انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے 70 ارب یورو کی فوجی امداد اور اجتماعی دفاع کے اصول کی بحالی پر کامیابی کا اعلان کیا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی صدر کے اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے واشنگٹن کو بحرانی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق امریکی انتظامیہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے جو خاکہ تیار کیا تھا، ایران نے اسے مسترد کرتے ہوئے مزاحمتی حکمت عملی اپنائی ہے۔
اسی طرح تہران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرات برقرار رکھے اور حزب اللہ کو لبنان میں دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا مقصد آبنائے ہرمز کو ایک ایسے راستے میں بدلنا ہے جہاں سے گزرنے کے لیے اسے ٹول ٹیکس دیا جائے۔
ایران کا ہدف امریکی بحریہ کو شکست دینا نہیں بلکہ شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں میں یہ خوف پیدا کرنا ہے کہ ہر سفر ایک ممکنہ عسکری تصادم بن سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بحران اور امریکی چیلنج
ایران کی مزاحمتی حکمت عملی اور واشنگٹن کے لیے مربوط پالیسی کا مطالبہ
نیٹو اجلاس میں فوجی امداد کا اعلان
افزودہ یورینیم کے ذخائر پر سخت نگرانی کی ضرورت
ایران نے تجارتی جہازوں پر دباؤ بڑھا کر امریکی خاکہ مسترد کر دیا۔
تہران کا ہدف شپنگ کمپنیوں میں عسکری تصادم کا خوف پیدا کرنا ہے۔
امریکہ کو بیوریوکریسی سے نکل کر ایک متحد پریشر ڈاکٹرائن کی ضرورت ہے۔
ایران اپنی حکمت عملی میں جوہری پروگرام، پراکسی فورسز اور توانائی کے راستوں کو ایک ہی محاذ سمجھتا ہے، جبکہ واشنگٹن ان مسائل کو الگ الگ وزارتوں کے کھاتے میں ڈال کر دیکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران ہر بار امریکی دباؤ کو کامیابی سے منتقل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو فوری طور پر 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر، تنصیبات اور کیمروں تک مکمل رسائی کی ضرورت ہے۔
واشنگٹن کو چاہیے کہ جب تک ایران مکمل شفافیت کا مظاہرہ نہ کرے، کسی بھی قسم کی مالی امداد یا ریلیف روک دیا جائے۔
لبنان کے حوالے سے بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، جہاں حزب اللہ کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔
لبنانی فوج کو چاہیے کہ وہ جنوبی لبنان کا مرحلہ وار کنٹرول سنبھالے، جبکہ اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے محض اجلاسوں کے بجائے عملی نتائج دکھانا ہوں گے۔
خطے کی سیکیورٹی کے لیے امریکہ کو ایک وسیع تر اتحادی مشن تشکیل دینا ہوگا، جس میں برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک شامل ہوں۔
اس مشن کا مقصد انٹیلی جنس کا تبادلہ، تجارتی جہازوں کی حفاظت اور بارودی سرنگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سعودی عرب، قطر، عمان اور عراق جیسے ممالک ایران کے دباؤ کا براہ راست شکار ہیں اور وہ امریکی سیکیورٹی شراکت داری پر انحصار کرتے ہیں۔
تاہم یہ ممالک نہیں چاہتے کہ ان کی سرزمین امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا میدان جنگ بنے۔
الجزیرہ پر شائع مارک پیفیل (سابق امریکی نائب مشیر قومی سلامتی) کے اس تجزیے میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کو ایک مربوط ’پریشر ڈاکٹرائن‘ اپنانے کی ضرورت ہے جو تمام محاذوں پر ایرانی سرگرمیوں کا احاطہ کر سکے۔
اگر امریکہ نے اپنی بیوروکریٹک حدود سے نکل کر ایک متحد حکمت عملی نہ اپنائی تو تہران مسلسل نئے چیلنجز کھڑے کرتا رہے گا اور امریکہ صرف جوابی ردعمل تک محدود رہے گا۔