لیبیا کے علاقے ’دور الطلح‘ سے ملنے والی چوتھی اور انتہائی نایاب غار باقیات نے ماہرینِ آثار قدیمہ کو حیران کر دیا ہے، جسے سائنس دانوں نے اب تک کا ’عجیب ترین بندر‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ دریافت حال ہی میں ’جرنل آف ہیومن ایوولوشن‘ میں شائع ہوئی ہے۔
فرانسیسی ٹیم نے لیبیا کی بنغازی اور طرابلس یونیورسٹی کے ماہرین ڈاکٹر عوض بلال اور ڈاکٹر اسامہ ہلال کے ساتھ یہ دریافت کی ہے۔
’صحرا پیتھیکس سالمی‘ نامی اس بندر کے دانتوں کی ساخت اتنی پیچیدہ اور عجیب ہے کہ محققین اسے کسی معروف تاریخی زمرے میں رکھنے سے قاصر ہیں۔
غیر معمولی جسمانی ساخت
یونیورسٹی آف پوئٹیئر کے ماہر یاوالاک تشائیمانی کے مطابق 38 سے 39 ملین سال پرانے اس بندر کے دانتوں میں قدیم اور جدید صفات کا امتزاج پایا گیا ہے۔
اس میں ابھری ہوئی مخروطی نوکیں اور چبانے کی حرکت میں مددگار ایک خاص چھوٹی لکیر موجود ہے، جو ایوسین دور کے کسی بھی دوسرے بندر میں اب تک نہیں دیکھی گئی۔
تحقیق
یہ دریافت دور الطلح کے علاقے سے جمع کردہ تلچھٹ کے نمونوں کو دھونے اور چھاننے کے بعد کی گئی ہے۔
ہزاروں چھوٹے ٹکڑوں میں سے سائنسدانوں کو یہ نایاب دانت ملا، جس کے بعد سی ٹی اسکین کے ذریعے اس کی ساخت کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا اور اسے ایک نئی نسل قرار دیا گیا۔
دانت:اہم سائنسی ثبوت
ماہرین کے نزدیک دانت، جانوروں کی تاریخ جاننے کا سب سے مستند ذریعہ ہیں۔ کیونکہ ہڈیاں جلدی تحلیل ہو جاتی ہیں جبکہ دانت طویل عرصے تک محفوظ رہتے ہیں۔
دانتوں کی ساخت سے سائنسدانوں نے اس بندر کی غذائی عادات، ارتقائی تعلق اور ان کے سماجی رویوں کا اندازہ لگایا ہے جو قدیم نسلوں کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس دریافت نے پرانے نظریے کو بھی چیلنج کردیا ہے، جس کے مطابق افریقہ میں صرف ایک ہی قدیم بندر کی نسل ایشیا سے آئی تھی۔
اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اس دور میں افریقہ میں کم از کم 4 مختلف اقسام کے قدیم بندر ایک ساتھ موجود تھے، جو ارتقائی تاریخ کا نیا رخ ہے۔
مستقبل کی امید
دور الطلح کا مقام مصر کے فیوم سے بھی زیادہ قدیم ہے اور یہ افریقہ میں ابتدائی بندوں کے تنوع کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ شمالی افریقہ کے وسیع رقبے پر پھیلی یہ قدیم باقیات ابھی مزید کئی راز اگلیں گی جو انسانی ارتقا کے گمشدہ روابط کو واضح کر سکیں گی۔
یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ لیبیا کا صحرا ارتقائی تاریخ کا ایک بڑا گڑھ ہے، جہاں ہونے والی مزید کھدائیاں مستقبل میں انسانی اور حیوانی ارتقا کے پیچیدہ سوالات کے جوابات فراہم کر سکتی ہیں، بشرطیکہ یہاں مزید سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کو بڑھایا جائے۔