براہ راست نشریات

’ورلڈکپ اکانومی‘:فیفا نے اپنی اربوں ڈالر کی دولت کیسے بنائی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر
ابتدا میں ورلڈ کپ کا انحصار ٹکٹوں کی فروخت اور میزبان ملک کے تعاون پر ہوتا تھا (فوٹو: الجزیرہ)

فیفا کا مالیاتی سفر گزشتہ صدی میں سادہ کھیل سے اربوں ڈالر کی عالمی تجارتی سلطنت میں تبدیل ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں

’قطر 2022ء‘ کے اختتام تک عالمی فٹ بال فیڈریشن نے 2019-2022 کے مالیاتی دور میں 7.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی، جس میں صرف ٹورنامنٹ کے سال 5.8 ارب ڈالر کمائے گئے۔

ابتدائی دور: 1930  تا 1970

ابتدا میں ورلڈ کپ کا انحصار ٹکٹوں کی فروخت اور میزبان ملک کے تعاون پر ہوتا تھا۔

1930 میں پہلا ٹورنامنٹ منعقد ہوا، لیکن سفر کے اخراجات اور سیاسی تنازعات کی وجہ سے کئی ممالک نے شرکت سے گریز کیا۔ اس دور میں مالیاتی فوائد محدود اور نشریات کا دائرہ کار انتہائی مختصر تھا۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر
ارجنٹائن کے اسٹار لیونل میسی قطر میں 2022 ورلڈ کپ جیتنے کا جشن منا رہے ہیں (فوٹو: رائٹرز)

میکسیکو 1970 اور نشریاتی انقلاب

میکسیکو 1970 کا ورلڈ کپ فٹبال کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جہاں رنگین ٹیلی ویژن نشریات نے کھیل کو عالمی سطح پر مقبول بنایا۔

ایڈیڈاس کی مشہور ’ٹیلسٹار‘ گیند کا متعارف ہونا اور تجارتی اسپانسرز کی شمولیت نے یہ واضح کر دیا کہ فٹ بال اب ایک بڑی کاروباری صنعت بننے کے لیے تیار ہے۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر

تجارتی دور کا آغاز: 1974 تا 1990

1974 میں جواو ہیولینج کے صدر بننے کے بعد فیفا نے ایک کاروباری ماڈل اپنایا۔

کوکا کولا جیسے بڑے برانڈز کو بطور اسپانسر شامل کیا گیا اور 1982 میں ’آئی ایس ایل‘ (ISL) کمپنی کے قیام نے مارکیٹنگ اور نشریاتی حقوق کو یکجا کر دیا۔ اس دور میں فیفا کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوا۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر
ارجنٹینا کے کپتان ڈیاگو میراڈونا ورلڈ کپ ٹرافی اٹھا رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

عالمی منڈیوں میں پیش قدمی: 1994 تا 2006

1994 میں امریکہ میں منعقدہ ٹورنامنٹ نے فیفا کو دنیا کی سب سے بڑی صارف منڈی تک رسائی دی۔

1998 میں ٹیموں کی تعداد 32 ہونے سے مقابلوں کی تعداد بڑھی اور آمدنی میں اضافہ ہوا۔ 2002 میں ایشیائی منڈیوں (جاپان اور کوریا) میں داخلے نے فیفا کے مالیاتی ذخائر کو پہلی بار ایک ارب ڈالر کی سطح پر پہنچایا۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر
میکسیکو میں 1970 کے ورلڈ کپ میں برازیل بمقابلہ اٹلی میچ (فوٹو: فرانسیسی ایجنسی)

ڈیجیٹل دور اور قطر 2022 کی کامیابی

2010 کے جنوبی افریقہ ورلڈ کپ سے لے کر قطر 2022 تک فیفا نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے ذریعے اربوں لوگوں تک رسائی حاصل کی۔

قطر ورلڈ کپ اب تک کا سب سے منافع بخش ٹورنامنٹ ثابت ہوا، جہاں 3.4 ملین شائقین نے شرکت کی اور آمدنی 5.77 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر
فرانس میں 1998 کے ورلڈ کپ میں برازیل بمقابلہ اسکاٹ لینڈ میچ (فوٹو: الجزیرہ)

ورلڈ کپ 2026: نئے چیلنجز اور ٹیکنالوجی

امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والا 2026 کا ٹورنامنٹ 48 ٹیموں اور 104 میچوں پر مشتمل ہوگا۔ فیفا کا ہدف اس دورانیے میں 13 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کرنا ہے۔

اس میں ’لینووو‘ کے ساتھ شراکت داری اور مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کھلاڑیوں کی کارکردگی اور نشریات کے معیار کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر
1974 کے ورلڈ کپ میں نیدرلینڈز بمقابلہ مغربی جرمنی میچ (فوٹو: الجزیرہ)

تنقید اور شفافیت کا سفر

فیفا کو طویل عرصے سے کمرشل ازم اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا رہا ہے، تاہم فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا 70 سے 80 فیصد حصہ کھیل کی ترقی پر خرچ کرتی ہے۔

حالیہ تنازعات میں 2026 کے ٹکٹوں کی بلند قیمتیں بھی اہم طور پر شامل ہیں، جن پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ، نشریاتی انقلاب اور اربوں ڈالر کی تجارتی سلطنت کا سفر
جرمن اسٹار اور کوچ فرانز بیکن باؤر ورلڈ کپ ٹرافی اٹھا رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

فیفا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں کھیلوں کا مقابلہ ٹیکنالوجی اور کمرشل مفادات سے جڑ چکا ہے۔

اگرچہ یہ تنظیم مالی طور پر مستحکم ہو چکی ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ وہ کس حد تک کھیل کی شفافیت اور شائقین کی پہنچ کو برقرار رکھ پاتی ہے۔