ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تصدیق کی ہے کہ امریکی ریاست فلوریڈا کے حکام نے تارکین وطن کے حراستی مرکز ’ایورگلیڈز‘ کو مستقل طور پر بند کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اس مرکز کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور قیدیوں کی جانب سے ’ایلیگیٹر‘ کا نام دیا گیا تھا، جہاں انہیں ایک سال تک غیر انسانی حالات میں قید رکھا گیا تھا۔
یہ حراستی مرکز جولائی 2025 میں تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
تاہم شدید عوامی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے
مسلسل تنقید کے بعد فلوریڈا کے گورنر نے 25 جون کو اس مرکز کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقات کے مطابق یہاں قیدیوں کو بدترین اور غیر صحت بخش حالات کا سامنا تھا۔
یہاں بیت الخلا کا گندا پانی قیدیوں کے سونے کی جگہوں تک پہنچ جاتا تھا، جبکہ انہیں نہانے کی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر تھیں اور حشرات سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ مرکز میں 24 گھنٹے تیز روشنی جلائی جاتی تھی اور قیدیوں کو ناقص معیار کا کھانا فراہم کیا جاتا تھا۔
اس کے علاوہ بیت الخلا میں کیمرے نصب کر کے قیدیوں کی پرائیویسی کو بری طرح پامال کیا گیا، جبکہ طبی امداد اور نیند سے بھی محروم رکھا گیا۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ ’ایلیگیٹر‘ کی بندش سے تارکین وطن کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔
بہت سے قیدیوں کو فلوریڈا کے ’کروم‘ مرکز سمیت دیگر مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جسے ایمنسٹی نے امریکی حکام کی جانب سے چلائی جانے والی اجتماعی حراست اور بے دخلی کی مشین قرار دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکی امیگریشن حکام اس وقت ملک بھر میں 100 سے زائد مراکز میں 60 ہزار سے زائد افراد کو قید رکھے ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ان مراکز میں 31 اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں مزید 19 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ حراستی نظام میں بنیادی اصلاحات لائیں اور اجتماعی بے دخلی کی پالیسیوں کو ختم کریں۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔