مشرقِ بعید میں بدلتے جیو پولیٹیکل حالات اور امریکی سیکیورٹی پر بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے درمیان جاپان کا جوہری دور میں داخل ہونا اب محض ایک سوال نہیں، بلکہ وقت کا تقاضا بنتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
جاپان نے حال ہی میں اپنی روایتی دفاعی پالیسیوں کو جس طرح ری ویو کرنا شروع کیا ہے، اس نے عالمی طاقتوں کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
جاپان کی بدلتی دفاعی حکمت عملی
الجزیرہ پر شائع تجزیے کے مطابق دسمبر 2025 میں ایک اعلیٰ جاپانی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر جاپان کو اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔
اگرچہ حکومت نے باضابطہ طور پر اس کی تردید کی ہے، لیکن یہ بیانات اس ملک میں انتہائی غیر معمولی سمجھے جا رہے ہیں جہاں ایٹمی ہتھیاروں کا تذکرہ برسوں تک ایک سرخ لکیر سمجھا جاتا رہا ہے۔
ہیروشیما اور ناگاساکی کا صدمہ
جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جو 1945 میں ایٹمی حملے کا شکار ہوا۔
ہیروشیما اور ناگاساکی کے المیے نے جاپانی قوم کی نفسیات کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا، جس کے بعد جاپان نے امن پسند قوم کے طور پر خود کو متعارف کرایا۔
1970 میں عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور 1971 میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ تین غیر جوہری اصولوں کو جاپانی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا گیا۔
امریکی سیکیورٹی پر اُٹھتے سوالات
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2016 کی انتخابی مہم کے دوران دیے گئے بیانات نے ٹوکیو کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
ٹرمپ نے مشورہ دیا تھا کہ جاپان کو چین اور شمالی کوریا کے مقابل اپنا دفاع خود کرنا چاہیے۔ تب سے جاپان میں یہ خوف پیدا ہوا کہ کیا واقعی امریکہ اپنے مفادات کے لیے ٹوکیو کی حفاظت کرے گا؟
کیا جاپان ایٹمی طاقت بن رہا ہے؟
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق جاپان کے پاس ایسی تکنیکی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک رات میں جوہری ریاست بن سکتا ہے۔
جاپان کے پاس 47 ٹن سے زائد پلوٹونیم اور 1.2 ٹن افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین جیسے ممالک کا ماننا ہے کہ جاپان کے پاس جوہری بم تہہ خانے میں تیار پڑا ہے۔
نئی فوجی صلاحیتوں کا حصول
جاپان اب صرف دفاع تک محدود نہیں رہا۔ 2022 کے بعد سے ٹوکیو نے کاؤنٹر اسٹرائیک (جوابی حملے) کی صلاحیت کو اپنی دفاعی حکمت عملی میں شامل کیا ہے۔
جاپان نے 400 توما ہاک میزائل خریدے ہیں اور ٹائپ-12 جیسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری پر کام جاری ہے، جو کسی بھی ممکنہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپان کا ایٹمی ہتھیاروں کی جانب بڑھتا رجحان محض ایک آپشن نہیں بلکہ سرد مہری کا شکار ہوتے امریکی اتحاد کا ردعمل ہے۔
جیسے جیسے دوسری جنگِ عظیم کے عینی شاہدین دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، جاپان کی نئی نسل میں قومی دفاع کے لیے جوہری طاقت کے حصول کے حق میں حمایت بڑھ رہی ہے۔
آنے والے برسوں میں ٹوکیو کا یہ فیصلہ ایشیا میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔