جنوری 2026 میں لاس ویگاس کے ’سفیئر‘ ہال میں فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو اور لینووو کے سربراہ نے ورلڈ کپ 2026 کے لیے ’فٹ بال اے آئی پرو‘ متعارف کرایا۔
مزید پڑھیں
یہ نظام تھری ڈی ماڈلز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے کھیلوں کے تجربے کو جدید بنانے کا وعدہ کرتا ہے، مگر اس کی حقیقت صرف اسٹیڈیم تک محدود نہیں ہے۔
نگرانی کا دہرا معیار
ورلڈکپ کے سلسلے میں جس وقت لاس ویگاس میں ٹیکنالوجی کے قصیدے پڑھے جا رہے تھے، اسی وقت سیٹل اور واشنگٹن ڈی سی
جیسے شہروں میں کیمروں اور لائسنس پلیٹ ریڈرز کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا تھا۔
یہ وہی بنیادی ڈھانچہ ہے جو ایک طرف تماشائیوں کے داخلے کو تو آسان بناتا ہے، مگر دوسری طرف امریکی وفاقی ایجنسیاں اسے شہریوں کی ٹریکنگ کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
چہرے کی شناخت
یہ جدید کیمرے محض واقعات کی ریکارڈنگ نہیں کررہے، بلکہ انسانی چہروں کو ’ڈیجیٹل فنگر پرنٹ‘ میں تبدیل کر کے کروڑوں لوگوں کے ڈیٹا بیس سے سیکنڈوں میں شناخت کر لیتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی جس طرح اسٹیڈیم کے گیٹ پر استقبال کے لیے استعمال ہوتی ہے تو ساتھ ہی سڑکوں پر چلتے عام شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھتی ہے۔
عارضی اقدامات سے مستقل نگرانی تک
فرانس میں پیرس اولمپکس 2024 کے دوران مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے قانون کو عارضی قرار دیا گیا تھا، مگر اب اسے 2030 تک بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
اسے سماجیات میں ’ریچٹ ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے، جہاں عارضی سیکیورٹی اقدامات بتدریج معاشرے کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتی ایجنسیاں
ورلڈ کپ کے تکنیکی شراکت دار وہی کمپنیاں ہیں جو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ جیسی ایجنسیوں کو ٹریکنگ سافٹ ویئر بیچتی ہیں۔
لینووو، پالو آلٹو نیٹ ورکس اور ڈیٹا مائنر جیسی کمپنیاں ایک ہی وقت میں اسٹیڈیم کی سیکیورٹی اور وفاقی ایجنسیوں کے ٹریکنگ نیٹ ورک دونوں کو تکنیکی مدد فراہم کر رہی ہیں۔
تارکینِ وطن کے خلاف آپریشن اور ورلڈ کپ
امریکی امیگریشن حکام نے یہ یقین دہانی کرانے سے انکار کر دیا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیمز کے قریب چھاپے یا گرفتاریاں نہیں ہوں گی۔
ہیومن رائٹس واچ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے ابتدائی ہفتوں میں میزبان شہروں میں گرفتاریوں کی شرح میں 4 گنا اضافہ ہوا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ نگرانی کا یہ نظام پہلے سے ہی فعال ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی اور فیفا کی خاموشی
دنیا بھر ی 120 سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ورلڈ کپ عوامی آزادیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
فیفا نے انسانی حقوق کے فریم ورک کے تحت ورلڈکپ کے شائقین کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا، مگر بیشتر میزبان شہروں نے ابھی تک ان معیارات کے مطابق سیکیورٹی پلانز پیش نہیں کیے ہیں، جس سے فیفا کے دعوے مشکوک ہو گئے ہیں۔
ٹیکنالوجی کا دہرا استعمال
یہ ٹیکنالوجی دہرے استعمال کا نام دے کر چھپائی جاتی ہے۔ یعنی اسٹیڈیم کے اندر اسے شائقین کا تجربہ اور باہر سیکیورٹی کہا جاتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جب ورلڈ کپ ختم ہو جائے گا اور تماشائی واپس چلے جائیں گے، تو یہ وسیع و عریض نگرانی کا نیٹ ورک شہروں میں کیا کام انجام دے گا؟