مشرقِ وسطیٰ اب ایک ایسی تبدیلی کے دہانے پر ہے جہاں روایتی سیکیورٹی کے تصورات ناکافی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
حالیہ علاقائی کشیدگی نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی ایک ملک کی تنہا دفاعی کوششیں اب خطرات کو روکنے کے لیے کافی نہیں رہیں۔
نئے اجتماعی دفاعی نظام کی تشکیل
خطے کی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ علاقائی ممالک کو اب صرف سیاسی ہم آہنگی سے آگے بڑھ کر ایک جامع اسٹریٹجک اتحاد کی جانب قدم بڑھانا ہوگا۔
یہ ’ریجنل نیٹو‘ محض ایک سیاسی خواہش نہیں بلکہ جغرافیائی تقاضا ہے، جس کا مقصد مشترکہ دفاعی نظام کے ذریعے خطے کے امن کا تحفظ کرنا ہے۔
روایتی اتحادوں سے اجتماعی خودمختاری تک
ماضی میں خطے کے ممالک بڑی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور یورپ کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدوں پر انحصار کرتے تھے۔
تاہم بدلتے عالمی حالات اور بڑی طاقتوں کی تیزی سے بدلتی ترجیحات کے بعد اب خطے کے فیصلہ سازوں نے خود انحصاری اور مشترکہ شراکت داری کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔
اسٹریٹجک بلاک: مشترکہ صلاحیتیں
دفاعی ماہرین کے مطابق ایک نئے سیکیورٹی فریم ورک میں خلیج تعاون کونسل کے ممالک، مصر، اردن اور عراق شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ ترکی اور پاکستان کی شمولیت اسے مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
اسی طرح خلیجی ممالک باہمی معاشی قوت، مصر فوجی طاقت اور اردن انٹیلی جنس مہارت کے لحاظ سے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
وسیع البنیاد سیکیورٹی کا تصور
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کا علاقائی اتحاد صرف بیلسٹک میزائل یا ڈرون حملوں تک محدود نہیں ہوگا۔
اسے سائبر سیکیورٹی، توانائی کے تحفظ، آبی وسائل، بحری گزرگاہوں کی حفاظت، انسدادِ دہشت گردی اور منظم جرائم جیسے غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا ہوگا۔
اقدامات میں رکاوٹیں
اس مجوزہ اتحاد کی راہ میں کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں، جن میں مختلف ممالک کی سیکیورٹی ترجیحات میں فرق اور پیچیدہ علاقائی معاملات شامل ہیں۔
تاہم خطے کی معاشی ترقی اور بڑے منصوبوں کے تحفظ کے لیے استحکام اب ایک مشترکہ ضرورت بن چکا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ کا فیصلہ کن موڑ
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے اور یہی وقت ہے کہ اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک اسٹریٹجک اعتماد سازی کے ذریعے ایک مستحکم نظام تشکیل دیں۔
بصورتِ دیگر یہ خطہ دوبارہ ان تنازعات اور کھنچاؤ کی دلدل میں پھنس سکتا ہے جس نے دہائیوں تک اس کی توانائیاں ضائع کیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب سوال یہ نہیں کہ کیا خطے کو سیکیورٹی اتحاد کی ضرورت ہے، بلکہ یہ ہے کہ مزید کتنی تباہی کے بعد یہ احساس اجاگر ہوگا۔