براہ راست نشریات

سعودی عرب پر حملوں کی سازش، ملیشیاؤں کے رابطے کا انکشاف

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب پر حملوں کی تیاری

ایک ذمہ دار سعودی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ متعدد قابلِ اعتماد انٹیلی جنس رپورٹس میں حوثیوں، ایران نواز عراقی ملیشیاؤں اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان سعودی عرب پر نئے حملوں کی تیاری کے لیے رابطوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
مملکت نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، تاہم متوقع حملوں کے اہداف، نوعیت اور وقت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

سعودی عرب کے ایک ذمہ دار ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ متعدد ’قابلِ اعتماد‘ انٹیلی جنس رپورٹس میں یمن کے حوثیوں، ایران نواز عراقی ملیشیاؤں اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان سعودی عرب پر حملوں کی تیاری کے لیے رابطے اور باہمی تعاون کی نشاندہی ہوئی ہے۔

جمعرات کی شب سعودی اخبار سبق نے یہ اطلاع العربیہ کے حوالے سے شائع کی۔ ذریعے نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ 

تاہم رپورٹ میں مبینہ منصوبے کے ممکنہ اہداف، حملوں کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

اہم ترین نکات
  • ذمہ دار سعودی ذریعے کے مطابق متعدد قابلِ اعتماد انٹیلی جنس رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
  • رپورٹس میں حوثیوں، ایران نواز عراقی ملیشیاؤں اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے رابطوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
  • مبینہ رابطوں کا مقصد سعودی عرب کے خلاف نئے حملوں کی تیاری بتایا گیا ہے۔
  • ممکنہ اہداف، حملوں کی نوعیت اور وقت کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
  • سعودی عرب نے کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
  • ریاض نے ساتھ ہی مذاکرات اور علاقائی کشیدگی میں کمی کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

ذمہ دار سعودی ذریعے نے انٹیلی جنس معلومات کو ’چونکا دینے والی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مملکت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پُرامن حل کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

ذریعے کے مطابق جاری مذاکرات بھی مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سعودی عرب کے خلاف نئی کارروائیوں کی تیاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

متعدد سعودی
انٹیلی جنس
رپورٹس کو
’قابلِ اعتماد‘
قرار دیا گیا

یہ تازہ انتباہ گزشتہ ہفتے مشرقی سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے بعد جاری ہوا ہے۔ 
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے 28 جولائی کو کہا تھا کہ عراقی سرزمین سے ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے بھیجے گئے متعدد ڈرونز کو سعودی فضائی دفاع نے ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کر دیا۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ مملکت اپنی سرزمین اور اہم تنصیبات کے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے اور مناسب وقت اور مقام پر جواب دے سکتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ان ڈرونز کا ہدف مشرقی صوبے میں واقع تیل کی تنصیبات تھیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے 30 جولائی کو دو علاقائی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف بعض حالیہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں حوثی عناصر اور عراقی مسلح گروہوں نے مل کر کام کیا۔

فیکٹ باکس
6 اگست 2026سعودی ذریعے کا تازہ انتباہ
متعدد رپورٹسقابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات
3 فریقحوثی، عراقی ملیشیائیں اور ایرانی پاسداران
سعودی عربمبینہ منصوبہ بندی کا ہدف
28 جولائیعراق سے آنے والے ڈرونز تباہ کیے گئے
تفصیلات نامعلوموقت، مقام اور طریقۂ حملہ ظاہر نہیں

رپورٹ کے مطابق علاقائی جائزوں میں ان کارروائیوں کی نگرانی ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسوب کی گئی، جبکہ حملوں میں سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی تیل تنصیبات کو ہدف بنایا گیا تھا۔ 

ایران براہِ راست مداخلت کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

ان حملوں کے بعد سعودی عرب اور امریکا نے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں سے منسلک مقامات پر مشترکہ فضائی کارروائی کی تھی۔ 

ریاض کا مؤقف تھا کہ کارروائی سعودی اہداف پر عراقی سرزمین سے کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی، جبکہ عراقی حکومت نے کہا تھا کہ اسے فضائی کارروائی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور اس نے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ 

رائٹرز کے مطابق ان حملوں نے خطے میں جاری کشیدگی کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا تھا۔

کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟

✓ مصدقہ معلومات

  • ذمہ دار سعودی ذریعے کا بیان العربیہ کے حوالے سے شائع ہوا ہے۔
  • 28 جولائی کو عراق سے آنے والے متعدد ڈرونز تباہ کیے گئے تھے۔
  • رائٹرز نے علاقائی عہدیداروں کے حوالے سے مشترکہ کارروائیوں کی رپورٹ شائع کی تھی۔
  • سعودی اور امریکی افواج نے عراق میں ایران نواز گروہوں کے مقامات پر کارروائی کی تھی۔

؟ ابھی ثابت نہیں

  • نئے حملے کا ممکنہ وقت، مقام اور طریقۂ کار کیا ہوگا۔
  • منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے یا ابھی تیاری تک محدود ہے۔
  • کن مخصوص سعودی تنصیبات یا شہروں کو ہدف بنایا جاسکتا ہے۔
  • انٹیلی جنس جائزے کی تفصیلی عوامی دستاویز ابھی جاری نہیں ہوئی۔

نئی اطلاعات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ محض یمن سے سعودی عرب کی جانب سرحد پار حملوں کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ عراق میں موجود مسلح گروہوں، حوثی آپریٹرز اور ایرانی پاسداران کے مبینہ مشترکہ نیٹ ورک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 

اگر یہ انٹیلی جنس جائزے درست ثابت ہوتے ہیں تو عراق سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کے ایک نئے آپریشنل محاذ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

سعودی ذریعے کے بیان سے بیک وقت دو واضح پیغامات سامنے آتے ہیں: 

ریاض مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن قومی سلامتی اور تیل کی تنصیبات کے خلاف کسی نئی کارروائی پر خاموش بھی نہیں رہے گا۔

فی الحال کسی متوقع حملے کی عملی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے مبینہ منصوبہ بندی سے متعلق معلومات کو سعودی انٹیلی جنس جائزے کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے۔

اصل اور معتبر ذرائع عراق سے سعودی تنصیبات پر حملے اور مشترکہ فوجی کارروائی 4 SOURCES