اہم خبریں
10 June, 2026
--:--:--

عالمی پابندیوں کے سائے میں پروان چڑھتا ایران کا ڈیجیٹل ایکو سسٹم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران میں مقامی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ای-کامرس ایپس اور تہران کا جدید اسمارٹ سیکیورٹی و مالیاتی نیٹ ورک
ایران کا ڈیجیٹل ماڈل بیرونی پابندیوں اور داخلی سنسر شپ کا ایک پیچیدہ مرکب ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران میں دہائیوں پر محیط معاشی پابندیوں نے جہاں عام زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں اس نے ایک غیر متوقع ڈیجیٹل تبدیلی کو بھی جنم دیا ہے۔

مزید پڑھیں

جب عالمی دیو ہیکل کمپنیوں نے ایران سے انخلا کیا، تو مقامی کاروباری افراد نے اپنی ڈیجیٹل دنیا خود تعمیر کرنے کا بیڑا اٹھایا، جس سے ’ڈیجی کالا‘ اور ’سنیپ ‘ جیسے مقامی ادارے سامنے آئے۔

ڈیجی کالا: ایران کا ’ایمیزون ‘ 

2006 میں 2 بھائیوں حامد اور سعید محمدی نے کیمرے کی خریداری میں پیش آنے والی دشواریوں کے بعد ’ڈیجی کالا‘ کی بنیاد رکھی۔ 

آج یہ پلیٹ فارم ایران کی ای-کامرس مارکیٹ کے 85 فیصد حصے پر قابض ہے، جو محض ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ اعتماد کے فقدان والے بازار میں شفافیت اور معیار کا ایک نیا نام بن چکا ہے۔

سنیپ: ایک سپر ایپ کا ظہور

2014 میں ٹیکسی سروس کے طور پر شروع ہونے والی ’سنیپ‘، آج ایک ایسی ’سپر ایپ‘ بن چکی ہے جو سواری سے لے کر کھانے کی ترسیل، شاپنگ اور ادائیگیوں تک تقریباً 20 مختلف خدمات فراہم کرتی ہے۔

2020 تک اس ایپ نے ایرانی مقامی ٹرانسپورٹ مارکیٹ کا 85 فیصد حصہ سنبھال لیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی کمپنیوں کی عدم موجودگی میں مقامی ٹیکنالوجی کس قدر تیزی سے خلا پُر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایران میں مقامی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ای-کامرس ایپس اور تہران کا جدید اسمارٹ سیکیورٹی و مالیاتی نیٹ ورک
ایک کیمرے کی خریداری میں پیش آنے والی دشواریوں کے بعد ’ڈیجی کالا‘ کی بنیاد رکھی گئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

صحت اور ٹیکنالوجی: بحران سے حل تک

پابندیوں کے باوجود ایران نے صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر پر توجہ مرکوز کی۔

2007 میں شروع ہونے والا ’سِپاس‘ پروجیکٹ، بعد ازاں الیکٹرانک نسخوں کے نظام نے طبی خدمات کو مربوط کیا۔

کووڈ-19 کے دوران ٹیلی میڈیسن کے شعبے میں 30 سے زائد نئی کمپنیاں ابھریں، جنہوں نے لاکھوں مریضوں کو دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات پہنچانے میں مدد کی۔

ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر اور مالیاتی خودمختاری

عالمی مالیاتی نظام ’سوئفٹ‘ تک رسائی نہ ہونے کے باعث ایران نے اپنے داخلی مالیاتی نیٹ ورک، خاص طور پر ’شتاب‘ سسٹم کو فروغ دیا۔

2024 میں روس کے ’میر‘ سسٹم کے ساتھ اس کے انضمام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران اب مغربی مالیاتی ڈھانچے سے آزاد ہو کر ایک متوازی عالمی ادائیگیوں کا نیٹ ورک تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سائبر سیکیورٹی اور انفارمیشن کنٹرول

ایران کا ڈیجیٹل ماڈل بیرونی پابندیوں اور داخلی سنسر شپ کا ایک پیچیدہ مرکب ہے۔

حکومت ’ڈیپ پیکٹ انسپیکشن‘ (DPI) اور ’نیشنل انفارمیشن نیٹ ورک‘ (NIN) کے ذریعے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرتی ہے۔ 

اس صورتحال میں 83 فیصد ایرانی وی پی این کا استعمال کرتے ہیں، جو ایک طرف آزادیِ اظہار کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف سائبر سیکیورٹی کے سنگین خطرات کا باعث بھی بن رہا ہے۔

ایران میں مقامی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ای-کامرس ایپس اور تہران کا جدید اسمارٹ سیکیورٹی و مالیاتی نیٹ ورک
پابندیوں کے باوجود ایران نے صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر پر توجہ مرکوز کی (فوٹو: انٹرنیٹ)

انسانی سرمایہ: وادیِ سیلیکون کے معمار

عالمی انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (WIPO) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ایران ٹیکنالوجی کی پیداوار میں دنیا میں 46 ویں نمبر پر ہے۔

ملک کے نامور تعلیمی ادارے جیسے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف تہران ہر سال ہزاروں انجینئرز پیدا کر رہے ہیں۔ 

تہران یونیورسٹی کے ٹیکنالوجی پارک میں 300 سے زائد کمپنیاں بائیو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں کام کر رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی انسانی سرمایہ جدید دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

بقا کی جنگ یا عالمی مسابقت؟

ایرانی ڈیجیٹل ماڈل کی کامیابی قابلِ ستائش ہے، لیکن یہ ایک ’مجبور‘ ماڈل ہے۔

ریاست کا ان کمپنیوں میں 40 فیصد تک حصص حاصل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نجی شعبے کی خودمختاری محدود ہو رہی ہے۔ 

یہ ماڈل بقا کے لیے تو بہترین ہے، لیکن عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے اسے مزید کھلے پن، بیرونی سرمایہ کاری اور آزادانہ ڈیجیٹل ماحول کی ضرورت ہے۔