مصری فٹ بال فیڈریشن نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو میچ سے قبل فاتحہ پڑھتے دکھایا گیا تھا۔ اس ویڈیو کا مقصد ٹیم کے باہمی اتحاد اور جذبے کو ظاہر کرنا تھا۔
مزید پڑھیں
ویڈیو کا مقصد اور غلط تشریح
کھیل کے میدان کی یہ ایک عام سی روایت تھی، جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک متنازع رنگ دے دیا گیا۔
اسرائیل نواز اور مغربی دائیں بازو کے متعدد اکاؤنٹس نے اس ویڈیو کو ’مذہبی اشتعال انگیزی‘ کا نام دے کر پھیلانا شروع کر دیا، جو حقائق کے بالکل منافی تھا۔
سر الفوز 🙏
— EFA.eg (@EFA) June 22, 2026
روح الفـــــــــريق ♥️ pic.twitter.com/V7s5HMf7mv
بین الاقوامی سطح پر نفرت انگیز مہم
یہ مہم محض عربی زبان تک محدود نہیں رہی بلکہ انگریزی، فرانسیسی اور ڈچ زبانوں میں بھی پھیلائی گئی ہے۔
مختلف اکاؤنٹس نے تلاوتِ کلامِ پاک کو ’نفرت انگیز تقریر‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فیفا اس پر ایکشن لے، حالانکہ ویڈیو میں کوئی ایسی بات نہیں تھی۔
پروپیگنڈا کے پیچھے کون ہے؟
الجزیرہ کی اوپن سورس یونٹ کی تحقیق کے مطابق اس مہم میں اسرائیل نواز صحافیوں، دائیں بازو کے لکھاریوں اور مختلف تھنک ٹینکس سے وابستہ افراد نے سرگرم کردار ادا کیا ہے۔
ان عناصر کا مقصد اس ویڈیو کو کھیل کے سیاق و سباق سے نکال کر اسلام مخالف بیانیے کے لیے استعمال کرنا تھا۔
🅾️ الاتحاد المصري لكرة القدم نشر هذا الفيديو بعنوان: سر الفوز!
— Safaa Subhi صفاء صبحي (@SafaaAlNuaimi) June 22, 2026
السر هو أن تبدأ مباراتك بالدعاء على المسيحيين واليهود! pic.twitter.com/8utnFrUT1m
سوشل میڈیا پر بیانیے کی تبدیلی
اس مہم کو 3 مراحل میں پھیلایا گیا ہے:
1۔ ویڈیو کو اس کے اصل سیاق و سباق سے الگ کرنا۔
2۔ اسے غلط ترجمے کے ساتھ انگریزی اور دیگر زبانوں میں ڈھالنا ۔
3۔ اسے اسلام اور اقلیتوں کے بارے میں پہلے سے موجود منفی خیالات کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا۔
The Egyptian Football Association shared a video called “The Secret To Victory.”
— Michael C (@Michaeach3) June 23, 2026
In it, they openly declared that the secret to winning is to start the match by cursing Christians and Jews.
This is official content from Egypt’s national football governing body promoting… pic.twitter.com/UINAjuUXLm
مصر بمقابلہ نیوزی لینڈ
یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا ہے جب مصر اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اسٹیج میں مدمقابل تھیں۔
میچ میں مصر نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 3-1 سے شکست دی۔ مصری ٹیم کی طرف سے مصطفیٰ زیکو، محمد صلاح اور محمود ٹریزیگے نے گول اسکور کیے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل پروپیگنڈا کسی بھی بے ضرر ویڈیو کو سیاسی مقاصد کے لیے مسخ کر سکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حقائق کو نظر انداز کر کے، محض مذہبی شناخت کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح کی مہمات بین الاقوامی کھیلوں کے ماحول میں تعصب اور غلط فہمیوں کو فروغ دیتی ہیں۔