براہ راست نشریات

سعودائزیشن سی ای او کے دفتر تک: ملازمت کے اصول بدل رہے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudization
سعودائزیشن اب سیلز کاؤنٹر سے
سی ای او کے دفتر تک پہنچ رہی ہے
کیا پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے دروازے بند ہورہے ہیں

سعودائزیشن کا دائرہ روایتی ملازمتوں سے نکل کر انتظامی اور قیادتی عہدوں تک پہنچ رہا ہے۔
پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی بعض کمپنیوں میں غیرملکی سربراہان کی جگہ تجربہ کار سعودی افسران نے سنبھالی ہے۔ دوسری جانب غیرملکی ماہرین کو ملنے والی غیرمعمولی تنخواہیں اور مراعات بھی کم ہورہی ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے مستقبل کی کامیابی درست پیشے، تصدیق شدہ اسناد اور نایاب مہارت سے وابستہ ہوگی۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM ECONOMIC REPORT

چند سال پہلے تک کسی غیرملکی ماہر یا اعلیٰ افسر کے لیے ریاض منتقل ہونے کا مطلب عموماً پیشہ ورانہ اور مالی اعتبار سے بڑی چھلانگ ہوتا تھا۔ 

پہلے سے بڑا عہدہ، اپنے ملک کے مقابلے میں کہیں بہتر تنخواہ اور رہائش، بچوں کی تعلیم، طبی بیمہ اور فضائی ٹکٹ جیسی مراعات ملازمت کے پیکج کا حصہ ہوتی تھیں۔

سعودی عرب نئی کمپنیاں اور اقتصادی شعبے تیزی سے قائم کر رہا تھا۔ 

اسے ایسے بین الاقوامی ماہرین کی ضرورت تھی جو انتظامی ڈھانچے تشکیل دے سکیں، ٹیمیں تیار کریں اور منصوبوں کو ابتدا سے عملی شکل دیں۔ 

یہی وجہ تھی کہ صنعت، ٹیکنالوجی، سیاحت، خلائی شعبے اور ادویہ سازی سمیت وژن 2030 سے وابستہ کئی کمپنیوں کی ابتدائی قیادت میں غیرملکی ماہرین نمایاں رہے۔

مگر اب مارکیٹ تبدیل ہورہی ہے۔

مواقع ختم نہیں ہوئے اور نہ ہی مملکت نے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا بند کی ہیں، لیکن پیشکشیں زیادہ حقیقت پسندانہ، مقابلہ سخت اور قابلِ پیمائش نتائج کی اہمیت کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔ 

اس تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ سعودائزیشن اب سیلز، استقبالیہ اور کسٹمر سروس تک محدود نہیں رہی، اس کے اثرات بورڈ روم اور چیف ایگزیکٹو کے دفتر تک دکھائی دینے لگے ہیں۔

مزید پڑھیں

قیادت کی بلند ترین سطح پر تبدیلی

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سے منسلک بعض کمپنیوں میں غیرملکی چیف ایگزیکٹو افسران کی جگہ سعودی قیادت نے سنبھالی ہے۔

ان میں جدید صنعتوں اور الیکٹرانکس کے فروغ کے لیے قائم کی جانے والی کمپنی ’آلات‘ شامل ہے۔

 کمپنی کے ابتدائی مرحلے کی قیادت سنگاپور سے تعلق رکھنے والے امیت مِدھا کے پاس تھی۔ 

ان کی رخصتی کے بعد ڈاکٹر محمد الداؤد کو قائم مقام چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا۔

ڈاکٹر الداؤد محض سعودائزیشن کی شرح پوری کرنے کے لئے منتخب کیا گیا نام نہیں۔ 

وہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی سرمایہ کاری کے شعبے میں صنعت اور کان کنی کے ذمہ دار ہیں۔ 

وہ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ، کریم اور سرمایہ کاری کے بین الاقوامی اداروں میں بھی کام کرچکے ہیں۔

📰 مختصر خلاصہ

سعودائزیشن اب سیلز اور استقبالیہ جیسی روایتی ملازمتوں سے آگے بڑھ کر انتظامی، تخصصی اور قیادتی عہدوں تک پہنچ رہی ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی بعض کمپنیوں میں غیرملکی سربراہان کی جگہ تجربہ کار سعودی افسران نے سنبھالی، جبکہ غیرملکی ماہرین کے لیے غیرمعمولی تنخواہی مراعات بھی کم ہورہی ہیں۔ پاکستانیوں کے لیے مستقبل کی کامیابی درست پیشے، تصدیق شدہ اسناد اور ایسی مہارت سے وابستہ ہوگی جس کا متبادل آسانی سے دستیاب نہ ہو۔

خلائی خدمات اور سیٹلائٹ مواصلات کی کمپنی ’نیو اسپیس گروپ‘ میں بھی قیادت تبدیل ہوئی۔ 

اپریل 2026 میں انجینئر ہیثم الفرج کو چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا۔ 

انہوں نے نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے مارٹن بلانکن کی جگہ لی، جو کمپنی کے قیام سے اس کی سربراہی کر رہے تھے۔

کمپنی نے اسے ایک طے شدہ قیادتی منتقلی قرار دیا، جو کاروباری ترقی کے نئے مرحلے سے منسلک ہے۔ 

ہیثم الفرج ٹیلی کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی میں 20 سال سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔ 

وہ آرامکو اور موبائلی میں کام کرنے کے بعد ’ایس ٹی سی‘ کے چیف ٹیکنالوجی افسر رہے، جہاں انہوں نے نیٹ ورک کی جدید کاری، ڈیجیٹل تبدیلی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی کے منصوبوں کی قیادت کی۔

اہم ترین نکات
  • پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی بعض کمپنیوں میں سعودی افسران نے غیرملکی چیف ایگزیکٹوز کی جگہ سنبھالی۔
  • یہ تبدیلی غیرملکیوں کو نکالنے کی مشترک مہم نہیں، بلکہ کارکردگی، اخراجات اور مقامی صلاحیت سے بھی منسلک ہے۔
  • غیرملکی ماہرین کے لیے 40 فیصد یا اس سے زیادہ اضافی تنخواہ کی پیشکشیں اب پہلے کی طرح عام نہیں رہیں۔
  • خریداری، انجینئرنگ، اکاؤنٹنگ اور سیاحت کے متعدد پیشے سعودائزیشن کے دائرے میں آرہے ہیں۔
  • مستقبل میں قومیت سے زیادہ تخصص، مہارت اور قابلِ پیمائش نتائج اہم ہوں گے۔

فنانشل ٹائمز نے ادویہ سازی اور بائیو ٹیکنالوجی کی کمپنی ’لائف ایرا‘ سمیت بعض دوسرے اداروں میں بھی قیادت کی تبدیلی کا ذکر کیا۔ 

مشترک پہلو یہ ہے کہ غیرملکی ماہرین نے ابتدائی مرحلے میں کمپنیوں کی بنیاد رکھنے میں مدد دی، لیکن کاروباری نفاذ اور منافع حاصل کرنے کا مرحلہ آیا تو قیادت سعودی ماہرین کو منتقل ہونے لگی۔ 

کیا یہ غیرملکیوں کو نکالنے کی مہم ہے؟

ان تبدیلیوں کو غیرملکی افسران کو ہٹانے کی مشترک مہم سمجھنا درست نہیں۔ 

پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے ایسا کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا کہ تمام تبدیلیاں مدیران کی قومیت کی وجہ سے ہوئی ہیں یا ہر غیرملکی سربراہ کو سعودی شہری سے تبدیل کیا جائے گا۔

یہ تبدیلی بظاہر 3 عوامل کا نتیجہ ہے: 

قیادت کے لئے اہل سعودی ماہرین کی دستیابی، فنڈ سے منسلک کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ اور تیز رفتار اخراجات سے نکل کر مالی کارکردگی و نتائج پر توجہ۔

📊 فیکٹ باکس
خریداری کے پیشے مخصوص اداروں میں سعودائزیشن کی شرح 70 فیصد تک بڑھائی گئی۔
انجینئرنگ 46 انجینئرنگ پیشوں میں شرح 30 فیصد مقرر کی گئی۔
اکاؤنٹنگ 44 پیشوں میں سعودائزیشن بتدریج بڑھانے کا عمل جاری ہے۔
سیاحت 41 قیادتی اور تخصصی پیشے مختلف مراحل میں شامل ہیں۔
ورک پرمٹ غیرملکی کارکن اعلیٰ مہارت، ہنرمند اور بنیادی درجوں میں تقسیم کیے جارہے ہیں۔
اہم معیار تعلیم، تجربہ، پیشہ، تنخواہ اور مطلوبہ مہارت۔

پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی 2026 سے 2030 تک کی حکمت عملی بھی اسی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ 

نئی پالیسی تیز رفتار ترقی کے بعد ’پائیدار قدر پیدا کرنے‘، سرمایہ کاری کی کارکردگی بہتر بنانے، نجی شعبے کی شرکت بڑھانے اور طویل مدتی منافع پر توجہ دیتی ہے۔

اب کسی کمپنی کی کامیابی صرف اس کے بڑے منصوبے یا بھاری اخراجات سے نہیں ناپی جائے گی۔ 

اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ وہ تصور کو آمدنی میں کیسے بدلتی، سرمایہ کیسے حاصل کرتی، کتنی ملازمتیں پیدا کرتی اور سرمایہ کاری پر کتنا منافع دیتی ہے۔ 

ایسے مرحلے میں انتظامیہ کا جائزہ معمول کی کارروائی ہے، خواہ سربراہ سعودی ہو یا غیرملکی۔ 

غیرملکیوں کے بڑے تنخواہی پیکج بھی زیرِ جائزہ

تبدیلی صرف چیف ایگزیکٹو افسران کے ناموں میں نہیں بلکہ بیرون ملک سے آنے والے ماہرین کو دی جانے والی پیشکشوں میں بھی نظر آتی ہے۔

رائٹرز نے بین الاقوامی ریکروٹمنٹ کمپنیوں کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ سعودی اداروں نے غیرملکی ماہرین کو راغب کرنے کے لئے دی جانے والی غیرمعمولی اضافی مراعات کم کرنا شروع کردی ہیں، خصوصاً تعمیرات اور مینوفیکچرنگ میں۔

🇵🇰 پاکستانیوں کے لیے کیوں اہم؟

پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں اکاؤنٹنگ، انجینئرنگ، خریداری، پراجیکٹ مینجمنٹ، ہوٹلنگ اور لاجسٹکس سے وابستہ ہے۔ یہی وہ شعبے ہیں جہاں سعودائزیشن کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔

طویل ملازمت اب مستقبل کی ضمانت نہیں۔ اقامے میں غلط پیشہ، غیرمصدقہ تعلیمی اسناد یا آسانی سے دستیاب عمومی مہارت نئی ملازمت کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

اس کے برعکس مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بائیو ٹیکنالوجی، کان کنی، قابلِ تجدید توانائی اور جدید تکنیکی آپریشنز میں مہارت رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

بڑے منصوبوں کی تیز رفتار توسیع کے دور میں بعض امیدوار اپنی سابق تنخواہ کے مقابلے میں 40 فیصد سے زیادہ اضافے پر بات کرسکتے تھے۔ 

چند معاملات میں پیشکش دوگنا تنخواہ تک پہنچ جاتی تھی۔ 

اب کمپنیاں تنخواہوں کو مارکیٹ کی عمومی سطح اور ملازم کی حقیقی کارکردگی کے قریب لارہی ہیں۔

سعودی عرب آج بھی مسابقتی تنخواہوں، ذاتی آمدنی پر ٹیکس نہ ہونے اور بڑے منصوبوں کی وجہ سے پرکشش ہے۔ 

البتہ سوال بدل گیا ہے۔ 

پہلے یہ پوچھا جاتا تھا کہ کسی ماہر کو ریاض لانے کے لیے کتنی رقم درکار ہوگی، اب کمپنی پوچھتی ہے کہ اس ماہر کے پاس ایسی کون سی مہارت ہے جو مقامی طور پر دستیاب نہیں اور وہ کون سا قابلِ پیمائش نتیجہ دے سکتا ہے۔ 

سعودائزیشن روایتی شعبوں سے آگے

مئی 2026 سے مخصوص اداروں میں خریداری سے متعلق پیشوں کی سعودائزیشن بڑھا کر 70 فیصد کردی گئی۔ 

ان میں پروکیورمنٹ مینیجر، کنٹریکٹ مینیجر، ویئرہاؤس مینیجر، لاجسٹک سروسز مینیجر، ای کامرس اور مارکیٹ ریسرچ اسپیشلسٹ شامل ہیں۔

🧭 غیرملکی ملازم کیا کرے؟
  1. اپنے پیشے پر نافذ سعودائزیشن کی شرح اور تاریخ معلوم کریں۔
  2. اقامے اور ’’قویٰ‘‘ کے معاہدے میں درج پیشہ چیک کریں۔
  3. تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کی تصدیق مکمل کرائیں۔
  4. ضروری سعودی پیشہ ورانہ ادارے کی منظوری حاصل کریں۔
  5. اپنے شعبے سے متعلق مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اوزار سیکھیں۔
  6. ایسی مہارت پیدا کریں جس کا متبادل آسانی سے دستیاب نہ ہو۔
  7. نئی پیشکش میں تنخواہ کے ساتھ تمام مراعات اور معاہدے کی شرائط بھی دیکھیں۔

جون 2026 میں 46 انجینئرنگ پیشوں میں سعودائزیشن کی شرح 30 فیصد کردی گئی۔ 

اس فیصلے کا اطلاق 5 یا اس سے زیادہ انجینئر رکھنے والے اداروں پر ہوتا ہے۔ 

فہرست میں آرکیٹیکچرل، صنعتی، الیکٹرانکس، میرین، توانائی، تیل و گیس، ایوی ایشن اور تحقیق و ترقی کے شعبے شامل ہیں۔

اکاؤنٹنگ کے 44 پیشوں میں بھی سعودائزیشن بتدریج بڑھائی جارہی ہے۔ 

ان میں فنانشل مینیجر، اکاؤنٹس مینیجر، فنانشل کنٹرولر، بجٹ مینیجر اور سینئر آڈیٹر شامل ہیں۔ سیاحت کے 41 قیادتی اور تخصصی پیشوں کی سعودائزیشن کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے، جن میں ہوٹل مینجمنٹ، سیاحتی منصوبہ بندی، ٹریول ایجنسی اور استقبالیہ شامل ہیں۔

یہ وہ شعبے ہیں جہاں پاکستانی کئی دہائیوں سے کام کر رہے ہیں۔ 

اس لیے اثرات سب پر یکساں نہیں ہوں گے۔ 

نایاب تکنیکی مہارت رکھنے والا شخص بدستور مطلوب رہ سکتا ہے، جبکہ عمومی انتظامی ذمہ داریاں انجام دینے والے ملازم کو سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔ 

پاکستانیوں کے لیے خطرہ کہاں، موقع کہاں؟

پاکستانیوں کے پاس انجینئرنگ، طب، آئی ٹی، اکاؤنٹنگ اور تکنیکی کاموں کی بڑی افرادی قوت موجود ہے۔ 

انہیں سعودی مارکیٹ کا طویل تجربہ بھی حاصل ہے۔ 

تاہم بڑی کمزوری یہ ہے کہ بہت سے کارکنوں کی تعلیمی اسناد تصدیق شدہ نہیں یا اقامے میں درج پیشہ ان کے حقیقی کام سے مطابقت نہیں رکھتا۔ 

کوئی انجینئر ٹیکنیشن کے پیشے پر اور کوئی اکاؤنٹنٹ مختلف انتظامی عہدے پر کام کررہا ہوتا ہے۔

⏱️ ایک منٹ میں کہانی

سعودی عرب میں نئی کمپنیوں اور منصوبوں کے قیام کے دوران عالمی تجربہ رکھنے والے غیرملکی ماہرین کو بڑے عہدے، زیادہ تنخواہیں اور خصوصی مراعات دی جاتی تھیں۔

اب کئی کمپنیاں ابتدائی مرحلے سے نکل کر کارکردگی اور منافع کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں، جبکہ تجربہ کار سعودی افسران بھی قیادت کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔

نتیجتاً بعض کمپنیوں میں غیرملکی چیف ایگزیکٹوز کی جگہ سعودی سربراہان آئے اور غیرملکی ماہرین کے غیرمعمولی تنخواہی پیکج کم ہونے لگے۔

سعودی عرب کا دروازہ بند نہیں ہوا؛ یہ روایتی ملازمتوں کے لیے تنگ اور ایسی مہارت کے لیے کشادہ ہوگیا ہے جسے آسانی سے بدلا نہ جاسکے۔

سعودی وزارتِ افرادی قوت نے غیرملکی کارکنوں کے ورک پرمٹ کو اعلیٰ مہارت، ہنرمند اور بنیادی زمروں میں تقسیم کرنا شروع کیا ہے۔ 

درجہ بندی میں تعلیم، تجربہ، پیشہ، تنخواہ اور مطلوبہ مہارتیں دیکھی جاتی ہیں۔ 

اس لئے تصدیق شدہ سند، تخصصی تجربہ اور درست پیشہ پہلے سے زیادہ اہم ہوگئے ہیں۔

مستقبل کے بہتر مواقع مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، بائیو ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، پانی، کان کنی، خلائی نظام، جدید سپلائی چین اور بڑے منصوبوں کے تکنیکی آپریشنز میں پیدا ہوسکتے ہیں۔

غیرملکی ملازم کیا کرے؟

ہر ملازم کو اپنے پیشے کی سعودائزیشن کی شرح اور نفاذ کی تاریخ معلوم کرنی چاہیے۔ 

’قویٰ‘ کے معاہدے اور اقامے میں درج پیشہ درست ہونا، اسناد کی تصدیق اور ضروری پیشہ ورانہ منظوری حاصل کرنا بھی لازمی ہے۔

ملازم کو ڈیجیٹل صلاحیتوں اور اپنے شعبے سے متعلق مصنوعی ذہانت کے اوزار سیکھنے چاہئیں۔ 

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

اسے محض ہدایات پر عمل کرنے والے ملازم کے بجائے ایسا ماہر بننا ہوگا جو اخراجات کم، پیداوار بہتر، ٹیم کو تربیت یا نئی ٹیکنالوجی متعارف کراسکے۔

نئی پیشکش میں صرف بنیادی تنخواہ نہیں بلکہ رہائش، بچوں کی تعلیم، طبی بیمہ، ٹرانسپورٹ، ٹکٹ، اختتامی واجبات، آزمائشی مدت اور معاہدہ ختم کرنے کی شرائط بھی دیکھی جانی چاہئیں۔

دروازہ بند نہیں ہوا، شرائط بدل گئی ہیں

سعودی عرب کو خلائی صنعت، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانکس، بائیو ٹیکنالوجی اور عالمی سیاحتی منصوبوں کے لئے بین الاقوامی تجربہ بدستور درکار ہے۔ 

مگر غیرملکی ہونے کی بنیاد پر ملنے والی خودکار ترجیح کا دور ختم ہورہا ہے۔

پاکستانیوں کے لیے یہ تبدیلی خوف اور موقع دونوں کا پیغام رکھتی ہے۔ 

صرف طویل ملازمت اور پرانے عہدے پر انحصار کرنے والوں کے لئے جگہ تنگ ہوسکتی ہے، لیکن حقیقی تخصص رکھنے اور نئے شعبوں کے لیے خود کو تیار کرنے والوں کے لیے مواقع باقی رہیں گے۔

سعودی عرب کا دروازہ بند نہیں ہوا، یہ روایتی ملازمتوں کے لیے تنگ اور ایسی مہارت کے لئے کشادہ ہوگیا ہے جسے آسانی سے بدلا نہ جاسکے۔  

اصل اور معتبر ذرائع سعودی کمپنیوں کی قیادت، غیرملکی افرادی قوت اور سعودائزیشن 10 SOURCES
favicons?domain=ft فنانشل ٹائمز — سعودی کمپنیوں میں مقامی قیادت پی آئی ایف کی بعض کمپنیوں میں غیرملکی چیف ایگزیکٹوز کی جگہ سعودی افسران کی تقرری اور اخراجات و کارکردگی کے جائزے کی تفصیلات۔ FT اصل رپورٹ ↗ favicons?domain=reuters رائٹرز — غیرملکی ماہرین کی تنخواہی مراعات میں کمی ریکروٹمنٹ ماہرین کے مطابق غیرملکی امیدواروں کے غیرمعمولی اضافی پیکجز کم کرکے تنخواہوں کو مارکیٹ اور کارکردگی سے قریب لایا جارہا ہے۔ REUTERS اصل رپورٹ ↗ favicons?domain=pif.gov پبلک انویسٹمنٹ فنڈ — حکمت عملی 2026–2030 پائیدار قدر، سرمایہ کاری کی کارکردگی، طویل مدتی منافع اور نجی شعبے کی وسیع شرکت کی جانب منتقلی کا سرکاری خاکہ۔ PIF سرکاری بیان ↗ favicons?domain=neospacegroup نیو اسپیس گروپ — ہیثم الفرج کی تقرری 9 اپریل 2026 کو ہیثم الفرج کو چیف ایگزیکٹو مقرر کرکے بانی سربراہ مارٹن بلانکن کی جگہ قیادت منتقل کرنے کا سرکاری اعلان۔ NSG اصل اعلامیہ ↗ favicons?domain=hrsd.gov غیرملکی ورک پرمٹس کی مہارتی درجہ بندی غیرملکی کارکنوں کو پیشے، تعلیم، تجربے، تنخواہ اور مہارت کی بنیاد پر اعلیٰ مہارت، ہنرمند اور بنیادی درجوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ۔ HRSD سرکاری بیان ↗ favicons?domain=hrsd.gov خریداری کے پیشوں میں 70 فیصد سعودائزیشن 31 مئی 2026 سے پروکیورمنٹ، کنٹریکٹس، گودام، لاجسٹکس، ای کامرس اور مارکیٹ ریسرچ سمیت 12 پیشوں پر اطلاق۔ HRSD اصل اعلامیہ ↗ favicons?domain=hrsd.gov انجینئرنگ کے 46 پیشوں میں سعودائزیشن 30 جون 2026 سے پانچ یا زیادہ انجینئر رکھنے والے نجی اداروں میں 30 فیصد سعودائزیشن اور پیشہ ورانہ منظوری کی شرط۔ HRSD اصل فیصلہ ↗ favicons?domain=hrsd.gov اکاؤنٹنگ کے 44 پیشوں میں سعودائزیشن پانچ یا زیادہ اکاؤنٹنٹس رکھنے والے اداروں میں پہلے مرحلے کی شرح 40 فیصد، جس میں مالیاتی انتظام اور آڈٹ کے اہم عہدے شامل ہیں۔ HRSD سرکاری بیان ↗ favicons?domain=hrsd.gov سیاحت کے 41 پیشوں کی مرحلہ وار سعودائزیشن ہوٹل مینجمنٹ، آپریشنز، ٹریول ایجنسی، سیاحتی ترقی، ٹور آرگنائزنگ اور استقبالیہ سمیت مختلف پیشے فیصلے میں شامل ہیں۔ HRSD اصل فیصلہ ↗ favicons?domain=stats.gov سعودی محکمۂ شماریات — لیبر مارکیٹ کے اعداد 2025 کی دوسری سہ ماہی میں سعودی شہریوں کی بے روزگاری 6.8 فیصد اور سعودی خواتین کی افرادی قوت میں شرکت 34.5 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ GASTAT اصل رپورٹ ↗

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے