براہ راست نشریات

صرف 10 ڈالر کا چیک 25 ہزار ڈالر میں برائے فروخت کیوں؟ وجہ جانیے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز کے دستخط شدہ نایاب تاریخی چیک کا تصویری خاکہ
ایپل کمپیوٹر کا نام لکھی ایک پرانی تصویر (ٖفوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے شریک بانی اور سابق سی ای او اسٹیو جابز کا دستخط شدہ ایک نایاب چیک نیلامی کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

آر آر آکشن ہاؤس کی جانب سے منعقدہ اس نیلامی میں کئی اہم شخصیات کے دستخط شدہ نوادرات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

اس چیک کی خاص بات اس کا تاریخی پس منظر اور وقت ہے، جس کی تفصیلات ایپل انسائیڈر کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ 

10 ڈالر مالیت کا یہ چیک 4 جولائی 1976 کو جاری کیا گیا تھا، جو امریکہ کے قیام کی 200 سالہ تقریبات کا دن تھا۔

یہ چیک ایپل کمپنی کے قیام کے محض 3 ماہ بعد جاری ہوا، جب اسٹیو جابز اور اسٹیو وزنیاک اپنے گھر کے گیراج میں پہلا کمپیوٹر ایپل ون تیار کر رہے تھے۔

ٹیک مارکیٹ
ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید گیجٹس کی تازہ ترین خبریں، کلک کریں

یہ چیک پیپل کمپیوٹرز نامی کمپنی کے نام پر جاری کیا گیا تھا جس پر جابز کے دستخط موجود ہیں۔

چیک پر درج حروف ڈی ڈی جے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ رقم ڈاکٹر ڈوبس جرنل نامی جریدے کی سالانہ رکنیت کے لیے ادا کی گئی تھی۔ 

یہ جریدہ اس دور میں پروگرامنگ کے حوالے سے ایک اہم اور معروف اشاعتی پلیٹ فارم سمجھا جاتا تھا۔

نیلامی کے عمل میں اب تک اس چیک کے لیے 14 بولیاں موصول ہو چکی ہیں اور اس کی موجودہ قیمت 21 ہزار 962 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

نیلام گھر کو توقع ہے کہ یہ تاریخی دستاویز 25 ہزار ڈالر تک کی حتمی قیمت میں فروخت ہو جائے گی۔ اس نیلامی کا سلسلہ 15 جولائی تک جاری رہے گا۔ 

ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز کے دستخط شدہ نایاب تاریخی چیک کا تصویری خاکہ
ایپل کمپیوٹر کمپنی کا 10 ڈالر کا چیک (فوٹو: العربیہ)

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال امریکہ اپنے قیام کے 250 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے، جبکہ ایپل کمپنی بھی یکم اپریل کو اپنی تاسیس کے 50 سال مکمل کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں ایپل کے 1976 کے تاسیسی دستاویزات بھی نیلامی کے لیے پیش کیے گئے تھے۔ 

ان دستاویزات کی متوقع قیمت 4 ملین ڈالر تھی، تاہم وہ بالآخر 2.51 ملین ڈالر کی حتمی قیمت پر فروخت ہوئے تھے، جس نے مارکیٹ میں نئی بحث چھیڑ دی تھی۔