سعودی مرکزی بینک کے غیر ملکی اثاثوں اور نجی شعبے کے لیے قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
مئی کے دوران بینک کے مجموعی اثاثوں میں 3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ حجم 1.939 ٹریلین ریال رہا، جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ اثاثے 2 ٹریلین ریال تھے۔
اس حوالے سے جاری تازہ ترین ماہانہ رپورٹ کے مطابق سعودی مرکزی بینک کے خالص غیرملکی اثاثوں میں سالانہ بنیاد پر 6.7 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں یہ اثاثے 1.743 ٹریلین ریال تک پہنچ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس یہ اثاثے اسی ماہ 1.633 ٹریلین ریال تھے، تاہم ماہانہ بنیاد پر ان میں 1.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
اسی طرح مملکت میں زرِ رسد (ایم تھری) کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو مئی کے دوران اس میں سالانہ بنیادوں پر 8.94 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 3.367 ٹریلین ریال تک پہنچ گیا۔
گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ حجم 3.091 ٹریلین ریال ریکارڈ کیا گیا تھا۔
سعودی مرکزی بینک (SAMA): مئی 2026 کی کارکردگی رپورٹ
غیر ملکی اثاثوں اور نجی شعبے کے قرضوں میں مستحکم نمو، جبکہ مجموعی حجم 1.93 ٹریلین ریال ریکارڈ
سرکاری اور نیم سرکاری شعبے کے حوالے سے بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان شعبوں کی جانب سے بینکوں کی واجب الادا رقوم میں مئی کے اختتام تک کمی دیکھی گئی، جو کہ ماہانہ بنیادوں پر 0.64 فیصد کمی کے ساتھ 916.8 ارب ریال تک محدود رہیں۔
نجی شعبے کے لیے بینکوں کی واجب الادا رقوم 3.25 ٹریلین ریال تک پہنچ گئیں، جس میں سالانہ بنیادوں پر 6.6 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 0.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح مئی 2026 کے دوران نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں 6.57 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔