براہ راست نشریات

فاتحہ پڑھنے کی ویڈیو: مصری فٹبالرز کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مصری فٹبالرز کے خلاف مہم، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں مصر اور نیوزی لینڈ کے میچ سے قبل کھلاڑیوں کی فاتحہ پڑھنے کی ویڈیو کا تنازع
ورلڈ کپ کے گروپ جی میں نیوزی لینڈ کا سامنا کرنے سے پہلے مصری قومی ٹیم کے کھلاڑی (فوٹو: الجزیرہ)

مصری فٹ بال فیڈریشن نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو میچ سے قبل فاتحہ پڑھتے دکھایا گیا تھا۔ اس ویڈیو کا مقصد ٹیم کے باہمی اتحاد اور جذبے کو ظاہر کرنا تھا۔

مزید پڑھیں

ویڈیو کا مقصد اور غلط تشریح

کھیل کے میدان کی یہ ایک عام سی روایت تھی، جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک متنازع رنگ دے دیا گیا۔ 

اسرائیل نواز اور مغربی دائیں بازو کے متعدد اکاؤنٹس نے اس ویڈیو کو ’مذہبی اشتعال انگیزی‘ کا نام دے کر پھیلانا شروع کر دیا، جو حقائق کے بالکل منافی تھا۔

بین الاقوامی سطح پر نفرت انگیز مہم

یہ مہم محض عربی زبان تک محدود نہیں رہی بلکہ انگریزی، فرانسیسی اور ڈچ زبانوں میں بھی پھیلائی گئی ہے۔

مختلف اکاؤنٹس نے تلاوتِ کلامِ پاک کو ’نفرت انگیز تقریر‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فیفا اس پر ایکشن لے، حالانکہ ویڈیو میں کوئی ایسی بات نہیں تھی۔

پروپیگنڈا کے پیچھے کون ہے؟

الجزیرہ کی اوپن سورس یونٹ کی تحقیق کے مطابق اس مہم میں اسرائیل نواز صحافیوں، دائیں بازو کے لکھاریوں اور مختلف تھنک ٹینکس سے وابستہ افراد نے سرگرم کردار ادا کیا ہے۔

ان عناصر کا مقصد اس ویڈیو کو کھیل کے سیاق و سباق سے نکال کر اسلام مخالف بیانیے کے لیے استعمال کرنا تھا۔

سوشل میڈیا پر بیانیے کی تبدیلی

اس مہم کو 3 مراحل میں پھیلایا گیا ہے:

1۔ ویڈیو کو اس کے اصل سیاق و سباق سے الگ کرنا۔

2۔ اسے غلط ترجمے کے ساتھ انگریزی اور دیگر زبانوں میں ڈھالنا ۔

3۔ اسے اسلام اور اقلیتوں کے بارے میں پہلے سے موجود منفی خیالات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا۔

مصر بمقابلہ نیوزی لینڈ

یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا ہے جب مصر اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اسٹیج میں مدمقابل تھیں۔

میچ میں مصر نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 3-1 سے شکست دی۔ مصری ٹیم کی طرف سے مصطفیٰ زیکو، محمد صلاح اور محمود ٹریزیگے نے گول اسکور کیے۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل پروپیگنڈا کسی بھی بے ضرر ویڈیو کو سیاسی مقاصد کے لیے مسخ کر سکتا ہے۔ 

مبصرین کا کہنا ہے کہ حقائق کو نظر انداز کر کے، محض مذہبی شناخت کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح کی مہمات بین الاقوامی کھیلوں کے ماحول میں تعصب اور غلط فہمیوں کو فروغ دیتی ہیں۔