فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں برازیل اور ناروے کے درمیان ہونے والے اہم مقابلے سے قبل ناروے کے کھیلوں کے مراکز میں شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
ہزاروں شائقین ’وائکنگ‘ جرسی حاصل کرنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے نظر آئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دکانوں پر اسٹاک پہنچتے ہی چند منٹوں میں تمام جرسیاں فروخت ہو گئیں۔
اس غیرمعمولی ردعمل نے اندازے غلط ثابت کردیے، کیونکہ یہ جرسی اب کھیل کا لباس نہیں بلکہ قومی جذبات کی علامت بن چکی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ناروے 1998 کے بعد عالمی فٹ بال کے اس بڑے اسٹیج پر واپس لوٹا ہے۔
ٹیم کی اس شاندار کارکردگی نے پورے ملک کو جوڑ دیا ہے اور شائقین کی بڑی تعداد اپنی قومی ٹیم کی حمایت کے لیے سڑکوں پر نکل آئی ہے۔
I dag føler jeg mig…. norsk. Der findes næppe større modsætninger i FIFA-land end Infantino og den norske fodboldpræsident, Lise Klaveness. Heldigvis vandt Norge, og så kan Klaveness godt finde smilet frem. De ror godt i den norske båd. pic.twitter.com/VDNtSOhbWY
— Jan Jensen (@janjensen09) June 30, 2026
ناروے فٹ بال فیڈریشن کی صدر لِیزے کلاوینس نے کوسٹ ڈی آئیوری کے خلاف میچ کے دوران اس صورتحال پر گفتگو کی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ جرسیوں کی مانگ فیڈریشن کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، جس نے انتظامیہ کو حیران کر دیا ہے۔
اب فیڈریشن کے اندر یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ قلت سپلائی چین کے مسائل کا نتیجہ ہے یا پھر موجودہ پیداوار عوام کے بڑھتے ہوئے جوش و خروش کے سامنے ناکافی ہے۔
یہ صورتحال ٹیم کے ساتھ عوامی لگاؤ کی ایک غیر معمولی مثال بن چکی ہے۔
ہالینڈ کا جادو اور بدلتی ہوئی عوامی مقبولیت
ٹیم کی مقبولیت میں اس بڑے اضافے کی بنیادی وجہ ورلڈ کپ میں ان کی غیر معمولی کارکردگی ہے۔
اسٹار کھلاڑی ارلنگ ہالینڈ کی قیادت میں ٹیم نے نہ صرف شاندار کھیل پیش کیا بلکہ آخری لمحات میں گول کر کے ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچایا۔
ارلنگ ہالینڈ اب نارویجن عوام کے لیے ایک امید کا استعارہ بن چکے ہیں۔
ان کی شاندار فارم نے نہ صرف شائقین کے حوصلے بلند کیے ہیں بلکہ برازیل جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف میچ سے قبل ناروے میں توقعات کا گراف بھی بہت بلند ہوگیا ہے۔
یہ تاریخی پیش رفت نارویجن شائقین کے لیے ایک نیا خواب ثابت ہو رہی ہے۔