امریکا کی میزبانی میں 1994ء کا فیفا ورلڈکپ کئی وجوہات کے سبب فٹبال کی تاریخ کا ایک متنازع ایونٹ رہا۔
مزید پڑھیں
24 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار 3 پوائنٹس کا نظام متعارف کرایا گیا، جبکہ کئی ممالک نے پہلی بار عالمی سطح پر اپنے جوہر دکھائے۔
نئے ممالک اور تاریخی تبدیلیاں
اس ٹورنامنٹ میں یونان، نائیجیریا اور سعودی عرب نے پہلی بار شرکت کی، جس میں سعودی ٹیم دوسرے راؤنڈ تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔
سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس اور جرمنی کے انضمام کے بعد متحد جرمن ٹیم نے پہلی بار اس عالمی ایونٹ میں حصہ لیا۔
میراڈونا اور ڈوپنگ کا تنازع
ارجنٹائن کے لیجنڈ ڈیگو میراڈونا کی واپسی شائقین کے لیے پرکشش تھی، لیکن یونان کے خلاف گول کرنے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔
25 جون 1994 کو نائیجیریا کے خلاف میچ کے بعد ان کے ڈوپنگ ٹیسٹ میں ’ایفیڈرین‘ کے استعمال کی تصدیق ہوئی، جس پر انہیں ایونٹ سے باہر کر دیا گیا۔
ریکارڈز کا انبار
روسی کھلاڑی اولیگ سالینکو نے کیمرون کے خلاف 5 گول کر کے ریکارڈ قائم کیا، جو آج بھی برقرار ہے۔
اسی میچ میں 42 سالہ کیمرونی کھلاڑی روجر میلا نے گول کر کے ورلڈ کپ کی تاریخ کے معمر ترین گول اسکورر کا اعزاز اپنے نام کیا، جو ایک منفرد کارنامہ تھا۔
ایک افسوسناک واقعہ
کولمبیا کے کھلاڑی آندریس ایسکوبار کا قتل اس ٹورنامنٹ کا تاریک ترین باب تھا۔
امریکا کے خلاف میچ میں غلطی سے اپنے ہی گول میں گیند پھینکنے کے بعد کولمبیا ایونٹ سے باہر ہوا۔ جولائی 1994 میں انہیں میڈین شہر میں قتل کر دیا گیا، جس کا تعلق مبینہ طور پر سٹہ بازی سے تھا۔
فائنل اور روبرٹو باجیو کا المیہ
برازیل اور اٹلی کے درمیان کھیلا گیا فائنل ورلڈکپ تاریخ کا پہلا مقابلہ تھا جو پنالٹی ککس پر فیصلہ کن ثابت ہوا۔
اطالوی اسٹار روبرٹو باجیو کی جانب سے آخری پنالٹی ضائع ہونے پر برازیل نے اپنا چوتھا ورلڈ کپ ٹائٹل جیت کر ایونٹ کا ڈرامائی اختتام کیا۔
فٹبال ورلڈکپ 1994ء کی انوکھی داستان
ریکارڈز، نئی تبدیلیاں اور تاریخ کے متنازع ترین عالمی ایونٹ کا احوال
by: overseaspost.net
1994 کا یہ ورلڈ کپ اپنی مقبولیت اور ریکارڈز کے ساتھ ساتھ تنازعات کے حوالے سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔
اس ایونٹ میں اوسطاً 69 ہزار تماشائیوں کی موجودگی نے اسٹیڈیمز کی رونقوں کو دوبالا کیا تھا، جس نے امریکا میں فٹ بال کے کھیل کو نئی مقبولیت اور ایک مستقل پہچان عطا کی۔