فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز پر جہاں امریکی شائقین اپنی ٹیم کی پیراگوئے کے خلاف 4-1 سے شاندار فتح کا جشن منا رہے تھے، وہیں اس ایونٹ کا ایک پہلو عالمی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مسلسل زیرِ بحث رہا۔
وہ اہم پہلو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افتتاحی تقریب اور میچ سے غیر حاضری تھا۔
مزید پڑھیں
واضح رہے کہ یہ تقریب اب محض ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں رہی، بلکہ سیاست، میڈیا اور کھیل کا ایک ایسا امتزاج بن گئی جس نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔
یہ جیت نہ صرف کھیل کے میدان میں ایک مضبوط آغاز ہے بلکہ میزبان ملک کے لیے ایک نفسیاتی برتری بھی ثابت ہوئی ہے۔
میچ سے قبل سوفائی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب نے بھی خوب رنگ جمایا۔
اس تقریب میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں، بشمول کیٹی پیری، کولمبیا کے ریما ، برازیل کی انیتا ، کے-پاپ اسٹار لیزا اور ریپر فیوچر نے اپنی پرفارمنس سے سماں باندھ دیا۔
منتظمین کا مقصد اس افتتاحی تقریب کو سپر باؤل (Super Bowl) جیسی مقبولیت دینا تھا، جس میں کھیل اور تفریح کا حسین امتزاج پیش کیا گیا۔
Stadium half empty for opening ceremonies 😔 pic.twitter.com/IqvddrQfkp
— Casey Settleman (@csett13) June 12, 2026
سوشل میڈیا پر ناراضی
مجموعی طور پر 70 ہزار سے زائد شائقین کی موجودگی کے باوجود افتتاحی تقریب کے دوران اسٹیڈیم میں نظر آنے والی خالی نشستوں نے سوشل میڈیا صارفین کو تنقید کا موقع فراہم کیا۔
ٹاک اسپورٹ (TalkSport) کے مطابق بہت سے مداحوں نے شکوہ کیا کہ یہ منظر ایک عالمی ایونٹ کے شایانِ شان نہیں تھا۔
کچھ حلقوں کی جانب سے ٹکٹوں کی بھاری قیمتوں کو اس خلا کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا، جس کا موازنہ میکسیکو میں ہونے والے دیگر مقابلوں کی فضا سے بھی کیا گیا۔
غائب یا حاضر: ٹرمپ کا تذکرہ اور سیاست
برطانوی اخبار گارڈین اور انڈیپنڈنٹ نے اپنی کوریج میں اس بات پر زور دیا کہ میزبان ملک کے سربراہِ مملکت کا افتتاحی میچ میں نہ آنا عالمی سطح پر ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
روایتی طور پر سابقہ ورلڈ کپ مقابلوں میں میزبان ممالک کے سربراہانِ حکومت ایسی تقریبات میں خصوصی شرکت کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ ذاتی طور پر اسٹیڈیم میں موجود نہیں تھے، لیکن امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سرکاری وفد کی قیادت کی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی عدم موجودگی کی وجہ واشنگٹن میں ان کی مصروفیات اور دفتری کام تھے۔
ٹرمپ کا خصوصی پیغام
افتتاحی تقریب سے چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیم کے ہیڈ کوچ ماوریسیو پوچیٹینو اور کھلاڑیوں سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس کی ویڈیو امریکی ٹیم کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی۔
صدر ٹرمپ نے کوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کے شاندار ریکارڈ اور کامیابیوں کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ مجھے اس ٹیم کی صلاحیتوں پر پورا یقین ہے اور امید ہے کہ آپ فائنل تک کا سفر طے کریں گے۔
کوچ پوچیٹینو نے اس حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ ٹیم ملک کو فخر محسوس کروانے کے لیے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
Last night, we received a message of support from POTUS ahead of our World Cup journey. pic.twitter.com/MVPITGldtS
— U.S. Soccer Men's National Team (@USMNT) June 12, 2026
ایونٹ کھیلوں کی حدود سے آگے نکل گیا
ورلڈ کپ 2026 کا یہ افتتاحی مرحلہ ثابت کرتا ہے کہ فٹ بال اب صرف ایک کھیل نہیں رہا بلکہ ایک ایسا عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں سیاسی علامات، سفارتی نمائندگی اور عوامی جذبات کا گہرا تعلق ہے۔
پیراگوئے کے خلاف فتح کی خوشی ہو یا صدر ٹرمپ کی عدم موجودگی پر ہونے والی بحث، یہ سب اس بات کا عکاس ہے کہ امریکا کی میزبانی میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ پہلے ہی دن سے عالمی سیاست اور میڈیا کی سرخیوں کا محور بن چکا ہے۔