ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ایک عجیب کشمکش جاری ہے، جہاں مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیاں خود یہ ٹیکنالوجی ترک کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں
ایک طرف مائیکروسافٹ، اوبر اور اوپن اے آئی جیسی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر مصنوعی ذہانت (AI) کی تحقیق پر خرچ کر رہی ہیں، تو دوسری طرف ان ہی کے اندر سے ایسے اعترافات سامنے آ رہے ہیں جو اس صنعت کی بنیادوں کو ہلا رہے ہیں۔
یہ رپورٹ اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے کہ کیوں یہ کمپنیاں اپنی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی سے پیچھے ہٹ رہی ہیں اور کس طرح مارکیٹ میں
کسی پروڈکٹ کا مصنوعی رجحان پیدا کیا جاتا ہے؟
جب دیوقامت کمپنیاں خود ہاتھ اٹھا لیں
حال ہی میں 2 بڑے واقعات نے ٹیکنالوجی کی دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے:
- اوبر: کمپنی نے اعلان کیا کہ اس نے سال بھر کے لیے مختص کردہ اے آئی بجٹ صرف 4 ماہ میں ہی ختم کر دیا، جس کے بعد انتظامیہ کو ملازمین پر سخت پابندیاں لگانا پڑیں۔ اوبر کا کہنا ہے کہ اس بھاری سرمایہ کاری کا موازنہ اس کی اصل افادیت سے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
- مائیکروسافٹ: کمپنی نے اپنے انجینئرز کے لیے ’کلاڈ کوڈ‘ (Claude Code) کے مہنگے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں، کیونکہ یہ مالی طور پر بہت بھاری ثابت ہو رہے تھے۔ اب کمپنی اپنے اندرونی ٹول (کوپائلٹ) ہی پر انحصار بڑھا رہی ہے۔
- اصل مسئلہ: یہ کمپنیاں اعتراف کر رہی ہیں کہ اے آئی اب تک منافع بخش نہیں، بلکہ ایک ’مالی آگ‘ ہے جو تیزی سے سرمایہ جلا رہی ہے۔
گمراہ کن بیانیے کا کاروبار
مصنوعی ذہانت کو ایک ’سحر انگیز قوت‘بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے پیچھے ایک منظم سلسلہ کارفرما ہے:
- صنعت کار اور سرمایہ کار: مات شومر جیسے کاروباری افراد اپنی کمپنیوں کے ٹولز فروخت کرنے کے لیے ایسے مضامین لکھتے ہیں جن سے خوف اور ہنگامی صورتحال کا تاثر پیدا ہو۔ 80 ملین سے زائد لوگوں تک پہنچنے والے ایسے مضامین اکثر علمی حقائق کے بجائے ’تجارتی مفادات‘ پر مبنی ہوتے ہیں۔
- میڈیا کا کردار: رائیٹرز انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق بتاتی ہے کہ اے آئی پر مبنی 60 فیصد خبریں خود ان کمپنیوں کے اعلانات سے لی گئی ہیں، جس سے یہ ٹیکنالوجی ایک ’ناگزیر حقیقت‘ کے طور پر سامنے آتی ہے، نہ کہ ایک تجرباتی پروجیکٹ کے طور پر۔
- تکلیف دہ حقیقت: مولٹ بک (Moltbook) جیسے پلیٹ فارمز، جہاں صرف اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، کو ’ٹیکنالوجیکل سنگولیرٹی‘ کا نام دے کر پیش کیا گیا، حالانکہ ماہرین اسے محض ڈیٹا کی ’مشین لرننگ نقل‘ قرار دیتے ہیں۔
دی ایلیزا ایفیکٹ (The ELIZA Effect) اور انسانی نفسیات
انسانوں میں فطری رجحان ہے کہ وہ تیز اور رواں بات کرنے والی مشینوں کو ’ذہین‘ یا ’باصلاحیت‘ سمجھتے ہیں۔
1966ء میں جوزف ویزن بوم کا پروگرام ’ایلیزا‘ اس کی پہلی مثال تھا، جہاں لوگوں نے کمپیوٹر کے ساتھ جذباتی رشتے قائم کر لیے تھے۔
آج کے اے آئی ماڈلز اسی نفسیاتی کمزوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہے کہ جو لوگ اے آئی کی تکنیکی باریکیوں سے جتنا کم واقف ہوتے ہیں، وہ اسے اتنا ہی زیادہ ’سحر انگیز‘سمجھتے ہیں، اور یہی ’کم علمی‘کمپنیوں کے لیے سب سے منافع بخش ہے۔
اے آئی کی آڑ میں نوکریوں کا خاتمہ
ایک خطرناک رجحان یہ ہے کہ کمپنیاں اپنی معاشی ناکامیوں اور ناقص انتظامی فیصلوں کو چھپانے کے لیے ’اے آئی‘ کو قربانی کا بکرا بنا رہی ہیں۔
- فارسٹر (Forrester) کی رپورٹ کے مطابق بہت سی کمپنیاں جو اے آئی کے نام پر چھانٹی کر رہی ہیں، ان کے پاس درحقیقت ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود ہی نہیں جو انسانی کام کو سنبھال سکے۔ اسے ’اے آئی وائٹننگ‘ (AI Whitewashing) کہا جاتا ہے، جہاں سیاسی اور مالی وجوہات پر کی گئی چھانٹیوں کو ’جدت‘ کا نام دے دیا جاتا ہے۔
مالی عدم توازن
اوپن اے آئی کو 2029ء تک تقریباً 115 ارب ڈالر کے مجموعی نقصان کا خدشہ ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیسہ ایک دائرے میں گھوم رہا ہے:
- سرمایہ کار (Nvidia/Microsoft) کمپنی (OpenAI) میں پیسہ ڈالتے ہیں۔
- کمپنی وہی پیسہ سرمایہ کار کی مصنوعات (چپس/کلاؤڈ سروسز) خریدنے پر خرچ کرتی ہے۔
یہ ایک ایسا چکر ہے، جس میں ہر طرف سے ’منافع‘ نظر آتا ہے لیکن اصل قدر (Real Value) غائب ہے۔
مفید ٹیکنالوجی اور تنقیدی شعور
مصنوعی ذہانت بلاشبہ ایک مفید ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس کا موجودہ ’ہیجان‘ ایک مصنوعی غبارے کی طرح ہے۔ اس سلسلے کو توڑنے کا واحد راستہ ’تنقیدی شعور‘ (Critical AI Literacy) ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ:
- کیا یہ ٹیکنالوجی واقعی وہ کام کر رہی ہے جو دعویٰ کیا جا رہا ہے؟
- کیا اس کے پیچھے کوئی مالی مفاد تو نہیں؟
جب تک عوام اس ٹیکنالوجی کو ’جادو‘ سمجھنا نہیں چھوڑیں گے، تب تک یہ کمپنیاں اپنی ناکامیوں کو کامیابیوں کے طور پر بیچتی رہیں گی۔ اے آئی کا مستقبل اس کے ’جادوئی‘ ہونے میں نہیں، بلکہ اس کی حدود کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔