براہ راست نشریات

فارنبرو ایئرشو: مسافر طیاروں پر دفاعی ہتھیار غالب آگئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فارنبرو ایئرشو میں جدید جنگی طیاروں اور دفاعی ہتھیاروں کی نمائش
فارنبرو ایئر شو کا یہ منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ عالمی دفاعی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں (فوٹو: اے آئی)

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی اور عسکری اخراجات میں اضافے کے باعث فارنبرو ایئر شو کا مرکز اب شہری ہوا بازی کے بجائے دفاعی صنعت بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں

اس شو میں جنگی ٹیکنالوجی اور ڈرون سسٹمز کی مانگ نے روایتی طیارہ ساز کمپنیوں کے اثرورسوخ کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔

فارنبرو ایئر شو میں دفاعی سیکٹر کا غیر معمولی غلبہ

رواں سال 20 سے 24 جولائی کے درمیان منعقد ہونے والے  فارنبرو ایئر شو میں دفاعی کمپنیوں کی شرکت کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ماضی میں 40 فیصد تھی۔

عالمی سطح پر سرد جنگ کے بعد دفاعی اخراجات میں یہ سب سے بڑا اضافہ ہے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر حکومتیں اب جدید ترین ہتھیاروں اور دفاعی نظاموں پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

سیکیورٹی چیلنجز اور عسکری حکمت عملی

رائل ایئر فورس کمانڈر ہارف اسمتھ کے مطابق عالمی سیکیورٹی ماحول دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور غیر مستحکم ہو چکا ہے۔

یوکرین جنگ کے پانچویں سال میں داخلے اور ایران امریکہ جنگ بندی کے خاتمے نے دنیا بھر میں عسکری ضرورتوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے اثرات ایئر شو میں واضح ہیں۔

فارنبرو ایئرشو میں جدید جنگی طیاروں اور دفاعی ہتھیاروں کی نمائش
فارنبرو انٹرنیشنل ایئر شو میں فوجی صنعتوں میں دلچسپی بڑھ گئی ہے (فوٹو: الجزیرہ)

مصنوعی ذہانت اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں کا کردار

اس سال کے ایئر شو میں 1600 نمائش کنندگان میں جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی نئی کمپنیاں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسٹارٹ اپ کمپنیاں جنگی ڈرون اور سافٹ ویئر کی تیاری میں ایسی ہی انقلابی تبدیلی لا رہی ہیں، جیسی خلائی تحقیق کے شعبے میں اسپیس ایکس نے متعارف کرائی تھی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

ڈرون بمقابلہ روایتی لڑاکا طیارے

اگرچہ بوئنگ کے ’ایم کیو-28 گوسٹ بیٹ’ جیسے جدید خودکار ڈرونز توجہ کا مرکز ہیں، لیکن دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ اب بھی ’ایف-35‘اور ’یوروفائٹر‘ جیسے روایتی لڑاکا طیاروں پر خرچ ہو رہا ہے۔

فارنبرو ایئرشو میں جدید جنگی طیاروں اور دفاعی ہتھیاروں کی نمائش
MQ-28 گھوسٹ بیٹ ڈرون (فوٹو: الجزیرہ)

حکومتیں مستقبل کی جنگوں کے لیے ڈرونز اور روایتی فضائی طاقت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایوی ایشن انڈسٹری: طلب اور رسد کا بحران

موجودہ دور میں تجارتی سطح پر بوئنگ اور ایئر بس کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

طیاروں کی فروخت کے آرڈرز تو موجود ہیں، لیکن انجن، سیٹیں اور دیگر پرزہ جات کی عالمی قلت نے پیداوار کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔ 

کمپنیاں اب ہوائی جہاز کے پرزے پہنچانے کے لیے ’انتونوف 124‘جیسے بڑے کارگو طیارے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

فارنبرو ایئرشو میں جدید جنگی طیاروں اور دفاعی ہتھیاروں کی نمائش
ایئربس کو بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان ہوائی جہاز کی پیداوار میں چیلنجز کا سامنا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

مستقبل کا منظرنامہ

فلبینی ایئرلائنز کی بڑی ڈیلز ثابت کرتی ہیں کہ کمرشل ایوی ایشن میں مانگ اب بھی موجود ہے، مگر اصل امتحان طیاروں کی بروقت فراہمی ہے۔

فارنبرو ایئر شو کا یہ منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ عالمی دفاعی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں، جہاں اب مہنگے اور طویل مدتی منصوبوں کے بجائے فوری، سستی اور تکنیکی اعتبار سے خودکار جنگی صلاحیتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔