اہم خبریں
11 June, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

وائٹ ہاؤس میں تقسیم اور گھبراہٹ کیوں؟ ایپسٹین اسکینڈل کے 6 اہم راز

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویکسین اور طبی سائنس میں انسانی تجربے کا منظر
اس معاملے نے وائٹ ہاؤس کے فیصلہ ساز حلقوں میں گہری تقسیم پیدا کر دی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی جریدے ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ جفری ایپسٹین کا اسکینڈل ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک سنگین سیاسی بحران بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق اس معاملے نے وائٹ ہاؤس کے فیصلہ ساز حلقوں میں گہری تقسیم پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں ایپسٹین کرائسس سیل کا قیام

وائٹ ہاؤس کا ’سیچوایشن روم‘، جو عام طور پر عسکری اور سیکیورٹی بحرانوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے، ایپسٹین کیس کی سیاسی آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس اور چیف آف اسٹاف سوزی وائلز سمیت دیگر اہم حکام یہاں متواتر ہنگامی اجلاس منعقد کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کی معاملہ دبانے کی کوششیں

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر شدید برہم رہتے تھے اور انہوں نے دستاویزات منظر عام پر لانے کی ہر کوشش کی مخالفت کی تھی۔

یہاں تک کہ انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کو اپنی پرانی وابستگیوں پر مبنی رپورٹ شائع کرنے سے روکنے کے لیے براہِ راست مالکان سے رابطے بھی کیے۔

جے ڈی وینس مذاکرات اسلام آباد ایران امریکا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (فوٹو: انٹرنیٹ)

جے ڈی وینس کا شفافیت پر زور

صدر ٹرمپ کے برعکس نائب صدر جے ڈی وینس نے تمام دستاویزات عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اُن کا مؤقف تھا کہ مکمل شفافیت ہی اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے، کیونکہ مسلسل لیکس اور الزامات کے سامنے رہنے سے ٹرمپ کے سیاسی حامیوں میں بدگمانی بڑھ رہی ہے۔

وزارتِ انصاف میں شدید تناؤ

اس اسکینڈل نے وزیر انصاف پام بونڈی اور ایف بی آئی کے اعلیٰ حکام کے درمیان خلیج پیدا کر دی تھی۔

ایف بی آئی کے نائب ڈائریکٹر ڈین بونگینو اور ڈائریکٹر کاش پٹیل نے نہ صرف بونڈی پر معلومات لیک کرنے کا الزام لگایا، بلکہ ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا۔

اس صورت حال پر وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے تھے۔

امریکی کانگریس میں جیفری ایپسٹین کیس کے سلسلے میں پیش ہونے والے بل گیٹس
بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین (فوٹو: انٹرنیٹ)

غیریقینی الزامات پر مباحثے

وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاسوں میں کئی بار ایسے الزامات پر بھی بحث ہوئی جو ثابت نہیں ہوئے تھے۔

حکام اس کشمکش میں مبتلا رہے کہ کیا ان غیر مصدقہ دستاویزات کو سرکاری ڈیٹا بیس کا حصہ بنایا جائے یا نہیں، کیونکہ خدشہ تھا کہ اس سے ان بے بنیاد الزامات کو سرکاری حیثیت مل جائے گی۔

اس سال بھی عوامی تشویش برقرار

ایک سال گزرنے کے باوجود یہ کیس عوامی سطح پر گرم ہے۔

ریپبلکن پولسٹر ٹونی فابریٹیزیو کے ایک اندرونی میمو میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین فائلز ووٹرز کے لیے بہت زیادہ تشویش کا باعث ہیں، جس سے ٹرمپ کے حامیوں میں منفی تاثرات پیدا ہو رہے ہیں۔

الجزیرہ کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ جفری ایپسٹین کا معاملہ محض ایک پرانا مجرمانہ کیس نہیں رہا، بلکہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی ساکھ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ 

اس معاملے نے ثابت کیا ہے کہ صدر ٹرمپ سیاسی بیانیے کو کنٹرول کرنے میں اپنی روایتی گرفت کھو چکے ہیں۔