براہ راست نشریات

ایک بات کہوں: یہ جنگ جلد ختم نہیں ہوگی!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Strait of Hormuz crisis
Picture of انس زکی

انس زکی

عرب تجزیہ نگار

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ فیصلہ کن انجام تک پہنچنے کے بجائے طویل تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ ابتدائی حملے ایرانی نظام کو گرانے یا اس کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز اور علاقائی مفادات کو دباؤ کے مؤثر ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔
دونوں فریق ایسی شرائط چاہتے ہیں جنہیں دوسرا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اسی لیے ممکنہ معاہدہ بھی مستقل امن کے بجائے ایک مسلح اور ناپائیدار جنگ بندی ثابت ہوسکتا ہے۔

سنہ 1964 میں امریکی صدر لنڈن جانسن ویت نام کی جنگ پھیلانے کی تیاری کر رہے تھے تو سفارت کار جارج بال نے انہیں خبردار کیا کہ شیر کی پشت پر سوار ہونے کے بعد انسان اپنی مرضی سے یہ طے نہیں کرسکتا کہ کہاں اترے گا۔ 

یہ بات بعد میں ایسی جنگوں کی مثال بن گئی جن میں داخل ہونے کا راستہ معلوم، مگر نکلنے کا وقت اور طریقہ غیر واضح ہوتا ہے۔ 

بہت سے مبصرین کے نزدیک یہی مثال 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ پر بھی صادق آتی ہے۔

صرف چند ہفتے پہلے، 6 فروری کو مسقط میں امریکا اور ایران کے مذاکرات شروع ہوئے تھے، جن سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی۔ 

لیکن 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر شدید حملے شروع کردیئے۔ 

ابتدائی کارروائیوں میں اہم تنصیبات تباہ اور کئی اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات ہلاک ہوئیں، مگر جنگ ختم ہونے کے بجائے پھیلتی گئی۔

مزید پڑھیں

عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے جلد ہی خبردار کیا کہ یہ حملہ ایک نئی ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ کا دروازہ کھول سکتا ہے اور اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے باہر تک جائیں گے۔ 

4 ماہ بعد نیویارک ٹائمز نے بھی عارضی جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت ٹوٹنے پر لکھا کہ واشنگٹن ایک اور طویل جنگ کے چکر میں داخل ہوگیا ہے۔

بین الاقوامی بحران گروپ کے علی واعظ کے مطابق دونوں فریقوں نے مفاہمتی یادداشت کو امن کی طرف پل نہیں، بلکہ دوسرے ذرائع سے جنگ جاری رکھنے کا وسیلہ سمجھا۔ 

پائیدار سمجھوتا نہ ہوا تو یہ رویہ مستقل جنگ کے حالات پیدا کرسکتا ہے۔ 

امریکی حکومتیں پہلے بھی ’مختصر جنگ کے فریب‘ میں مبتلا رہی ہیں: 

فوجی برتری سے فوری اور کم لاگت فتح کی توقع، جو بعد میں وسائل، وقت اور جانیں نگلنے والے تنازع میں بدل جاتی ہے۔

اہم نکات
  • ابتدائی حملے ایرانی نظام کو گرانے میں ناکام رہے۔
  • امریکی فوجی برتری سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوسکی۔
  • ایران جنگ کو قومی بقا اور مزاحمت کی لڑائی سمجھتا ہے۔
  • آبنائے ہرمز جنگ اور مذاکرات کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔
  • ممکنہ معاہدہ مستقل امن کے بجائے مسلح جنگ بندی ہوسکتا ہے۔

موجودہ جنگ کی نمایاں خصوصیت بے یقینی ہے۔ 

کبھی ٹرمپ ایران کو دھمکی دیتے ہیں، کبھی معاہدہ قریب ہونے کی بات کرتے ہیں، کبھی فوجی کارروائی کا امکان بڑھتا ہے اور کبھی آبنائے ہرمز پر سمجھوتے کی امید پیدا ہوتی ہے۔ 

ابتدائی امریکی
اور اسرائیلی حملے
ایرانی نظام کو
گرانے میں
ناکام رہے

تیل کی قیمتیں بھی انہی متضاد خبروں کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔
صحافی، ماہرین اور باخبر ذرائع تک واضح طور پر نہیں بتا سکتے کہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی۔
ایران نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور درجنوں رہنماؤں کی ہلاکت کے باوجود نظام برقرار رکھا اور جنگ کا دائرہ پھیلا کر خطے اور دنیا کے لئے اس کی قیمت بڑھا دی۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون زیادہ تکلیف سہنے کو تیار ہے۔
جو فریق جنگ کو اپنے وجود کی لڑائی سمجھتا ہو، اس کی برداشت اس دور دراز طاقت سے زیادہ ہوسکتی ہے جو اختیاری جنگ لڑ رہی ہو۔
ماضی بھی فوری فتح کے تصور کی نفی کرتا ہے۔
ویت نام اور افغانستان میں امریکی جنگیں 20، 20 سال، عراق میں تقریباً 8 سال، جبکہ سوویت جنگِ افغانستان 10 سال جاری رہی۔

ایران کے خلاف ابتدائی فضائی حملے نظام گرانے یا فیصلہ سازی مفلوج کرنے میں ناکام رہے۔ ایرانی عسکری صلاحیت اور بنیادی ڈھانچا مکمل تباہ نہ ہوسکا، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز، بحری راستوں اور علاقائی تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دیا۔ 

یوں امریکی فوجی برتری سیاسی فیصلے میں تبدیل نہ ہوسکی اور جنگ طاقت کے مظاہرے سے برداشت کے مقابلے میں بدل گئی۔

ممکنہ انجام
ہرمز میں عارضی انتظام حملوں میں وقفہ محاصرے میں نرمی طویل مذاکرات
سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ فیصلہ کن فوجی فتح نہیں، بلکہ مرحلہ وار سمجھوتا ہے۔ تاہم یہ مستقل امن کے بجائے ایک مسلح جنگ بندی ثابت ہوسکتا ہے، جسے کسی جہاز کی گرفتاری، نئے حملے یا معاہدے کی مختلف تشریح دوبارہ جنگ میں بدل سکتی ہے۔

تہران کا پہلا مقصد ایسی صورت حال سے بچنا ہے جو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو۔ 

نظام اور اس کے عسکری و سیاسی اداروں کا قائم رہنا اسے جنگ کو شکست کے بجائے مزاحمت کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیتا ہے۔ 

ایران امریکی محاصرہ اور فضائی حملے ختم کرانا، آبنائے ہرمز کے انتظام میں تسلیم شدہ کردار حاصل کرنا اور اپنے جوہری و میزائل پروگرام کا اتنا حصہ محفوظ رکھنا چاہتا ہے جو بازدار قوت مہیا کرے۔ 

عمان کے ساتھ عارضی دوطرفہ بحری راہداری پر بات چیت اسی کوشش کا حصہ ہے، مگر تہران کے مطابق محاصرہ برقرار رہا تو صرف بحری راستہ کافی نہیں ہوگا۔

واشنگٹن کے
وسیع اور بدلتے
ہوئے اہداف
فیصلہ کن فتح کو
مشکل بنا رہے ہیں

واشنگٹن کی مشکل یہ ہے کہ اس کے اہداف مسلسل بدلتے اور پھیلتے رہے ہیں:
ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا، میزائل صنعت اور بحری قوت تباہ کرنا، علاقائی اثر کم کرنا، حکومت کی تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرنا اور کبھی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ۔
اب آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی بھی مرکزی مقصد ہے، حالانکہ جنگ سے پہلے یہ راستہ کھلا تھا۔
امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں جہاز ایرانی فیس یا عسکری دھمکی کے بغیر گزریں اور اتحادیوں کے محافظ کے طور پر اس کی ساکھ بھی برقرار رہے۔
مگر اہداف جتنے وسیع ہوں، فتح کا اعلان اور باعزت سمجھوتا اتنا ہی مشکل ہوگا۔
ایران جنگ روکنے کے لیے حملوں کے خاتمے، محاصرہ اٹھانے، نظام کے تحفظ اور ہرمز میں تسلیم شدہ کردار کی ضمانت چاہتا ہے۔

تہران اور واشنگٹن کیا چاہتے ہیں؟

تہران کے مطالبات

  • امریکی حملوں کا خاتمہ
  • ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنا
  • موجودہ نظام اور اداروں کا تحفظ
  • آبنائے ہرمز میں تسلیم شدہ کردار
  • جوہری اور میزائل بازدار قوت برقرار رکھنا

واشنگٹن کے مطالبات

  • آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی
  • جوہری پروگرام پر قابل تصدیق پابندیاں
  • طویل فاصلے کے میزائلوں کو محدود کرنا
  • امریکی افواج اور علاقائی ملکوں پر حملے روکنا
  • معاہدے کو امریکی کامیابی کے طور پر پیش کرنا

امریکا مستحکم آزاد جہاز رانی، ایرانی جوہری اور طویل فاصلے کے میزائل پروگرام پر قابل تصدیق پابندیاں اور امریکی افواج و علاقائی ملکوں پر حملوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کو ایسا معاہدہ بھی درکار ہے جسے وہ تیل کی قیمتوں اور کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے دباؤ میں پسپائی کے بجائے کامیابی کے طور پر پیش کرسکے۔

زیادہ امکان فیصلہ کن فوجی فتح کا نہیں، بلکہ مرحلہ وار معاہدے کا ہے: 

پہلے ہرمز میں عارضی بحری انتظام، پھر حملوں کا خاتمہ اور محاصرے میں نرمی، اس کے بعد جوہری پروگرام، میزائلوں اور علاقائی سلامتی پر طویل مذاکرات۔ 

لیکن یہ مستقل امن کے بجائے مسلح جنگ بندی ثابت ہوسکتی ہے۔ 

جنگ روزانہ بمباری کے بجائے وقفوں اور اچانک جھڑپوں پر مشتمل طویل تنازع بن سکتی ہے، جسے کسی جہاز کی گرفتاری، نئے حملے یا جنگ بندی کی مختلف تشریح دوبارہ بھڑکا دے۔ اسی لیے پرانا انتباہ آج بھی درست ہے: 

جنگ شروع کرنا آسان، مگر شکست کا داغ لئے بغیر اس سے نکلنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

اصل ماخذ ترکی، اسرائیل اور مشرقی بحیرۂ روم کی نئی جغرافیائی کشمکش 1 SOURCE

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے