مشہور امریکی ارب پتی ایلیون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ہیومنائیڈ روبوٹس کا امتزاج انسانیت کو معاشی فراوانی کے ایک ایسے دور میں لے جائے گا جہاں اشیا اور خدمات کی بہتات کے باعث روایتی معیشت اور پیسوں کی اہمیت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
معاشی بہتات کا نیا تصور
مسک کے مطابق مستقبل میں روبوٹس صنعت، لاجسٹکس اور تعمیراتی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔
جب مشینیں محنت و پیداوار سستی اور تیز کردیں گی، تو معاشرے قلت کے بجائے معاشی بہتات کے ماڈل کی طرف منتقل ہو جائیں گے، جس سے عام آدمی کے لیے بنیادی سہولیات انتہائی سستی ہو جائیں گی۔
ٹیسلا کا کردار اور آپٹیمس روبوٹ
اس حکمت عملی کے مرکز میں ٹیسلا کا ’آپٹیمس‘ روبوٹ ہے۔ ٹیسلا برسوں سے ایسے روبوٹس تیار کر رہی ہے جو خطرناک اور تھکا دینے والے کام خودکار طریقے سے انجام دے سکیں۔
مسک کا دعویٰ ہے کہ طویل مدت میں آپٹیمس کا کاروبار ٹیسلا کی الیکٹرک گاڑیوں سے بھی زیادہ اہم اور منافع بخش ثابت ہوگا۔
پیسے کی افادیت میں کمی
’ابنڈنس سمٹ 2026‘ کے دوران مسک نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے اس تیز ارتقا سے پیداوار اتنی بڑھ جائے گی کہ دنیا ’عالمی بلند آمدنی‘ کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال میں لوگوں کا معیار زندگی ان کے ملازمت کی نوعیت سے بالاتر ہو جائے گا، جس سے پیسوں کی روایتی اہمیت ماند پڑ سکتی ہے۔
عالمی ملازمتوں پر ممکنہ اثرات
یہ خیالات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایمیزون، میٹا اور اوریکل جیسی بڑی کمپنیاں اے آئی میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تعداد کم کر رہی ہیں۔
ایک رف جہاں ٹیکنالوجی کے حامی اسے ترقی کا زینہ قرار دیتے ہیں، وہیں ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ انسانی معاشرہ اتنی تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے لیے تیار نہیں۔
روبوٹکس کے میدان میں عالمی مقابلہ
اگرچہ ٹیسلا اس دوڑ میں نمایاں ہے، تاہم مقابلہ سخت ہے۔ چین کی یونٹری (Unitree) جدید روبوٹس پیش کر رہی ہے، جبکہ امریکی کمپنی فیگر اے آئی (Figure AI) بھی عملی میدان میں اپنے روبوٹک سسٹمز کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے۔
دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب روبوٹکس کو مستقبل کی کلیدی صنعت سمجھتی ہیں۔
تکنیکی چیلنجز اور مستقبل
روبوٹس کے ذریعے شہروں کی تعمیر یا معیشت کی تشکیل بلاشبہ ایک پرکشش خواب ہے، تاہم انجینئرنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر ہیومنائیڈ روبوٹس کی تعیناتی کے لیے تکنیکی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کو عام کرنے کے لیے ابھی برسوں کی مزید تحقیق اور بڑی پیش رفت درکار ہے۔
ایلیون مسک کا ویژن انتہائی پرامید ہے، لیکن اس کے معاشی و سماجی مضمرات پر گہرے سوالات موجود ہیں۔
خودکار پیداوار کا حتمی نتیجہ انسانی فلاح ہوگا یا روزگار کا بحران، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومتیں اور ادارے اس ٹیکنالوجیکل انقلاب کو کس طرح منظم اور کنٹرول کرتے ہیں۔