امریکا اپنی تاریخ کی ڈھائی سو سالہ تقریبات منا رہا ہے، لیکن اس تاریخی سنگ میل پر ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں
آزادی اور مساوات کے دعویدار اس ملک کی تاریخ نسل کشی، غلامی اور نسلی امتیاز جیسے تضادات سے بھری پڑی ہے، جس نے اس کے جمہوری تشخص کو شدید متاثر کیا ہے۔
جیمی کارٹر کے مطابق امریکا اپنی ڈھائی سو سالہ تاریخ میں صرف 16 سال پرامن رہا ہے، جبکہ باقی وقت یہ ملک طاقتور ترین سلطنت بننے کی دوڑ میں گزار چکا ہے۔
آج ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکمرانی میں کرپشن، بے امنی اور آئینی انحراف نے بانیانِ امریکا کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔
اس وقت دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ جوہری ہتھیار ہیں، جنہیں بانیانِ امریکا نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
امریکا نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں سے لے کر مارشل آئی لینڈز، نیواڈا اور الاسکا تک ہزاروں تجربات کیے، جس سے کرہ ارض پر زندگی کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔
سائنسی ترقی کے نام پر تخلیق کیے گئے یہ ہتھیار اب انسانیت کے لیے وبالِ جان بن چکے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ بہت سے پالیسی ساز ان تباہ کن ہتھیاروں کو معمول کی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کا استعمال پوری دنیا کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتا ہے۔
من ہیٹن پروجیکٹ کے ابتدائی دور میں بھی کئی سائنسدانوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔
لیز مائٹنر، ایزیڈور رابی اور جوزف روٹبلاٹ جیسے ماہرین نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے انکار کیا یا اس کے خلاف مہم چلائی، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ یہ انسانیت کے لیے ایک خودکشی کا عمل ہے۔
جوزف روٹبلاٹ نے انکشاف کیا تھا کہ جوہری بم کا اصل مقصد سوویت یونین کو دبانا تھا۔
انہوں نے اپنی باقی زندگی جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے وقف کر دی اور 1995 میں امن کا نوبل انعام حاصل کیا۔ آج دنیا میں ایسے ٹھوس اور جرأت مندانہ موقف کی شدید کمی ہے۔
سابق نائب صدر ہنری والاس نے 1947 میں خبردار کیا تھا کہ خارجہ پالیسی کی ناکامی انسانی نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
آج عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جوہری ہتھیار ان کی حفاظت کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ پوری تہذیب کے لیے ایک مستقل موت کا پروانہ ہیں۔
جون 2026 میں سابق انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے خبردار کیا کہ دنیا جوہری تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
اسی طرح ’بلٹن آف اٹامک سائنٹسٹس‘ نے ’ساعتِ قیامت‘ (Doomsday Clock)کو آدھی رات سے 85 سیکنڈ پہلے مقرر کر دیا ہے، جو انسانی تاریخ کا سب سے خطرناک ترین لمحہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان بارہا جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے اشارے دے چکے ہیں۔
الجزیرہ پر شائع ایوانا نکولیچ ہوئس اور پیٹر کوزنک کے اس تجزیے کے مطابق اگر انسانیت کو اگلے ڈھائی سو سال تک زندہ رہنا ہے تو جوہری ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ ہی واحد راستہ ہے، ورنہ تاریخ کا یہ سفر کسی بھی وقت اختتام پذیر ہو سکتا ہے۔