یورپی یونین اور اسرائیل شراکت داری کے خلاف ایک بڑی عوامی مہم اپنے اہم سنگ میل تک پہنچ گئی ہے۔
مزید پڑھیں
یورپی فلسطینی کونسل برائے سیاسی تعلقات نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کی شراکت داری کو معطل کرنے کے لیے 13 لاکھ (1.3 ملین) یورپی شہریوں نے دستخط کر دیے ہیں۔
عوامی حمایت اور دستخطی مہم کی کامیابی
یورپی یونین اور اسرائیل شراکت داری ختم کرنے کی یہ تحریک، جسے یورپی بائیں بازو کی حمایت حاصل تھی، توقع سے زیادہ کامیاب رہی۔
اس مہم میں مجموعی طور پر 12 لاکھ 99 ہزار 914 دستخط جمع کیے گئے۔ منتظمین نے مقررہ ایک سال کے بجائے صرف 6 ماہ میں یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔
یہ مہم 13 اپریل 2026 کو 10 لاکھ کے ہندسے تک پہنچی تھی، جس کے بعد آخری 3 ماہ میں اس مہم میں مزید 3 لاکھ دستخطوں کا اضافہ ریکارڈ ہوا۔
یورپی کونسل کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار یورپی یونین کے اداروں کو ان کی سیاسی اور قانونی ذمہ داریوں کی یاد دلاتے ہیں۔
14 ممالک میں عوامی ریفرنڈم کا اثر
یورپی قوانین کے مطابق ایسی کسی بھی مہم کو کامیاب ہونے کے لیے صرف 7 ممالک میں مقررہ حد عبور کرنی ہوتی ہے، تاہم یہ مہم 14 یورپی ممالک میں کامیاب رہی ہے۔
اس کامیابی میں سلووینیا جیسے ممالک بھی شامل ہیں جہاں کامیابی کی شرح 97.09 فیصد تک پہنچ گئی۔
یورپی فلسطینی کونسل کے مطابق 27 میں سے 14 ممالک میں کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی رائے عامہ اسرائیل اور فلسطینی مسئلے پر تیزی سے بدل رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق مہم کے یہ غیر معمولی نتائج محض ہندسے نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسرائیل سے شراکت داری کے خاتمے کا مطالبہ
14 یورپی ممالک میں تاریخی عوامی مہم کی شاندار کامیابی
یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان معاشی و سیاسی تعلقات کی معطلی کے لیے لاکھوں شہریوں نے دستخط کر کے پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھا دیا۔
✍️ کل جمع شدہ دستخط
1.3 ملینمجموعی طور پر 12 لاکھ 99 ہزار 914 یورپی شہریوں نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے منسوخ کرنے کی تائید کی۔
🌍 مہم میں کامیاب ممالک
14 / 27قانون کے تحت صرف 7 ممالک کی ضرورت تھی لیکن 14 ممالک نے مقررہ حد عبور کر کے اس تحریک کو کامیاب بنایا۔
⏳ ریکارڈ مدت میں کامیابی
6 ماہطے شدہ ایک سال کے ہدف کے برعکس، منتظمین نے صرف نصف وقت میں دستخطی مہم مکمل کر لی۔
📈 فرانس میں غیر معمولی ردعمل
8 گنافرانسیسی عوام نے مہم کی سب سے زیادہ حمایت کی اور وہاں طے شدہ ہدف سے 8 گنا زائد دستخط ریکارڈ ہوئے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
سیاسی دباؤ اور عوامی مطالبات
یورپی فلسطینی کونسل برائے سیاسی تعلقات کے سربراہ ماجد الزیر نے کہا کہ 13 لاکھ شہریوں کے دستخط ایک ایسا سیاسی ٹول بن چکا ہے، جو اسرائیل کے ساتھ موجودہ شراکت داری کو معطل کروانے کی طاقت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی عوام اب اسرائیل کو حاصل معاشی اور سیاسی مراعات کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ماجد الزیر نے مزید کہا کہ اب سوال یہ نہیں کہ یورپی عوام کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ یورپی یونین کے ادارے اپنے شہریوں کے اس واضح مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے کب عملی اقدامات اٹھاتے ہیں۔
یہ احتجاجی مہم اب اخلاقی حمایت سے نکل کر پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
جرمنی اور فرانس میں مہم کا رجحان
فرانس اس مہم میں سب سے آگے رہا، جہاں طے شدہ ہدف سے 8 گنا زیادہ دستخط کیے گئے۔
اٹلی، اسپین، بیلجیئم، ہالینڈ، فن لینڈ اور سویڈن میں بھی بھرپور عوامی حمایت دیکھی گئی۔ اسی طرح جرمنی کا ہدف عبور کرنا خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہاں اسرائیل کی حمایت میں سخت سیاسی اور میڈیا پابندیاں موجود ہیں۔
جرمنی میں کامیاب مہم کا مطلب ہے کہ یورپی معاشروں میں دہائیوں سے جاری روایتی بحث کا انداز بدل رہا ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سخت سیاسی ماحول کے باوجود جرمن شہریوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور یورپی کمیشن کا کردار
دستخطی مہم کا اختتام اس تحریک کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
اب تمام دستخطوں کی جانچ پڑتال متعلقہ حکام کریں گے، جس کے بعد معاملہ یورپی کمیشن کو بھجوایا جائے گا اور پھر یورپی پارلیمنٹ میں عوامی سماعت کا انعقاد کیا جائے گا۔
یورپی یونین کے اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسے صرف ایک دستخطی مہم کے بجائے ایک عوامی مینڈیٹ کے طور پر دیکھیں۔
کونسل نے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر دباؤ بڑھانے کا عزم کیا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ شراکت داری معطل ہو سکے۔
موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یورپی شہریوں اور حکومتوں کی پالیسیوں کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔
اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے خاتمے کا یہ مطالبہ اس بات کی علامت ہے کہ یورپی رائے عامہ اب اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور پالیسیوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہے۔