اہم خبریں
9 June, 2026
--:--:--

ہرمز بندش کے 100 دن: کیا تیل کے عالمی ذخائر ختم ہورہے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ تجزیہ
عالمی توانائی ایجنسی نے منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز کی بندش کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد تیل کے عالمی اسٹریٹجک ذخائر اب صرف ہنگامی آلہ نہیں رہے، بلکہ یہ عالمی معیشت کو قیمتوں کے ایک بڑے طوفان سے بچانے والی آخری حفاظتی دیوار بن چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس پوری پیچیدہ صورتحال نے توانائی کے بحران کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا دیا ہے۔

بحران کی شدت اور مارکیٹ کا ردعمل

فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد ہرمز میں نقل و حمل متاثر ہوئی۔ 

 انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے مطابق تب سے اب تک  عالمی 

منڈی سے ایک ارب بیرل تیل غائب ہو چکا ہے، جبکہ جے پی مورگن کا تخمینہ ہے کہ روزانہ 14 ملین بیرل کا نقصان ہو رہا ہے۔

اسٹریٹجک ذخائر کا کردار

11 مارچ کو عالمی توانائی ایجنسی نے 400 ملین بیرل ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا اعلان کیا، جو تنظیم کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی تھی۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مطابق اس میں سے 301 ملین بیرل خام تیل تھا، جس نے روزانہ 2.5 ملین بیرل کی فراہمی یقینی بنائی۔

تیل کے ٹینکرز اور ایرانی تیل کی پیداوار میں کمی کو ظاہر کرتا گرافک یا تصویر
گنجائش ختم ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ’اسکریپ اسٹوریج‘ کا استعمال ہو رہا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

قیمتوں کے استحکام کا معمہ

برینٹ کروڈ کی قیمت 90 سے 100 ڈالر کے درمیان رہی، حالانکہ جنگ کے دوران یہ 118.35 ڈالر تک پہنچی تھی۔

یہ استحکام کسی ایک وجہ سے نہیں، بلکہ اسٹریٹجک ذخائر، تجارتی اسٹاکس (200-250 ملین بیرل)،  سمندر میں موجود 100 سے 150 ملین بیرل تیل کے مشترکہ استعمال کا نتیجہ ہے۔

متبادل راستوں کی محدودیت

سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور ابوظبی-فجیرہ پائپ لائن نے روزانہ 5.7 ملین بیرل کی اضافی گنجائش فراہم کی۔

اس کے علاوہ مارکیٹ میں موجود سرپلس سے 0.7 ملین بیرل شامل ہوئے۔ مجموعی طور پر 6.4 ملین بیرل کے طویل مدتی متبادل ذرائع نے بحران کی شدت کو کسی حد تک کم رکھا۔

خلیجی تیل پیداوار ہرمز بحالی عالمی سپلائی
آبنائے ہرمز بندش کی وجہ سے عالمی منڈی میں بحران پیدا ہوا (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

بحران کا نازک موڑ

ماہر توانائی عامر شوبکی کے مطابق منڈی اب ایک نازک موڑ پر ہے۔

ذخائر، جو اب تک قیمتوں کو 150 ڈالر فی بیرل تک جانے سے روک رہے تھے، اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔ اب اگر ہرمز نہ کھلی تو عالمی منڈی کو روزانہ 7.1 ملین بیرل کے فرق کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چین اور امریکہ کی حکمت عملی

امریکہ نے اپنے ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کیا، جبکہ چین نے اپنی درآمدات میں روزانہ 6 ملین بیرل کی کمی کر کے منڈی کے دباؤ کو کم کیا۔

تاہم یہ اقدامات وقتی ہیں اور ذخائر کے ختم ہونے سے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

brent oil
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

مستقبل کے خدشات

اگر یہ بحران طویل ہوتا ہے تو اثرات صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ سلفر، یوریا، پیٹرو کیمیکلز اور الیکٹرانک چپس جیسی اشیا بھی متاثر ہوں گی۔

ماہرین کے مطابق اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ وقتی طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہیں۔ 

ہرمز کا بحران اگر مزید طول پکڑتا ہے، تو عالمی منڈی طلب کی تباہی کے مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جہاں قیمتوں کا دباؤ برداشت سے باہر ہو جائے گا۔