مراکشی معاشرے میں بیرون ملک سفر کرنے اور ہجرت کرنے کا خواب کوئی نیا نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
نسلوں سے مراکشی نوجوانوں کے دل و دماغ پر یورپ، امریکہ اور کینیڈا جانے کا سحر طاری رہا ہے، جہاں وہ قانونی طریقوں سے یا پھر موت کے راستوں (کشتیوں) کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ چند برسوں میں ہجرت کے روایتی رجحانات میں ایک حیران کن تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
اب یورپ کے ساتھ ساتھ ایک ایسی منزل مراکشی نوجوانوں کی توجہ کا
مرکز بن رہی ہے جس کی اپنی معاشی صورتحال مراکش سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔
یہ نئی منزل لاطینی امریکہ کا سب سے بڑا ملک برازیل ہے، جو کبھی صرف سیاحت، فٹبال اور ساحلی تفریحات کے لیے جانا جاتا تھا، مگر اب مراکشی نوجوانوں کے لیے خوابوں کی سرزمین بنتا جا رہا ہے۔
تارکینِ وطن کی نئی دنیا اور سوشل میڈیا کا کردار
برازیل میں مراکشی تارکینِ وطن کی تعداد میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا، خصوصاً یوٹیوب اور واٹس ایپ نے اس رجحان کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انٹرنیٹ پر مراکشی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد (انفلوئنسرز) کے وی لاگز نے مراکشی نوجوانوں کو ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔
یہ انفلوئنسرز نہ صرف برازیل کی ثقافت اور طرزِ زندگی کو متعارف کرواتے ہیں، بلکہ کاسابلانکا، رباط، مراکش، اکادیر اور طنجہ جیسے شہروں سے ساو پاؤلو، ریو ڈی جنیرو، برازیلیا، سلفاڈور اور فورٹالیزا منتقل ہونے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے بطور مائیگریشن گائیڈز کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے واٹس ایپ پر ایسے متعدد گروپس بنا رکھے ہیں جہاں رہائش، روزگار، سفری دستاویزات، تعلیم اور صحت سے متعلق معلومات کا تبادلہ 24 گھنٹے جاری رہتا ہے۔
ہجرت کی خواہش اور اعداد و شمار
مراکش کے سرکاری تحقیقی ادارے (ہائی کمیشن فار پلاننگ) نے 2018 سے 2020 کے دوران 15,000 مراکشی خاندانوں پر ایک جامع سروے کیا تھا۔
اس تحقیق کے مطابق اُس وقت 70 فیصد سے زائد مراکشی شہری ملک چھوڑنا نہیں چاہتے تھے اور ہجرت کی بنیادی وجہ معاشی دباؤ (73.5 فیصد) اور سماجی وجوہات (21.8 فیصد) تھیں۔
تاہم کورونا وبا کے بعد پیدا ہونے والے عالمی معاشی بحران نے اس صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اگست 2024 میں جاری ہونے والی Arab Barometer کی ایک رپورٹ، جس کا عنوان ’مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہجرت کے بارے میں عوامی رائے‘ تھا، ظاہر کرتی ہے کہ اب ہجرت کے خواہشمند مراکشی شہریوں کی شرح بڑھ کر 35 فیصد ہو چکی ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ 18 سے 29 سال کی عمر کے 55 فیصد مراکشی نوجوان ملک چھوڑنے کے خواہاں ہیں، جبکہ 30 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح 24 فیصد ہے۔
مراکشی نوجوانوں کی برازیل ہجرت کا نیا رجحان
روایتی یورپی راستوں کے متبادل لاطینی امریکہ کی طرف بڑھتا ہوا جھکاؤ اور سماجی آزادی کی تلاش
مراکش میں معاشی تفاوت اور سماجی دباؤ کے باعث نوجوانوں کی بڑی تعداد اب یورپ کے بجائے برازیل کا رخ کر رہی ہے، جہاں آزاد طرزِ زندگی اور آسان شہریت کا حصول بڑی کشش ہے۔
📈 نوجوانوں میں ہجرت کی خواہش
18 سے 29 سال کی عمر کے نصف سے زائد مراکشی نوجوان اب اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔
🎓 اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ
ہجرت کے خواہشمندوں میں بڑی شرح یونیورسٹی ڈگری ہولڈرز کی ہے۔
📊 مجموعی ملکی رجحان
کورونا وبا کے بعد ملک چھوڑنے کے خواہشمند کل شہریوں کی شرح میں اضافہ ہوا۔
🌍 یورپی ویزا کا متبادل راستہ
برازیل کا پاسپورٹ بغیر ویزا کے شینگن زون (یورپ) میں داخلے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو نوجوانوں کے لیے ایک آسان متبادل بن چکا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس سروے نے ایک اور اہم پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ ملک چھوڑنے کا خواب دیکھنے والوں میں 42 فیصد وہ نوجوان ہیں جو یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈرز ہیں، جبکہ 33 فیصد سیکنڈری اسکول یا اس سے کم تعلیم یافتہ ہیں۔
مزید برآں 53 فیصد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اگر انہیں قانونی دستاویزات نہ بھی ملیں، تب بھی وہ غیر قانونی یا خفیہ طریقے سے ملک چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
جون 2024 میں مراکشی ویب سائٹ لوبینیون کی رپورٹ کے مطابق سال 2023 میں 487 مراکشی شہریوں نے برازیل میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں، جس کے بعد برازیل میں پناہ گزینوں کی فہرست میں مراکش نویں نمبر پر آ گیا ہے۔
تاریخی پس منظر اور سفارتی تعلقات
مراکش اور برازیل کے تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ سلطنتِ مراکش پہلا افریقی ملک تھا جس نے 1822 میں پرتگال سے برازیل کی آزادی کو تسلیم کیا اور بعد میں 1889 میں قائم ہونے والی برازیلین جمہوریہ کو بھی فوری طور پر تسلیم کیا۔
اگرچہ مراکش نے برازیل میں اپنا سفارت خانہ 1967 میں قائم کیا۔ ان تعلقات میں مراکشی نژاد یہودی برادری کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔
انیسویں صدی میں یہودی حاخام (ربی) شالوم ایمانوئل مویال 1908 میں مراکش سے برازیل کے ایمیزون خطے میں ایک انسانی مشن پر آئے تھے اور 1910 میں وہیں انتقال کر گئے۔
آج بھی ایمیزون کے دل میں واقع شہر ماناوس کے قریب ان کا مزار ایک تاریخی و سیاحتی مقام ہے، جسے مقامی حکام نے مراکش یا اسرائیل منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
آج برازیل کے یہودیوں کا تقریباً 20 فیصد حصہ مراکشی نژاد یہودیوں پر مشتمل ہے۔ اس تاریخی تعلق کے علاوہ فرانسیسی محقق لورینٹ وِڈال کی کتاب ’مزاگاؤ‘ کے مطابق مراکش میں پرتگالیوں کا تاریخی قلعہ ’ مزاگاؤ ‘ (جدیدہ) جسے 1769 میں خالی کیا گیا تھا، ایمیزون کے جنگلات میں اسی نام کی ایک بستی کی بنیاد بنا، جو دونوں خطوں کے پرانے روابط کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
برازیل ہی کیوں؟
حالیہ ہجرت کرنے والے زیادہ تر نوجوانوں کی عمریں 30 سال سے کم ہیں، جن کا تعلق فاس، رباط، سلا، اور کاسا بلانکا جیسے بڑے شہروں یا وجدہ اور برکان جیسے مشرقی علاقوں سے ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوجوان برازیل ہی کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں؟
عالمی توانائی ایجنسی (IEA) یا ورلڈ بینک جیسے عالمی اداروں کے معاشی تقابل کو دیکھیں تو برازیل میں کم از کم سرکاری اجرت 1,621 برازیلین ریال (تقریباً 295 ڈالر) ہے، جبکہ مراکش میں یہ تقریباً 275 ڈالر ہے۔
یعنی معاشی طور پر دونوں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے۔ درحقیقت برازیل کا انتخاب صرف معیشت کے لیے نہیں بلکہ ایک مختلف طرزِ زندگی اور سماجی آزادی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
بہت سے نوجوان مراکش کے روایتی اور قدامت پسند معاشرے کے مقابلے میں برازیل کے آزاد ماحول کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ ان نوجوانوں کا حتمی ہدف برازیل کی مستقل رہائش یا کسی برازیلین شہری سے شادی کر کے وہاں کی شہریت حاصل کرنا بھی ہوتا ہے۔
برازیل کا پاسپورٹ بغیر ویزا کے یورپ (شینگن زون) اور دنیا کے متعدد ممالک میں داخلے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جو ان کے لیے یورپ کا ایک متبادل اور آسان راستہ بن جاتا ہے۔
معاشی ترقی اور سماجی تفاوت کا تضاد
مراکش نے حالیہ برسوں میں دار البیضا (کاسابلانکا) کو ایک عالمی مالیاتی مرکز بنانے کے لیے ’کاسابلانکا فنانس سٹی‘ جیسے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں، جس کی بدولت گلوبل فنانشل سینٹرز انڈیکس (GFCI) کے مطابق یہ شہر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کا تیسرا بڑا مالیاتی مرکز بن چکا ہے۔
شہر میں فلک بوس عمارتیں، جدید مالز اور غیر ملکی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن اس چمک دمک کے باوجود، معاشرے کی نچلی اور متوسط کلاس میں فقر اور سماجی تفاوت برقرار ہے۔
بڑے شہر نوجوانوں میں سماجی ترقی اور گاڑی و مکان کی شکل میں کامیابی کا معیار تو بلند کر دیتے ہیں، لیکن جب مقامی مارکیٹ ان کے خوابوں کو پورا نہیں کر پاتی تو ہجرت ہی واحد راستہ نظر آتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مراکش کے نوجوانوں کا برازیل کی طرف رُخ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہجرت کا تصور اب صرف روایتی معاشی نظریات تک محدود نہیں رہا۔
یہ ایک ایسی نفسیاتی کیفیت کا نام ہے جہاں انسان کو لگتا ہے کہ حقیقی زندگی ہمیشہ کسی دوسرے ساحل پر موجود ہے۔
یہ رجحان واضح کرتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں کے لیے ہجرت اب محض ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں، بلکہ سماجی شناخت، انفرادی آزادی اور مستقبل کو محفوظ بنانے کا ایک پیچیدہ سماجی اور نفسیاتی عمل بن چکی ہے، جس کے لیے وہ اپنے بنے بنائے گھر اور وطن کو چھوڑ کر 7 سمندر پار لاطینی امریکہ کی گلیوں میں بھی پناہ لینے کو تیار ہیں۔