صلاحیتوں میں مہارت دکھا سکے۔
گوگل میں برین ڈرین کا بحران 🤖
ذہین ترین سائنسدان اور انجینئرز آخر کمپنی کیوں چھوڑ رہے ہیں؟
بے شمار وسائل اور سرمائے کے باوجود گوگل سے اس کے بانی اے آئی ماہرین تیزی سے رخصت ہو رہے ہیں۔ یہ جنگ اب پیسے کے بجائے آزادی اور رفتار پر لڑی جا رہی ہے۔
🚨 ماہرین کی رخصتی
جیف ڈین جیسے بااثر انجینئرز اور گوگل برین کی بنیاد رکھنے والے ماہرین نے اپنی کمپنیاں یا حریف ادارے چن لیے۔
⚙️ ڈیپ مائنڈ میں بڑی تبدیلی
ڈیمس ہسابیس اب صرف سائنسی تحقیق (AGI) پر فوکس کریں گے جبکہ جیمنائی پروڈکٹس کورائے کاووک چوغلو کے سپرد۔
⚡ رفتار اور کام کی آزادی
اسٹارٹ اپس میں سائنسدانوں کو جلد فیصلے کرنے اور فوری پروڈکٹ بنانے کی آزادی ملتی ہے جو کارپوریٹ میں مشکل ہے۔
🔮 جیمنائی اور اگلا امتحان
اصل جنگ صرف ماڈل کی طاقت نہیں بلکہ بہترین انسانوں کو سنبھالنے اور انہیں اپنے خیالات آزمانے کی آزادی دینے کی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
روزمرہ انتظام اور جیمنائی ماڈلز کی تیاری کی ذمہ داری کورائے کاووک چوغلو کے پاس آگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گوگل بظاہر تحقیق اور کاروباری عمل کے درمیان فاصلہ کم کرنا چاہتا ہے، تاکہ لیبارٹری کی کامیابیاں زیادہ تیزی سے صارفین تک پہنچ سکیں۔
جب بڑے نام باہر نکل جائیں
اس تبدیلی کا زیادہ دلچسپ پہلو باصلاحیت افراد کی رخصتی ہے۔ نمایاں ناموں میں جیف ڈین شامل ہیں، جو گوگل کے انتہائی بااثر انجینئرز میں شمار ہوتے رہے ہیں۔
🎲
گوگل نے کیا کچھ داؤ پر لگایا؟
جائزہ
وہ گوگل برین کی بنیاد رکھنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔ ڈیپ لرننگ، بڑے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر اور خصوصی اے آئی پروسیسرز کی ترقی میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔
طویل عرصہ گوگل میں گزارنے کے بعد ڈین نے ’ڈسکوری لوپ‘ کے نام سے اپنی کمپنی قائم کی۔ اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائنسی اور انجینئرنگ دریافتوں کی رفتار بڑھانا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ جانے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ حالیہ عرصے میں گوگل کے متعدد اے آئی ماہرین حریف اداروں، خصوصاً اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی جانب بھی گئے ہیں۔
⚔️
گوگل بمقابلہ نئے حریف
▼
مسئلہ صرف زیادہ تنخواہ کا نہیں
اے آئی کے بہترین ماہرین کے لیے بڑی تنخواہ یقیناً اہم ہے، مگر آج مقابلہ صرف پیسے کا نہیں رہا۔
چھوٹی اور تیزی سے بڑھتی اے آئی کمپنیاں محققین کو ایک ایسی چیز دے سکتی ہیں جو بڑی کارپوریشن میں نسبتاً مشکل ہوتی ہے اور وہ ہے رفتار اور آزادی۔
اسٹارٹ اپ میں ایک سائنسدان کسی منصوبے پر جلد فیصلہ کر سکتا ہے اور اپنے خیال کو تیزی سے عملی شکل دے سکتا ہے۔ کامیاب کمپنی میں ملکیتی حصہ ملنے کی صورت میں مالی فائدہ بھی غیر معمولی ہوسکتا ہے۔
⚔️
اے آئی کی اگلی جنگ
◀
گوگل جیسی بڑی کمپنی کا حجم یہاں اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ بڑے انتظامی نظام میں ایک تحقیقی خیال کو صارفین تک پہنچانے کے لیے کئی مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی نے اسی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔ اوپن اے آئی نے تحقیق سے نکلنے والی ٹیکنالوجی کو بہت کم عرصے میں ایسی مصنوعات بنا دیا جس نے دنیا بھر میں کروڑوں صارفین حاصل کیے۔
جیمنائی کا بہت کچھ داؤ پر
گوگل کا جواب جیمنائی ہے۔ کمپنی اسے سرچ، اینڈرائیڈ، ورک اسپیس اور گوگل کلاؤڈ سمیت اپنے پورے ڈیجیٹل نظام میں پھیلا رہی ہے۔
یہاں گوگل کو ایک بڑی برتری حاصل ہے۔ اس کے پاس وسیع کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر، خصوصی پروسیسرز، عالمی سطح کی مصنوعات اور کئی دہائیوں کا الگورتھمک تجربہ موجود ہے۔
مگر اے آئی کی اگلی جنگ شاید صرف طاقتور ماڈل نہیں جیتے گا۔ اصل برتری اس کمپنی کو مل سکتی ہے جو دنیا کے بہترین سائنسدانوں کو آزادی، وسائل اور اپنے بڑے خیالات آزمانے کا موقع دے سکے۔
گوگل کے لیے اصل امتحان
چند بڑے ناموں کی رخصتی سے گوگل کی اے آئی طاقت ختم نہیں ہوتی۔ کمپنی کے پاس اب بھی دنیا کے مضبوط ترین تحقیقی نیٹ ورکس، جدید ڈیٹا سینٹرز اور انتہائی باصلاحیت ٹیمیں موجود ہیں۔
⚖️
گوگل کی طاقت ہی اس کی کمزوری کیوں؟
تضاد
لیکن ایک واضح تبدیلی بہرحال آ چکی ہے۔ کبھی ٹیکنالوجی کی جنگ سرمایہ، ڈیٹا اور کمپیوٹنگ طاقت پر لڑی جاتی تھی۔ اب بہترین انسانی دماغ بھی اتنا ہی قیمتی اثاثہ بن چکے ہیں۔
اسی لیے گوگل کی اصل آزمائش صرف یہ نہیں کہ جیمنائی کتنا ذہین بنتا ہے۔ زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ اگلی انقلابی ٹیکنالوجی بنانے والے ذہین ترین لوگ اسے گوگل کے اندر بنانا چاہیں گے، یا اپنی کمپنی قائم کرنے کے لیے دروازے سے باہر نکل جائیں گے؟