ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ فیصلہ کن انجام تک پہنچنے کے بجائے طویل تنازع میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ ابتدائی حملے ایرانی نظام کو گرانے یا اس کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے، جبکہ تہران نے آبنائے ہرمز اور علاقائی مفادات کو دباؤ کے مؤثر ذرائع کے طور پر استعمال کیا۔
دونوں فریق ایسی شرائط چاہتے ہیں جنہیں دوسرا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اسی لیے ممکنہ معاہدہ بھی مستقل امن کے بجائے ایک مسلح اور ناپائیدار جنگ بندی ثابت ہوسکتا ہے۔
تیل کی قیمتیں بھی انہی متضاد خبروں کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔
صحافی، ماہرین اور باخبر ذرائع تک واضح طور پر نہیں بتا سکتے کہ جنگ کب اور کیسے ختم ہوگی۔
ایران نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور درجنوں رہنماؤں کی ہلاکت کے باوجود نظام برقرار رکھا اور جنگ کا دائرہ پھیلا کر خطے اور دنیا کے لئے اس کی قیمت بڑھا دی۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون زیادہ تکلیف سہنے کو تیار ہے۔
جو فریق جنگ کو اپنے وجود کی لڑائی سمجھتا ہو، اس کی برداشت اس دور دراز طاقت سے زیادہ ہوسکتی ہے جو اختیاری جنگ لڑ رہی ہو۔
ماضی بھی فوری فتح کے تصور کی نفی کرتا ہے۔
ویت نام اور افغانستان میں امریکی جنگیں 20، 20 سال، عراق میں تقریباً 8 سال، جبکہ سوویت جنگِ افغانستان 10 سال جاری رہی۔
واشنگٹن کی مشکل یہ ہے کہ اس کے اہداف مسلسل بدلتے اور پھیلتے رہے ہیں:
ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنا، میزائل صنعت اور بحری قوت تباہ کرنا، علاقائی اثر کم کرنا، حکومت کی تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرنا اور کبھی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ۔
اب آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی بھی مرکزی مقصد ہے، حالانکہ جنگ سے پہلے یہ راستہ کھلا تھا۔
امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں جہاز ایرانی فیس یا عسکری دھمکی کے بغیر گزریں اور اتحادیوں کے محافظ کے طور پر اس کی ساکھ بھی برقرار رہے۔
مگر اہداف جتنے وسیع ہوں، فتح کا اعلان اور باعزت سمجھوتا اتنا ہی مشکل ہوگا۔
ایران جنگ روکنے کے لیے حملوں کے خاتمے، محاصرہ اٹھانے، نظام کے تحفظ اور ہرمز میں تسلیم شدہ کردار کی ضمانت چاہتا ہے۔