جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) ایک اہم سیاسی و اقتصادی بلاک ہے جو آج دنیا کی ساتویں بڑی معاشی قوت بن چکی ہے۔
مزید پڑھیں
1967ء میں قائم ہونے والی یہ تنظیم اپنے رکن ممالک کے درمیان معاشی، ثقافتی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
قیام اور دلچسپ پس منظر
آسیان کی بنیاد 8 اگست 1967 کو بنکاک میں پڑی اور اس کے بانیوں میں انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ شامل تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا ابتدائی مسودہ غیر رسمی طور پر گالف
کھیلتے ہوئے تیار کیا گیا، جسے ’اسپورٹس شرٹ ڈپلومیسی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
آسیان کا منشور اور مقاصد
بنیادی دستاویز ’اعلامیہ بنکاک‘ کا مقصد علاقائی امن و استحکام تھا۔
تنظیم کا عزم رکن ممالک کی داخلی خود مختاری کا احترام، تنازعات کا پرامن حل اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت سے گریز ہے۔ یہ تنظیم آج خطے میں معاشی اور سماجی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
تنظیم کا ارتقا اور توسیعی سفر
آغاز میں 5 ممالک پر مشتمل اس تنظیم میں بعدازاں برونائی، ویتنام، لاؤس، میانمار اور کمبوڈیا شامل ہوئے۔
1997ء میں تنظیم کے 30 سال مکمل ہونے پر اس کے لوگو کو تبدیل کیا گیا اور آج اس کا لوگو تمام رکن ممالک کے اتحاد، خوشحالی اور امن کا عکاس ہے۔
قیادت اور انتظامی ڈھانچہ
تنظیم کے فیصلے سربراہی اجلاس (سمٹ) میں ہوتے ہیں، جو سال میں 2 بار منعقد ہوتا ہے۔
اس کا سیکریٹریٹ جکارتہ میں واقع ہے، جس کا سربراہ رکن ممالک سے باری باری منتخب ہوتا ہے۔ اس کے نیچے سیاسی، اقتصادی اور سماجی و ثقافتی کونسلیں امور چلاتی ہیں۔
کلیدی ذمہ داریاں اور عزم
رکن ممالک انسانی حقوق کے تحفظ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے پابند ہیں۔
تنظیم کا عزم ہے کہ پورے خطے کو ایٹمی ہتھیاروں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک رکھا جائے، تاکہ خطے میں پائیدار ترقی اور امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔
معاشی و قانونی کامیابیاں
آسیان نے کئی معاہدے کیے ہیں، جن میں 1976ء کا دوستی و تعاون کا معاہدہ نمایاں ہے۔
2008ء میں اس کا نیا منشور نافذ ہوا، جس نے تنظیم کو ایک باقاعدہ قانونی حیثیت دی۔ آج یہ خطے کی تجارت، صنعت اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
آسیان کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
ایک گالف کورس سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک ایسی عالمی قوت میں تبدیل ہو چکا ہے جو علاقائی امن اور معاشی استحکام کا ایک مضبوط ستون مانی جاتی ہے۔