مصنوعی ذہانت اب محض سوالوں کے جواب دینے والا ٹول نہیں رہا۔
مزید پڑھیں
کسی دفتر کی رپورٹ ہو، یونیورسٹی کا اسائنمنٹ، کاروباری منصوبہ یا کسی ذاتی مسئلے پر مشورہ، لاکھوں لوگ روزانہ چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ٹولز سے ایسی معلومات شیئر کر رہے ہیں جو بعض اوقات خاصی حساس بھی ہوسکتی ہیں۔
یہ سہولت اب ایک اہم سوال کو جنم دے رہی ہے کہ ہم چیٹ جی پی ٹی کو جو کچھ بتاتے ہیں، اس پر ہمارا کتنا کنٹرول ہے اور اپنی گفتگو کو
اے آئی ماڈلز کی بہتری کے لیے استعمال ہونے سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟
🔐 یہ کیوں اہم ہے؟
ہر سوال ایک ڈیٹا ہے
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اے آئی کے دور میں ڈیٹا کی اہمیت غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔
مصر کی وزارت داخلہ کے شعبہ اطلاعات و تعلقات کے سابق اعلیٰ عہدیدار میجر جنرل ابوبکر عبدالکریم کے مطابق صارف کا لکھا ہوا سوال، اپ لوڈ کی گئی فائل اور پلیٹ فارم پر ہونے والی گفتگو، اے آئی ماڈلز کی ترقی کے لیے اہم ڈیٹا بن سکتی ہے۔
اے آئی کو بہتر جواب، غلطیوں کی اصلاح اور کارکردگی میں بہتری کے لیے بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صارف کو اپنی پرائیویسی سیٹنگز پر خود نظر رکھنی چاہیے، خاص طور پر جب چیٹ جی پی ٹی کام یا کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔
ایک سیٹنگ جو جاننا ضروری ہے
عرب مرکز برائے تحقیق و مطالعات میں مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد محسن رمضان کے مطابق صارف چیٹ جی پی ٹی کی سیٹنگز میں جاکر اپنی نئی گفتگو کو ماڈلز بہتر بنانے کے لیے استعمال ہونے سے روک سکتا ہے۔
اس کے لیے چیٹ جی پی ٹی میں Settings کھولیں، پھر Data Controls میں جائیں اور Improve the model for everyone کا آپشن بند کردیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ آپشن بند ہونے کے بعد نئی گفتگو اکاؤنٹ پر لاگو پالیسی کے تحت ماڈلز بہتر بنانے کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
حساس گفتگو کے لیے کیا کریں؟
اگر آپ کوئی گفتگو عام چیٹ ہسٹری کا حصہ نہیں بنانا چاہتے تو Temporary Chat استعمال کی جاسکتی ہے۔
یہ گفتگو کو عام چیٹ ہسٹری میں محفوظ ہونے سے روکتی ہے اور پرائیویسی کی ایک اضافی سطح فراہم کرتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حساس معلومات بلاجھجک اے آئی کو دے دی جائیں۔
چیٹ جی پی ٹی پر گفتگو محفوظ رکھنے کی تدابیر
مصنوعی ذہانت کو فراہم کی جانے والی معلومات کی پرائیویسی اور ڈیٹا تحفظ یقینی بنائیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق صارفین اپنے سوالات اور حساس ڈیٹا کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے سے خود روک سکتے ہیں۔
⚙️ ماڈل ٹریننگ کی بندش
سیٹنگز میں جائیں، ڈیٹا کنٹرولز منتخب کریں اور ماڈل کی بہتری کا آپشن بند کر کے اپنی گفتگو کا استعمال روکیں۔
💬 عارضی گفتگو کا استعمال
عام چیٹ ہسٹری میں گفتگو محفوظ ہونے سے بچانے کے لیے 'ٹیمپریری چیٹ' کے ذریعے پرائیویسی کی اضافی سطح حاصل کریں۔
🚫 حساس ڈیٹا سے اجتناب
پاس ورڈ، بینک کارڈ تفصیلات، سرکاری دستاویزات، پاس ورڈز اور کوڈز کسی بھی کلاؤڈ سروس پر قطعاً شیئر نہ کریں۔
🔒 بنیادی ڈیجیٹل احتیاط
مضبوط پاس ورڈز، ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اور مشترکہ سسٹمز پر فوری لاگ آؤٹ کی عادت اپنائیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
کیا چیز کبھی شیئر نہیں کرنی چاہیے؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پاس ورڈ، بینک کارڈ کی تفصیلات، سرکاری دستاویزات، کاروباری راز، کلائنٹس کا خفیہ ڈیٹا، حساس طبی معلومات، خفیہ کوڈز اور API Keys کسی اے آئی پلیٹ فارم پر درج نہیں کرنی چاہییں۔
ڈیجیٹل سکیورٹی کا سادہ اصول یہی ہے کہ جو معلومات آپ اپنے دفتر، گھر یا ذاتی دائرے سے باہر نہیں دیکھنا چاہتے، انہیں کسی کلاؤڈ سروس پر بھی شیئر نہ کریں۔
🔐 فیکٹ باکس: ChatGPT اور آپ کی پرائیویسی
اصل حفاظت صارف کے ہاتھ میں
آنے والے برسوں میں سائبر سیکیورٹی کا مسئلہ صرف ہیکنگ تک محدود نہیں رہے گا۔ اصل سوال یہ بھی ہوگا کہ ہمارا ڈیٹا کہاں جا رہا ہے اور اس پر ہمارا کتنا اختیار ہے۔
اسی لیے پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ، مضبوط پاسورڈ، ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن اور مشترکہ کمپیوٹر پر استعمال کے بعد فوری لاگ آؤٹ جیسی چھوٹی احتیاطیں اب ڈیجیٹل زندگی کی بنیادی ضرورت بنتی جا رہی ہیں۔