ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل ایسا واقعہ ہے جس نے عالمی انٹیلی جنس حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن محض ایک اچانک حملہ نہیں تھا، بلکہ برسوں پر محیط ایک مربوط جاسوسی نیٹ ورک کا نتیجہ تھا جس نے ایرانی سیکیورٹی کے گہرے نقائص کو بے نقاب کر دیا۔
مزید پڑھیں
ایرانی سیکیورٹی میں خامیاں
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں تک رسائی حاصل کی تھی، جو اسرائیل کے ڈیٹا سرورز سے براہ راست منسلک تھے۔
اس کے علاوہ اسٹریٹیجک شاہراہ ’شارعِ باستور‘ پر موجود کمیونیکیشن ٹاورز کو معطل کر کے ایرانی محافظوں کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا تھا، جس سے کسی بھی وارننگ کا پہنچنا ناممکن ہو گیا۔
اسرائیلی انٹیلی جنس یونٹ 8200 اور موساد نے مل کر ایک ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جس نے ایرانی فیصلہ سازی کے مراکز کو ہدف بنایا۔
آخرکار امریکی انٹیلی جنس سے حاصل ہونے والی انسانی خفیہ معلومات نے اس اہم مشن کو حتمی شکل دی، جس کے نتیجے میں ہدف کو انتہائی درست نشانہ بنانے والے 30 میزائلوں سے خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھیوں کو جاں بحق کیا گیا۔
ایرانی ٹیکنالوجی: اندرونی کنٹرول ،بیرونی کمزوری
حیران کن بات یہ ہے کہ ایران نے اپنے اندرونی احتساب کے لیے ایک پیچیدہ ڈیجیٹل نظام بنا رکھا تھا۔
روس سے حاصل کردہ ’فائنڈ فیس‘ (FindFace) سافٹ ویئر اور مقامی کیمروں کا جال، جس میں 30 کروڑ سے زائد ڈیٹا پوائنٹس شامل تھے، دراصل ایرانی عوام کو قابو کرنے کے لیے تھا،لیکن یہ تمام نظام بیرونی دنیا کے لیے ’اوپن بک‘ ثابت ہوا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی سب سے بڑی غلطی غیر ملکی ساختہ (خاص طور پر چینی ساختہ) کیمروں کا استعمال تھا جن میں موجود سیکیورٹی خلا کو بند نہیں کیا گیا تھا۔
ایران نے خود انہی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کی نگرانی کی تھی، مگر وہی کمزوری دشمن نے ایران کے خلاف استعمال کر کے اسے اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ بنا دیا۔
چینی ماڈل: ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کا سفر
اس کے برعکس چین نے گزشتہ 2 دہائیوں میں ایک ایسا ڈیجیٹل قلعہ تعمیر کیا ہے جس میں غیر ملکی مداخلت تقریباً ناممکن ہے۔
چین نے اپنے سیکیورٹی کیمروں سے لے کر مائیکرو چپس تک، تمام پرزے مقامی سطح پر تیار کیے ہیں۔
آج وہاں 60 کروڑ سے زائد کیمرے نصب ہیں، جنہیں حکومت کے ’سکائی نیٹ‘ اور ’شارپ آئیز‘ (Sharp Eyes) منصوبوں کے تحت براہ راست کنٹرول کیا جاتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ چین کی ڈیجیٹل خود انحصاری صرف کیمروں ہی تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے مواصلاتی نیٹ ورکس (ہواوے اور زی ٹی ای) کو ریاست کے زیرِ انتظام رکھا ہے، جس سے نیٹ ورک کی تہوں میں کسی بھی غیر ملکی جاسوسی سافٹ ویئر کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔
ان کا ’گریٹ فائر وال‘ انٹرنیٹ ٹریفک کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے، جس سے ڈیٹا کی برآمدگی قانونی اور تکنیکی دونوں لحاظ سے ناممکن ہے۔
انسانی جاسوسی اور چین کا جوابی ردِعمل
خامنہ ای کے قتل میں انسانی عنصر فیصلہ کن رہا اور چین نے اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے 2010 سے 2012 کے درمیان اپنے ملک میں موجود امریکی سی آئی اے کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔
چین نے اپنے انسدادِ جاسوسی قوانین کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ اب کسی بھی امریکی اہلکار کے لیے وہاں مخبر بھرتی کرنا ایک ناممکن مشن بن چکا ہے۔
ایران کی ناکامی کا بنیادی سبب ٹیکنالوجی کی کمی نہیں، بلکہ اس ٹیکنالوجی کا انحصار، غیر ملکی آلات اور کمزور ڈھانچے پر تھا۔
یہ چینی ماڈل ثابت کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے لیے ڈیجیٹل خودمختاری ناگزیر، تاہم چینی ماڈل کی نقل ہر ملک کے بس کی بات نہیں کیونکہ اس کے لیے دہائیوں کی بھاری سرمایہ کاری اور ریاست کا مکمل کنٹرول درکار ہے۔
ایران کا تجربہ باقی دنیا کے لیے ایک سبق ہے کہ ایک کمزور ڈیجیٹل ڈھانچہ، ریاست کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔