آبنائے ہرمز کی بندش کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد تیل کے عالمی اسٹریٹجک ذخائر اب صرف ہنگامی آلہ نہیں رہے، بلکہ یہ عالمی معیشت کو قیمتوں کے ایک بڑے طوفان سے بچانے والی آخری حفاظتی دیوار بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس پوری پیچیدہ صورتحال نے توانائی کے بحران کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا دیا ہے۔
بحران کی شدت اور مارکیٹ کا ردعمل
فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد ہرمز میں نقل و حمل متاثر ہوئی۔
منڈی سے ایک ارب بیرل تیل غائب ہو چکا ہے، جبکہ جے پی مورگن کا تخمینہ ہے کہ روزانہ 14 ملین بیرل کا نقصان ہو رہا ہے۔
اسٹریٹجک ذخائر کا کردار
11 مارچ کو عالمی توانائی ایجنسی نے 400 ملین بیرل ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا، جو تنظیم کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی تھی۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مطابق اس میں سے 301 ملین بیرل خام تیل تھا، جس نے روزانہ 2.5 ملین بیرل کی فراہمی یقینی بنائی۔
قیمتوں کے استحکام کا معمہ
برینٹ کروڈ کی قیمت 90 سے 100 ڈالر کے درمیان رہی، حالانکہ جنگ کے دوران یہ 118.35 ڈالر تک پہنچی تھی۔
یہ استحکام کسی ایک وجہ سے نہیں، بلکہ اسٹریٹجک ذخائر، تجارتی اسٹاکس (200-250 ملین بیرل)، سمندر میں موجود 100 سے 150 ملین بیرل تیل کے مشترکہ استعمال کا نتیجہ ہے۔
متبادل راستوں کی محدودیت
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور ابوظبی-فجیرہ پائپ لائن نے روزانہ 5.7 ملین بیرل کی اضافی گنجائش فراہم کی۔
اس کے علاوہ مارکیٹ میں موجود سرپلس سے 0.7 ملین بیرل شامل ہوئے۔ مجموعی طور پر 6.4 ملین بیرل کے طویل مدتی متبادل ذرائع نے بحران کی شدت کو کسی حد تک کم رکھا۔
بحران کا نازک موڑ
ماہر توانائی عامر شوبکی کے مطابق منڈی اب ایک نازک موڑ پر ہے۔
ذخائر، جو اب تک قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل تک جانے سے روک رہے تھے، اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ اب اگر ہرمز نہ کھلی تو عالمی منڈی کو روزانہ 7.1 ملین بیرل کے فرق کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چین اور امریکہ کی حکمت عملی
امریکہ نے اپنے ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کیا، جبکہ چین نے اپنی درآمدات میں روزانہ 6 ملین بیرل کی کمی کر کے منڈی کے دباؤ کو کم کیا۔
تاہم یہ اقدامات وقتی ہیں اور ذخائر کے ختم ہونے سے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مستقبل کے خدشات
اگر یہ بحران طویل ہوتا ہے تو اثرات صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ سلفر، یوریا، پیٹرو کیمیکلز اور الیکٹرانک چپس جیسی اشیا بھی متاثر ہوں گی۔
ماہرین کے مطابق اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ وقتی طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہیں۔
ہرمز کا بحران اگر مزید طول پکڑتا ہے، تو عالمی منڈی طلب کی تباہی کے مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جہاں قیمتوں کا دباؤ برداشت سے باہر ہو جائے گا۔