عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اب محض ایک موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
مزید پڑھیں
مصنوعی ذہانت (AI) کے مراکز (ڈیٹا سینٹرز)، جو آج جدید ٹیکنالوجی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، شدید گرمی کے باعث شدید آپریشنل دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور گرمی
مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز روایتی مراکز سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ یہ گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPU) پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ پروسیسرز ماڈلز کی تربیت کے دوران بے پناہ توانائی خرچ کرتے ہیں اور اتنی ہی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں، جسے فوری خارج کرنا لازمی ہوتا ہے۔
گرمی، بجلی اور پانی کا بحران
شدید گرمی کے دوران کولنگ سسٹمز کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے اور انہیں معمول پر رکھنے کے لیے زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔
سائنٹیفک امریکن کے مطابق یہ صورتحال پانی اور بجلی کے وسائل پر دہرا بوجھ ڈالتی ہے، جس سے ڈیٹا سینٹرز کا آپریشن مزید مہنگا اور مشکل ہو جاتا ہے۔
بجلی کے گرِڈز پر اضافی دباؤ
گرمی کی لہر کے دوران عوامی سطح پر ایئر کنڈیشننگ کے استعمال سے بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
ڈیٹا سینٹرز کے بھاری لوڈ کے ساتھ مل کر یہ صورتحال بجلی کے نیٹ ورکس کو غیر مستحکم کر دیتی ہے، جس سے کچھ ممالک میں مراکز کو بیک اپ پاور پر منتقل ہونا پڑتا ہے۔
پانی کے وسائل کا اہم کردار
ڈیٹا سینٹرز گرمی کے اخراج کے لیے بخاراتی کولنگ یا مائع کولنگ سسٹمز استعمال کرتے ہیں۔
گوگل کے مطابق پانی کی دستیابی اب کولنگ سسٹمز کے انتخاب میں بنیادی عنصر ہے۔ خشک سالی اور پانی کی کمی والے علاقوں میں ایئر کولنگ یا بند سرکٹ واٹر سسٹمز کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔
سبق آموز حقیقی حادثات
یہ خطرات صرف نظریاتی نہیں ہیں۔ 2022 میں لندن میں شدید گرمی کے باعث گوگل اور اوریکل کے ڈیٹا مراکز متاثر ہوئے تھے، جس سے ڈیجیٹل سروسز بند ہو گئی تھیں۔
اسی طرح کیلیفورنیا میں ایکس (X) پلیٹ فارم کا ڈیٹا سینٹر بھی زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ہنگامی صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے۔
ماحولیاتی اثرات اور ڈیٹا ہیٹ آئی لینڈ
کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ڈیٹا سینٹرز اپنے ارد گرد کے ماحول کا درجہ حرارت بھی بڑھا رہے ہیں۔
کچھ مقامات پر یہ اضافہ 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے محققین نے ’ڈیٹا ہیٹ آئی لینڈ‘ کا نام دیا ہے، جو ایک تشویشناک ماحولیاتی رجحان ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کا ردعمل
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب مائع کولنگ اور مائیکرو فلوئیڈکس جیسی جدید ٹیکنالوجیز اپنا رہی ہیں۔
گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو ہی کولنگ سسٹمز کی بہتری کے لیے استعمال کر رہی ہیں تاکہ توانائی کا ضیاع کم سے کم ہو اور آپریشنل پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
مراکز کی نئی لوکیشن
اے آئی کمپنیاں اب مراکز کے قیام کے لیے صرف شہروں کی قربت نہیں دیکھتیں، بلکہ موسمیاتی استحکام، پانی کی دستیابی اور بجلی کے گرِڈ کی مضبوطی کو ترجیح دیتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق نصف سے زائد عالمی ڈیٹا سینٹرز ایسے علاقوں میں ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید خطرات کی زد میں ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا مستقبل اب صرف بہتر الگورتھمز پر منحصر نہیں ہے بلکہ ایک پائیدار انفرا اسٹرکچر کی تعمیر بھی ضروری ہے۔
کولنگ ٹیکنالوجی میں جدت اور موسمیاتی منصوبہ بندی ہی وہ اسٹریٹجک عوامل ہیں جو مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار اور اس کے استحکام کا تعین کریں گے۔