ایک صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا سام سنگ Galaxy S25 FE فون رات کے وقت چارجنگ کے دوران پھٹ گیا، جس سے اسے معمولی چوٹیں آئیں اور سونے کے کمرے کو نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق فون ایک غیر سام سنگ 20 واٹ چارجر سے منسلک تھا جبکہ اصل سام سنگ کیبل استعمال کی جا رہی تھی۔
یہ 2026 میں سام سنگ ڈیوائسز سے منسلک تیسرا مبینہ بیٹری حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسمارٹ فون بیٹریوں کی حفاظت کے حوالے سے نئی رپورٹس نے تشویش پیدا کر دی ہے، جب ایک Galaxy S25 FE صارف نے دعویٰ کیا کہ اس کا فون رات کے وقت چارجنگ کے دوران پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں سونے کے کمرے میں نقصان پہنچا اور معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں۔
یہ واقعہ 2026 کے دوران سام سنگ ڈیوائسز سے منسلک تیسرا ایسا مبینہ حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔
صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ریڈٹ‘ پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ وہ رات کے وقت پٹاخوں جیسی مسلسل آوازوں سے بیدار ہوا، جس کے بعد اسے معلوم ہوا کہ اس کے بستر کے قریب رکھا فون مبینہ طور پر ’تھرمل رن اوے‘ نامی خطرناک کیفیت کا شکار ہو گیا تھا، جس میں بیٹری کا درجہ حرارت بے قابو ہو کر تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
معمولی زخمی، کمرے کو نقصان
فون کے مالک کے مطابق ڈیوائس ایک 20 واٹ USB-PD چارجر سے منسلک تھی جو سام سنگ کا نہیں تھا، تاہم استعمال ہونے والی کیبل فون کے ساتھ فراہم کی گئی اصل سام سنگ کیبل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ چارجنگ کے دوران فون Leather Case میں رکھا ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فون ان کے اور ان کے 8 سالہ بیٹے کے سونے کی جگہ کے قریب موجود تھا۔
صارف کا کہنا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں اس کی گردن معمولی جھلس گئی اور بالوں کا ایک حصہ بھی جل گیا، جبکہ دھواں پورے کمرے میں پھیل گیا، جس کے باعث فائر بریگیڈ کو طلب کرنا پڑا۔
سام سنگ نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
کیا چارجر یا کور وجہ بنے؟
واقعے کے بعد چارجنگ کے طریقہ کار پر سوشل میڈیا پر وسیع بحث شروع ہوگئی۔
بعض صارفین نے اندازہ لگایا کہ چرمی کور یا فون کا بستر پر رکھا ہونا حرارت کے جمع ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
تاہم جدید اسمارٹ فونز میں متعدد درجہ حرارت سینسرز اور حفاظتی نظام نصب ہوتے ہیں، جو چارجنگ کے دوران بیٹری اور اندرونی پرزوں کے درجہ حرارت کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔
عام حالات میں اگر درجہ حرارت محفوظ حد سے تجاوز کر جائے تو یہ نظام خودکار طور پر چارجنگ کی رفتار کم کر دیتے ہیں یا مکمل طور پر بند کر دیتے ہیں، اسی لیے اس نوعیت کے واقعات نسبتاً نایاب سمجھے جاتے ہیں۔
رواں سال کا تیسرا واقعہ
اس واقعے کو مزید اہم اس لیے سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ رواں سال سامنے آنے والا پہلا کیس نہیں۔
اس سے قبل بھی Galaxy S25 Plus اور Galaxy S24 کے بارے میں ایسی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں بیٹری سے متعلق سنگین خرابیوں اور غیر معمولی حد تک گرم ہونے کے واقعات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
اسی سال Galaxy Buds FE ایئربڈز کے حوالے سے بھی ایک واقعہ رپورٹ ہوا تھا، جس میں ایک صارف نے دعویٰ کیا تھا کہ ایئربڈ پہننے کے دوران پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں اسے مستقل سماعتی نقصان پہنچا۔
Note 7 بحران کی یاد تازہ
یہ واقعات سام سنگ کے لیے ایک حساس چیلنج بن سکتے ہیں، کیونکہ کمپنی کو اب بھی 2016 کے مشہور Galaxy Note 7 بحران کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، جب بیٹری کے مسائل کے باعث دنیا بھر سے لاکھوں فون واپس منگوانے پڑے تھے۔
اس بحران کے بعد سام سنگ نے بیٹری ٹیسٹنگ کے طریقہ کار کو مزید سخت بنایا اور حفاظتی معیارات میں نمایاں اضافہ کیا تاکہ صارفین کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
تکنیکی تحقیقات کی ضرورت
فی الحال اس بات کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں کہ حالیہ واقعے کی اصل وجہ کیا تھی۔ دستیاب معلومات بنیادی طور پر صارف کے بیان اور انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی تصاویر پر مبنی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ جاننے کے لیے کہ آیا واقعہ بیٹری کی پیداواری خرابی، غیر معمولی استعمال یا کسی بیرونی عنصر کا نتیجہ تھا، تفصیلی تکنیکی تحقیقات اور کمپنی کی جانب سے باضابطہ جانچ ضروری ہوگی۔