براہ راست نشریات

وائٹ کالر جنرلز: ’ایمیزون اور مائیکروسافٹ کا ماسک جو تہران میں گرا‘

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹیکنالوجی کمپنیاں عسکری انضمام اور پینٹاگون کے ساتھ ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے خفیہ معاہدے
امریکی محکمہ دفاع اپنے جنگی طریقوں میں ٹیکنالوجی کو ضم کرنے کی کوشش کر رہا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

جدید دور میں ٹیکنالوجی کمپنیاں امن اور انسانی حقوق کے محافظ کا روپ دھارے ہوئے تھیں، لیکن ایران کے خلاف حالیہ جنگ نے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔

مزید پڑھیں

ایمیزون، مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی کمپنیاں درحقیقت پینٹاگون کے عسکری بازو کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی اور عسکری انضمام کا چیلنج

جنوری 2020 میں مائیک بومبیو نے چین کی ’سول ملٹری فیوژن‘ پالیسی پر تنقید کی تھی اور آج واشنگٹن خود انہی اصولوں پر عمل پیرا ہے۔

 2025 میں ’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ (CSIS) نے 

امریکی دفاعی اداروں کو کمرشل کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو گہرا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

پرائیویٹ کمپنیاں اور میدانِ جنگ

ایران کے خلاف جنگ میں امریکی پینٹاگون نے ’کلاڈ‘نامی مصنوعی ذہانت کے ماڈل کا استعمال کیا، جسے ’اینتھروپک‘نے تیار کیا ہے۔

اس عمل میں ایمیزون، مائیکروسافٹ، گوگل اور اوریکل جیسی کمپنیاں شامل رہی ہیں، جن کی ڈیجیٹل سروسز روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں عسکری انضمام اور پینٹاگون کے ساتھ ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے خفیہ معاہدے
2021 میں ایمیزون نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کیا جسے وائلڈ اینڈ اسٹورمی کہا جاتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

عوامی امیج بمقابلہ زمینی حقائق

سنوڈن انکشافات کے بعد 2013 سے بڑی ٹیک کمپنیوں نے ایک اخلاقی چہرہ بنایا تھا۔

ایپل نے پرائیویسی کو تجارتی ہتھیار بنایا اور گوگل کے ملازمین نے 2018 میں ’پروجیکٹ میون‘ کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ سب ایک سوچی سمجھی مارکیٹنگ حکمت عملی تھی تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رہے۔

خفیہ معاہدوں کا جال

دوسری جانب پردے کے پیچھے صورتحال بالکل مختلف تھی۔

ایمیزون نے 2013 میں سی آئی اے  کے ساتھ 600 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا۔ 2021 میں ’وائلڈ اینڈ سٹورمی‘ نامی خفیہ معاہدے کے تحت این ایس اے  کا ڈیٹا ایمیزون کی کلاؤڈ سروسز پر منتقل کیا گیا۔ 

اس طرح گوگل اور مائیکروسافٹ بھی اسی راستے پر چل پڑے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں عسکری انضمام اور پینٹاگون کے ساتھ ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے خفیہ معاہدے
سلیکون ویلی لیڈرشپ گروپ سے اپنے 2020 کے خطاب میں مائیک پومپیو نے چین سے پیدا ہونے والے خطرے سے خبردار کیا تھا (فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگی آپریشنز میں نئی پیشرفت

پینٹاگون کے ’جے ڈبلیو سی سی‘ کنٹریکٹ کے تحت اب گوگل اور دیگر کمپنیاں براہ راست عسکری نیٹ ورکس کا حصہ ہیں۔

گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت کے اصولوں میں ترمیم کی ہے تاکہ قومی سلامتی کے نام پر ہتھیاروں کی تیاری میں معاونت کی جا سکے، جو کہ ایک اہم تبدیلی ہے۔

اسرائیل اور ’نیمبس‘ پروجیکٹ

اسرائیل کے ساتھ گوگل اور ایمیزون کا ’نیمبس‘ معاہدہ 1.2 ارب ڈالر کا ہے۔

دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ یہ معاہدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود اسرائیلی فوج کو ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کی مکمل آزادی دیتا ہے، جس سے کمپنیاں براہ راست ذمہ دار بن جاتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں بیک وقت حکومتوں سے اربوں ڈالر کے معاہدے اور دوسری جانب صارفین سے پرائیویسی کے وعدے کر رہی ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ’سویلین‘ اور ’ملٹری‘ کے درمیان فرق صرف کاغذوں تک محدود تھا۔ اب یہ کمپنیاں عسکری حکمت عملی کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہیں۔