براہ راست نشریات

ایلون مسک ٹریلینیئر کے خطاب سے محروم، اربوں ڈالر ڈوب گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایلون مسک کی دولت میں کمی، اسپیس ایکس کے شیئرز اور مارکیٹ ویلیو میں مندی کا گرافاتی خاکہ
اسپیس ایکس کے حصص 16.4 فیصد گر کر 155 ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے (فوٹو: اے آئی)

ایلون مسک کی دولت میں چند ہی دنوں کے دوران 350 ارب ڈالر کی ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے، جس نے انہیں دنیا کے پہلے ٹریلینیر کے خطاب سے محروم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق اسپیس ایکس کے حصص میں شدید مندی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اسپیس ایکس کے حصص 16.4 فیصد گر کر 155 ڈالر کی سطح سے نیچے آگئے، جو کہ اس کی ابتدائی لسٹنگ کی قیمت سے بھی کم ہے۔ 

منگل کو معمولی بہتری کے بعد قیمت 156.11 ڈالر پر بند ہوئی، مگر مندی کا رجحان  بعد میں بھی برقرار رہا۔

فوربس بلینیئرز انڈیکس کے مطابق ایلون مسک کی دولت 1.45 ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح سے گر کر اب 1.1 ٹریلین ڈالر سے بھی کم رہ گئی ہے۔

صرف ایک تجارتی سیشن میں انہیں 152 ارب ڈالر کا غیر معمولی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ ایلون مسک اسپیس ایکس میں تقریباً 38 فیصد حصص کے مالک ہیں، جن میں 4.8 ارب شیئرز اور سستے داموں والے 350 ملین آپشنز شامل ہیں۔ 

ایلون مسک کی دولت میں کمی، اسپیس ایکس کے شیئرز اور مارکیٹ ویلیو میں مندی کا گرافاتی خاکہ
اسپیس ایکس کے حصص میں شدید مندی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی ان کی مجموعی دولت پر سیدھا اثر ڈالتی ہے۔

اسپیس ایکس کی مارکیٹ ویلیو 16 جون کو 2.99 ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھی، جو اب کم ہو کر 2 ٹریلین ڈالر رہ گئی ہے۔ اس گراوٹ کے باعث کمپنی عالمی درجہ بندی میں چوتھے سے ساتویں نمبر پر چلی گئی ہے۔

عالمی ادارے ایم ایس سی آئی نے اسپیس ایکس کی ریٹنگ کم کر کے سی سی سی کر دی ہے، جو پائیداری کا کم ترین درجہ ہے۔ کمپنی پر ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے حوالے سے سنگین خطرات کے باعث یہ منفی درجہ بندی دی گئی ہے۔

کمپنی نے قلیل مدتی قرضوں کی ری شیڈولنگ کے لیے بانڈز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، جو کہ اس پر موجود مالی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ 

ایلون مسک کی دولت ایک ٹریلین ڈالر ہونے پر عالمی معیشت سے موازنہ
ایک ٹریلین ڈالر کی رقم کا اندازہ لگانا عام انسان کی سوچ سے باہر ہے (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

تجزیہ کاروں کے مطابق اسپیس ایکس کو اس وقت لیکویڈیٹی یا نقد رقم کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اسپیس ایکس نے ریفلیکشن اے آئی نامی اسٹارٹ اپ کے ساتھ 6.3 ارب ڈالر کا کمپیوٹنگ معاہدہ کیا ہے۔ 

اس معاہدے کے تحت جولائی 2026 سے 2029 تک جدید ترین اینویڈیا چپس کے استعمال کے عوض ماہانہ 150 ملین ڈالر ادا کیے جائیں گے۔

سافٹ ویئر کمپنی ’کرسر‘ کو 60 ارب ڈالر میں خریدنے کے فیصلے نے بھی سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے۔ 

حصص کی بنیاد پر ہونے والی اس خریداری سے موجودہ شیئر ہولڈرز کی ملکیت میں 3.4 فیصد تک کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔

مارننگ اسٹار جیسے اداروں نے حصص کی قیمتوں کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے۔ 

ماہرین نے ایلون مسک کے پاس ووٹنگ کے مطلق حقوق اور کمپنی کے گورننس ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے اسے سٹہ بازی کا مرکز قرار دیا ہے۔