امریکہ، جسے تاریخی طور پر ’تارکینِ وطن کی قوم‘ کہا جاتا ہے، آج ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں سابق صدر جان ایف کینیڈی کے 1963 کے اس مشہور نظریے کو موجودہ دور میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی نئی امیگریشن پالیسیوں نے امریکی آبادیاتی اور معاشی مستقبل کو ایک غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔
امیگریشن میں غیر معمولی کمی
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تارکینِ وطن کے بڑے پیمانے پر انخلا اور سخت سرحدی کنٹرول سے ہجرت کی شرح میں ڈرامائی کمی آئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے صرف 12 ماہ کے اندر تقریباً 30 لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مطابق گزشتہ برس امریکہ میں خالص ہجرت کی شرح منفی رہی اور ایسا گزشتہ ایک دہائی میں پہلی بار ہوا ہے۔
امریکی مردم شماری بیورو کے ڈیٹا کے مطابق 2024 میں خالص بین الاقوامی ہجرت 27 لاکھ تھی، جو 2025 میں 13 لاکھ اور 2026 میں صرف 3 لاکھ 21 ہزار تک گرنے کا امکان ہے۔
آبادیاتی نمو اور معاشی اثرات
مردم شماری بیورو کی ماہر کرسٹن ہارٹلی کے مطابق امریکی آبادی میں اضافے کی شرح گر کر 0.5 فیصد رہ گئی ہے، جو کورونا وبا کے بعد کم ترین سطح ہے۔
پیدائش اور اموات کی شرح میں استحکام کے باوجود ہجرت میں کمی اس سست روی کی بنیادی وجہ ہے۔
ماہرینِ آبادیات ولیم فرے اور اسٹیفن کاماروٹانے اس صورتحال میں مستقبل کے 3 ممکنہ منظرنامے پیش کیے ہیں۔
پہلا منظرنامہ ہجرت کے خاتمے کا ہے، جس کے تحت 2051 تک امریکی آبادی سکڑ کر 31.2 کروڑ رہ جائے گی۔ ولیم فرے کے مطابق 2031 تک اموات کی شرح پیدائش سے بڑھ جائے گی، جس سے معاشرہ تیزی سے بوڑھا ہو جائے گا۔
درمیانی اور اعلیٰ ہجرت کے نتائج
دوسرا منظرنامہ درمیانی ہجرت کا ہے، جس میں 2060 تک آبادی 36.4 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
اس صورت میں کام کرنے والی عمر (18 سے 64 سال) کے افراد کا تناسب 60.9 فیصد سے کم ہو کر 58 فیصد پر آ جائے گا، جو معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
تیسرے منظرنامے میں اعلیٰ ہجرت کی پیشگوئی ہے، جہاں آبادی 2060 تک 39.7 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ واحد راستہ ہے جس سے امریکہ اپنی افرادی قوت کو برقرار رکھ سکتا ہے، جس کے تحت 5 کروڑ اضافی افراد ورک فورس میں شامل ہو سکیں گے۔
تارکین وطن بوجھ یا اثاثہ؟
ماہرین اس معاملے پر دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ ایک گروہ کا ماننا ہے کہ نوجوان تارکینِ وطن سوشل سیکیورٹی اور میڈی کیئر جیسے نظاموں کے لیے ناگزیر ہیں۔
دوسری جانب اسٹیفن کاماروٹا کا مؤقف ہے کہ تارکینِ وطن بھی وقت کے ساتھ بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کے فوائد کو مبالغہ آرائی سے پیش کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 53 فیصد تارکینِ وطن خاندان سماجی بہبود کے پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ مقامی شہریوں میں یہ شرح 37 فیصد ہے۔
تاہم تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ہجرت امریکہ کی نسلی ساخت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے، جس میں لاطینی اور ایشیائی نژاد افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ اب ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں اسے قومی سلامتی اور اقتصادی بقا کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
ہجرت میں کمی جہاں سرحدی نظم و ضبط کا باعث بنی ہے، وہیں یہ طویل مدتی آبادیاتی بحران کا پیش خیمہ بھی ہے۔ امریکہ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ورک فورس کی ضروریات کو قومی ترجیحات کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کرتا ہے۔