براہ راست نشریات

کیا 40/60 ماڈل ناکام ہوگیا؟ دنیا میں سرمایہ کاری کی نئی حکمت عملی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں تبدیلی اور جے پی مورگن کی وسط سالہ معاشی رپورٹ
60/40 سرمایہ کاری ماڈل اب افراطِ زر کے غیر یقینی ماحول میں سرمایہ کاروں کا تحفظ نہیں کر سکتا (فوٹو: اے آئی)

جے پی مورگن نے اپنی وسط سالہ رپورٹ میں عالمی سرمایہ کاری کے روایتی ماڈل کو بالکل مسترد کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق بینک کا کہنا ہے کہ 2026 میں سرمایہ کاروں کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آیا ان کی حکمت عملی موجودہ بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔

روایتی 60/40 ماڈل کا خاتمہ

بینک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حصص اور بانڈز کے درمیان تاریخی تعلق اب ٹوٹ چکا ہے۔ 

روایتی اور مشہور ’60/40‘ سرمایہ کاری ماڈل اب افراطِ زر کے غیر مستحکم ماحول میں سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

اب خطرہ صرف اثاثوں کے اتار چڑھاؤ میں نہیں، بلکہ حصص اور بانڈز کی ایک ساتھ قدر گرنے میں ہے۔

کیش: خاموش نقصان دہ اثاثہ

جے پی مورگن کی رپورٹ میں نقد رقم رکھنے کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نقد رقم رکھنا اب دولت کا تحفظ نہیں بلکہ افراطِ زر کے باعث اس کے آہستہ آہستہ خاتمے کا سبب بن رہا ہے۔ 

سرمایہ کاروں کو اب کیش کے بجائے متبادل اثاثوں کی طرف دیکھنا ہوگا۔

عالمی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں تبدیلی اور جے پی مورگن کی وسط سالہ معاشی رپورٹ
جے پی مورگن کی رپورٹ میں نقد رقوم رکھنے کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اے آئی اور بنیادی ڈھانچہ

بینک نے اے آئی کو حکمت عملی کا مرکز قرار دیا ہے، لیکن روایتی انداز کے بجائے انفرا اسٹرکچر پر توجہ دینے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

اس میں سیمی کنڈکٹرز، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ نیٹ ورکس اور بجلی کی فراہمی جیسے شعبے شامل ہیں، جو تکنیکی انقلاب کا اصل سہارا بن چکے ہیں۔

توانائی اور معدنیات کی بڑھتی اہمیت

رپورٹ میں توانائی اور اہم معدنیات جیسے تانبے اور لیتھیم کو محض Hedging (نقصان سے بچاؤ) کے آلات کے بجائے منافع کے بڑے ذرائع قرار دیا گیا ہے۔

اسی طرح توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی کمی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث تیل اور گیس کی مانگ میں مسلسل اضافہ متوقع ہے جو منافع بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

investment gold dollar cash
(فوٹو: اے آئی)

پورٹ فولیو میں سونے کی واپسی

جے پی مورگن نے اپنے پورٹ فولیو میں سونے کو 3 سے 6 فیصد تک شامل کرنے کی واضح سفارش کی ہے۔

بینک کے مطابق سونے نے افراطِ زر اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف خود کو ایک بہترین حفاظتی ڈھال ثابت کیا ہے، جس کی وجہ سے اسے اب محض ایک عارضی سہارے کے بجائے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جے پی مورگن کا یہ تجزیہ سرمایہ کاری کے پرانے تصورات پر ایک بڑی ضرب ہے۔ 

عالمی معیشت کے بدلتے تناظر میں اب صرف روایتی طریقہ کافی نہیں، بلکہ انفرا اسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری ہی دولت کی حقیقی حفاظت اور طویل مدتی استحکام کی ضامن ثابت ہو سکتی ہے۔