امریکا لڑائی کو وسیع جنگ میں بدلنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ تہران نے خطے کو جوابی کارروائی سے خبردار کردیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جاری حملوں کو ایک وسیع فوجی مہم میں تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ممکنہ اہداف میں بجلی گھر، پل، جوہری تنصیبات اور تہران کے قریب اہم مراکز شامل ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے اپنی شرکت کا فیصلہ نہیں کیا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے مفادات غیر محفوظ ہوئے تو خطے کی توانائی اور بنیادی تنصیبات بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی محاذ آرائی ایک مزید خطرناک موڑ کے قریب پہنچ گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں بحث اب صرف آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محفوظ بنانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایران کے اندر ایک وسیع فوجی مہم شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے اہداف تہران اور ملک کی اہم اسٹریٹجک تنصیبات تک پھیل سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی دھمکیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ اگر اس کے قومی اور معاشی مفادات محفوظ نہیں رہتے تو خطے کی توانائی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ مسلسل گیارہویں رات تک جاری رہنے کے بعد اب سوال کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا نہیں، بلکہ ان کے حجم اور آئندہ دائرۂ کار کا ہے۔
مزید پڑھیں
واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہے کہ حملے ایرانی میزائلوں، ڈرونز، ساحلی دفاع اور ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے والی تنصیبات تک محدود رکھے جائیں یا انہیں ایسی بھرپور مہم میں تبدیل کردیا جائے جو تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی جوہری شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کردے۔
’ایکسوس‘ کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں قومی
سلامتی کی اعلیٰ ٹیم کا اجلاس طلب کیا، جس میں جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف جاری کارروائیوں سے کہیں زیادہ وسیع حملوں کے منصوبے پیش کیے گئے۔
زیرِ غور آپشنز میں بجلی گھر، پل، فوجی مراکز اور جوہری تنصیبات شامل ہیں۔
امریکا مبینہ طور پر ’پِک ایکس ماؤنٹین‘ نامی زیرِ زمین مقام کو بھی نشانہ بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، جس کے بارے میں واشنگٹن اور تل ابیب کو شبہ ہے کہ اسے ایرانی جوہری پروگرام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
! یہ کیوں اہم ہے؟
یہ معاملہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان فوجی تصادم تک محدود نہیں رہا، بلکہ آبنائے ہرمز، عالمی توانائی کی ترسیل اور خلیجی ممالک کی سلامتی سے براہِ راست جڑ چکا ہے۔
اگر امریکا ایرانی بجلی گھروں، پلوں یا تہران کے قریب اہم تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو ایران خلیج میں امریکی اڈوں، بحری جہازوں اور توانائی کے مراکز کے خلاف جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ تیل کی قیمتوں، فضائی سفر، مال برداری اور اشیائے ضروریہ کی لاگت میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اسرائیل کی ممکنہ شمولیت جنگ کو مزید وسیع کرکے خطے میں نئے محاذ بھی کھول سکتی ہے۔
ٹرمپ نے ابھی کسی حتمی منصوبے کی منظوری نہیں دی، لیکن امریکی فوجی تیاریاں بتاتی ہیں کہ انتظامیہ ممکنہ تصادم کے لیے عملی طور پر خود کو تیار کر رہی ہے۔
واشنگٹن نے اسرائیل کو آگاہ کیا ہے کہ وہاں مزید کئی درجن فضائی ٹینکر بھیجے جائیں گے، جن کی مدد سے طویل فاصلے تک مسلسل فضائی کارروائیاں ممکن بنائی جاسکتی ہیں۔
ان اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ وسیع حملہ ناگزیر ہوچکا ہے، تاہم یہ صدر ٹرمپ کو فوری طور پر استعمال کیے جانے والے فوجی آپشنز فراہم کرتے ہیں، بالخصوص اس صورت میں جب ایران جہازوں پر حملے روکنے یا جوہری معاملے پر رعایت دینے سے انکار کرتا ہے۔
اسرائیل کا محتاط انتظار
اسرائیل ممکنہ امریکی فوجی مہم میں شراکت دار بن سکتا ہے، لیکن تل ابیب نے ابھی اپنی براہِ راست شرکت کا فیصلہ نہیں کیا۔
اسرائیلی رپورٹس کے مطابق حکومت ایسی کارروائی میں داخل ہونے سے گریز کرنا چاہتی ہے جسے چند روز بعد امریکی دباؤ پر روکنا پڑے۔
اسرائیل چاہتا ہے کہ کسی بھی ممکنہ مہم میں داخل ہونے سے پہلے اس کے اہداف، مدت اور اختتامی حکمتِ عملی واضح ہوں۔
تل ابیب کو خدشہ ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایک نئی جنگی مہم شروع کرے اور پھر واشنگٹن مذاکرات یا جنگ بندی کے لیے اسے اچانک رکنے کا حکم دے دے۔
اسی دوران موساد کے نئے سربراہ رومان گوفمین نے تقریباً دو ہفتے قبل واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
بات چیت میں ایران کے خلاف جنگ، جوہری پروگرام اور مذاکرات کی پیش رفت زیرِ بحث آئی۔
یہ ملاقات آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے اور وسیع لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی۔
اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ریٹکلف امریکی انتظامیہ کے ان عہدیداروں میں شامل تھے جو ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے مستقبل کے بارے میں ابتدا ہی سے شکوک رکھتے تھے۔
ہر جہاز کے بدلے ایک تنصیب
صدر ٹرمپ نے کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ کردیا جب انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں امریکا ایران کا ایک پل یا بجلی گھر تباہ کردے گا۔
ان کے مطابق اہداف تہران کے قریب یا دارالحکومت کے اندر بھی ہوسکتے ہیں۔
یہ دھمکی امریکی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔
اس سے پہلے حملوں کا مرکز وہ ایرانی عسکری صلاحیتیں تھیں جو جہازوں کے خلاف استعمال ہوتی ہیں، لیکن اب واشنگٹن بنیادی ڈھانچے کو بھی اپنی جوابی کارروائی کا حصہ بنانے کی دھمکی دے رہا ہے۔
i فیکٹ باکس
اگر اس پالیسی پر عمل کیا گیا تو جنگ کا دائرہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور ایران خطے میں توانائی، پانی صاف کرنے کے مراکز اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کا اصول اب واضح ہے: یا سب کے لیے تحفظ ہوگا یا کسی کے لیے نہیں۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو خطے میں اپنا تیل فروخت کرنے سے روکا گیا تو کسی دوسرے ملک کو بھی تیل فروخت نہیں کرنے دیا جائے گا۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتِ حال جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں جائے گی اور اس آبی گزرگاہ کا تحفظ امریکی افواج کی عدم موجودگی سے مشروط ہے۔
سفارت کاری کی کھڑکی ابھی مکمل بند نہیں
موجودہ بحران کی جڑیں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ سے ملتی ہیں۔
بعد ازاں پاکستان کی قیادت میں ہونے والی ثالثی کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران نے 17 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔
اس دستاویز میں فوجی کارروائیاں روکنے، ہرمز کو عارضی طور پر بغیر فیس کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور بحری انتظامات پر 60 روزہ مذاکرات شروع کرنے کی شقیں شامل تھیں۔
تاہم 7 جولائی کو جہازوں پر حملے دوبارہ شروع ہونے اور امریکا کی وسیع جوابی کارروائی کے بعد یہ سمجھوتا عملی طور پر ٹوٹ گیا۔
اس کے بعد دونوں فریق طاقت کے استعمال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اگرچہ سفارتی حل کی محدود کھڑکی اب بھی کھلی رکھی گئی ہے۔
➜ آگے کیا ہوگا؟
وسیع امریکی حملے
ٹرمپ ایران کے بجلی گھروں، پلوں، جوہری مراکز اور دیگر اہم تنصیبات پر حملوں کی منظوری دے سکتے ہیں۔ اس صورت میں جنگ ہرمز سے نکل کر تہران اور وسطی ایران تک پھیل جائے گی۔
ایرانی جوابی کارروائی
ایران خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں، بحری جہازوں یا توانائی اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے خطے کے ممالک براہِ راست جنگ کی زد میں آسکتے ہیں۔
اسرائیل کی ممکنہ شمولیت
ایران کے اسرائیل پر حملے، کسی فوری خطرے یا واشنگٹن کی باضابطہ درخواست کی صورت میں اسرائیل فضائی اور انٹیلی جنس کارروائیوں میں شامل ہوسکتا ہے۔
عارضی جنگ بندی
پاکستان، قطر، مصر اور دیگر ثالث عارضی جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھ سکتے ہیں۔ کامیابی کی صورت میں حملے روک کر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جاسکتے ہیں۔
طویل جنگِ استنزاف
اگر فوجی فیصلہ نہ ہوا اور سفارتی سمجھوتا بھی ناکام رہا تو محدود حملے، بحری ناکہ بندی اور جوابی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں۔ یہ خلیج اور عالمی معیشت کے لیے سب سے مہنگا منظرنامہ ہوگا۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اگر تہران سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ بمباری اور فوجی دباؤ کے سائے میں بات چیت دوبارہ شروع نہیں ہوسکتی۔
یوں آبنائے ہرمز محض ایک بحری راستہ نہیں رہا بلکہ پوری جنگ کا مرکزی میدان بن چکا ہے۔ امریکا جنگ سے پہلے کی آزاد جہاز رانی بحال کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران ایک ایسا نیا علاقائی انتظام مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں اسے زیادہ کنٹرول اور اثرورسوخ حاصل ہو۔
اگر امریکی حملے تہران، بجلی گھروں اور زیرِ زمین جوہری مراکز تک پھیلتے ہیں تو یہ صرف فوجی کارروائی میں توسیع نہیں ہوگی، بلکہ ایک ایسی کھلی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے جس کی سرحدیں متعین کرنا اور اسرائیل سمیت خلیجی ممالک کو اس سے محفوظ رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔
🌍
اصل اور معتبر ذرائع
امریکا۔ایران جنگ، آبنائے ہرمز، باب المندب، امریکی حکمتِ عملی اور فوجی پیش رفت سے متعلق بنیادی بین الاقوامی ذرائع
10 معتبر ذرائع
اصل اور معتبر ذرائع
امریکا۔ایران جنگ، آبنائے ہرمز، باب المندب، امریکی حکمتِ عملی اور فوجی پیش رفت سے متعلق بنیادی بین الاقوامی ذرائع