براہ راست نشریات

پیدائشی معذور سے عالمی ہیرو تک: مراکشی صیباری کی ناقابلِ یقین داستان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مراکشی فٹبالر اسماعیل صیباری ورلڈ کپ میچ کے دوران کامیابی کا جشن مناتے ہوئے
اسماعیل صیباری کی والدہ کوالیفائی کرنے کے بعد اپنے بیٹے کو گلے لگا رہی ہیں (فوٹو: کنفیڈریشن آف افریقن فٹبال)

مراکش نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں نیدرلینڈز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں 3-2 سے شکست دے کر پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

مزید پڑھیں

تاہم، اس تاریخی کامیابی کے بعد سب سے زیادہ توجہ مراکشی اسٹار اسماعیل صیباری کی متاثر کن زندگی، ان کی فیصلہ کن پنالٹی اور والدہ کے ساتھ جذباتی ملاقات نے حاصل کی ہے۔

میکسیکو کے مونٹیری اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں فیصلہ کن پنالٹی لینے کے لیے جب اسماعیل صیباری آگے بڑھے تو اسٹیڈیم اور ٹی وی اسکرینوں پر شائقین کی نظریں جم گئیں۔ 

صیباری نے انتہائی اعتماد کے ساتھ گیند کو جال میں پہنچا کر مراکش کو آخری 16 ٹیموں میں پہنچا دیا ہے۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں بھی 25 سالہ صیباری مراکش کے نمایاں کھلاڑیوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں نے 3 گول کیے، جن میں برازیل کے خلاف اپنے پہلے عالمی کپ گول سے خاص شہرت حاصل کی۔ 

اس میچ میں انہوں نے ابراہیم دیاز کے شاندار پاس پر برازیل کے دفاع کو پیچھے چھوڑتے ہوئے گول کیپر ایلیسن بیکر کے اوپر سے خوبصورت شاٹ کھیل کر گیند جال میں پہنچائی۔

اس تاریخی گول کے بعد ان کا حیرت زدہ انداز میں دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر جشن منانا بھی شائقین کی توجہ کا مرکز بنا۔

اس کے ساتھ ساتھ نیدرلینڈز کے خلاف کامیابی کے بعد ایک اور منظر نے دنیا بھر کے مداحوں کے دل جیت لیے، جب صیباری اسٹیڈیم کی گیلری میں موجود اپنی والدہ سے گلے ملے۔ 

یہ جذباتی لمحہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا اور لاکھوں صارفین نے اسے ورلڈ کپ کے یادگار ترین مناظر میں شامل قرار دیا۔

افریقی فٹ بال کنفیڈریشن (کاف) نے بھی اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ہر خواب کے پیچھے ایک ایسی ماں ہوتی ہے جو اس پر یقین رکھتی ہے۔‘

اسی طرح عرب سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے صیباری کی والدہ کی قربانیوں، دعاؤں اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا۔ 

مراکشی فٹبالر اسماعیل صیباری ورلڈ کپ میچ کے دوران کامیابی کا جشن مناتے ہوئے
اسماعیل صیباری ورلڈ کپ 2026ء میں مراکش کی قومی ٹیم کے سب سے نمایاں ستاروں میں سے ایک ہیں (فوٹو: رائٹرز)

متعدد صارفین نے لکھا کہ جو لوگ صیباری کی بچپن کی مشکلات سے واقف ہیں، وہ ان کی والدہ کے آنسوؤں کی اصل وجہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

صیباری 28 جنوری 2001 کو اسپین کے شہر بارسلونا کے علاقے تیراسا میں مراکشی والدین کے گھر پیدا ہوئے۔ 

بچپن میں ان کے دونوں پاؤں اندر کی جانب مڑے ہوئے تھے، جس کے باعث انہیں چلنے پھرنے میں شدید دشواری کا سامنا تھا۔ ڈاکٹروں نے ان کے والدین کو بتایا تھا کہ وہ شاید پوری زندگی ٹھیک سے چل بھی نہ سکیں۔

صیباری نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کی والدہ مسلسل اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہیں کہ ان کا بیٹا صحت مند ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ کی خواہش صرف یہ تھی کہ وہ ایک عام بچے کی طرح زندگی گزار سکیں۔ فٹبالر بننا تو اس وقت ان کے لیے کوئی شرط ہی نہیں تھی۔ 

بعد ازاں تقریباً ایک سال ان کا علاج جاری رہا، جس کے بعد ان کے پاؤں سیدھے ہوگئے اور وہ معمول کے مطابق چلنے لگے۔

6 برس کی عمر میں انہوں نے مقامی کلب سے فٹبال کا آغاز کیا، بعد ازاں یہ خاندان بہتر مستقبل کی تلاش میں 2007 میں بیلجیم منتقل ہوگیا، تاہم وہاں بھی مشکلات نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ 

مراکشی فٹبالر اسماعیل صیباری ورلڈ کپ میچ کے دوران کامیابی کا جشن مناتے ہوئے
اسماعیل صیباری نے ورلڈ کپ 2026ء میں مراکش بمقابلہ ہالینڈ کے میچ میں فیصلہ کن پنالٹی کک لی (فوٹو: رائٹرز)

صرف 14 برس کی عمر میں بیلجیم کے معروف کلب اینڈرلخت کی اکیڈمی نے سیزن شروع ہونے سے ایک دن پہلے انہیں صرف اس بنیاد پر فارغ کر دیا کہ ان کا وزن زیادہ تھا۔

صیباری کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، لیکن والدین نے انہیں ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ والدین نے انہیں 2 راستے دکھائے، یا تو ہار مان لیں یا دوبارہ محنت کرکے اپنے خواب کو حقیقت بنا دیں اور انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

ورلڈ کپ کی تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں

بعد ازاں وہ جینک کی انڈر 17 ٹیم میں شامل ہوئے اور جلد ہی اپنے سابق کلب اینڈرلخت کے خلاف میچ میں گول کرکے ٹیم کو 4-3 سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 

2020 میں وہ نیدرلینڈز کے کلب پی ایس وی آئنڈھوون پہنچے، جہاں انہوں نے 3 ڈچ لیگ ٹائٹل، 2 ڈچ کپ اور 3 سپر کپ سمیت مجموعی طور پر 8 مقامی ٹرافیاں جیتیں۔

اعداد و شمار کے مطابق صیباری نے پی ایس وی کی جانب سے تمام مقابلوں میں 142 میچ کھیلتے ہوئے 42 گول کیے اور 29 گولوں میں معاونت فراہم کی۔ 

ان کی اس شاندار کارکردگی نے یورپ کے بڑے کلبوں کی توجہ حاصل کی اور معروف اطالوی صحافی فابریزیو رومانو کے مطابق جرمن کلب بائرن میونخ نے تقریباً 55 ملین یورو کے معاہدے پر انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق وہ امریکا میں میڈیکل ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر بائرن میونخ کا حصہ بن جائیں گے۔

مراکشی فٹبالر اسماعیل صیباری ورلڈ کپ میچ کے دوران کامیابی کا جشن مناتے ہوئے
مراکشی کھلاڑی صیباری جرمن کلب بائرن میونخ میں جانے کے قریب ہیں (فوٹو: رائٹرز)

یاد رہے کہ بین الاقوامی سطح پر صیباری نے ستمبر 2023 میں مراکش کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ اب تک وہ قومی ٹیم کی جانب سے 34 میچ کھیل چکے ہیں، جن میں 12 گول کیے اور ایک گول میں معاونت فراہم کی۔

موجودہ ورلڈ کپ میں بھی وہ تاریخ کے پہلے افریقی فٹبالر بھی بن گئے ہیں جنہوں نے مسلسل 3 میچوں میں گول کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

صیباری کی اس شاندار فارم کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مراکش کے کوچ محمد وہبی آئندہ 4 جولائی کو ہیوسٹن میں کینیڈا کے خلاف ہونے والے پری کوارٹر فائنل میں بھی انہیں ابتدائی ٹیم کا حصہ بنائیں گے۔

دریں اثنا مراکش کی نیدرلینڈز کے خلاف فتح کو دنیا بھر کے فٹبال مبصرین نے بڑا اپ سیٹ قرار دیا ہے۔ 

ہم سے جڑے رہیں