یوکرین کی جانب سے تیار کردہ فلیمنگو (FP-5) میزائل جدید جنگی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
مزید پڑھیں
یہ کروز میزائل طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت، کم تیاری لاگت اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی خصوصیات کے باعث دفاعی دنیا میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
اس میزائل کو اسٹارٹ اپ کمپنی ’فائر پوائنٹ‘ نے تیار کیا ہے، جس کا انکشاف اگست 2025 میں ہوا تھا۔
اس منصوبے کا آغاز 2022ء میں روس یوکرین جنگ کے بعد ہوا، جس
میں بین الاقوامی پارٹنرشپ اور مقامی مہارتیں یکجا کر کے اسے ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر ڈھالا گیا ہے۔
پیداواری عمل اور حکمت عملی
فلیمنگو کی تیاری میں پرانے ذخائر سے حاصل کردہ ’ایوچینکو‘ ٹربائن انجنوں کی بازیافت اور جدید آلات کے ساتھ ان کی ری ماڈلنگ شامل ہے۔
یہ طریقہ کار مہنگے پرزوں کی جگہ سستے متبادل استعمال کر کے مجموعی لاگت کو نمایاں حد تک کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سےپیداوار بھی تیز ہو جاتی ہے۔
تکنیکی خصوصیات اور کارکردگی
فلیمنگو کی آپریشنل رینج 3 ہزار کلومیٹر تک ہے، جبکہ اس کی رفتار 950 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
6 میٹر طویل یہ میزائل تقریباً 1150 کلوگرام وزنی وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی پرواز کی کم از کم بلندی 50 میٹر ہے جو اسے دشمن کے ریڈار سے بچاتی ہے۔
ڈیزائن اور گائیڈنس سسٹم
یہ میزائل فائبر گلاس اور کاربن فائبر سے بنا ہے، جو اس کی ریڈار شناخت کو کم کرتا ہے۔
اس میں سیٹلائٹ نیویگیشن کے ساتھ انرشیل نیویگیشن سسٹم (INS) کو بطور بیک اپ رکھا گیا ہے، جو اسے جامنگ کے خلاف مزاحمت فراہم کرتا ہے اور ہدف کو نشانہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
اسٹریٹیجک فوائد
یوکرین کے لیے اس میزائل کا سب سے بڑا فائدہ مغربی پابندیوں سے آزادی ہے۔
یہ میزائل یوکرین کے مکمل کنٹرول میں ہے، جس کے باعث کیف اسے اپنی عسکری ضروریات کے مطابق روسی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے لیے بلا روک ٹوک استعمال کر سکتا ہے۔
میدانی تجربات اور کارروائیاں
اگست 2025ء میں فعال ہونے کے بعد سے فلیمنگو نے کریمیا اور روس کے اندر متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
فروری میں فوتکنسک فیکٹری پر حملے کے دوران اس نے 1650 کلومیٹر سے زائد کا سفر کیا، جبکہ مئی 2026ء میں چیبوکساری کی ایک عسکری تنصیب کو بھی کامیابی سے ہدف بنایا۔
فلیمنگو میزائل کا کامیاب استعمال ثابت کرتا ہے کہ جدید جنگ میں اب ’سستی ماس پروڈکشن‘ مہنگے ترین ہتھیاروں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ میزائل یوکرین کی عسکری خود مختاری کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ممالک کو اپنی روایتی دفاعی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔