روس اور طالبان حکومت نے فوجی و تکنیکی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے دونوں فریقوں کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
معاہدہ طالبان کو روسی فوجی سازوسامان، تربیتی پروگراموں اور تکنیکی تعاون تک رسائی فراہم کر سکتا ہے، جبکہ فضائی دفاعی نظاموں کی فراہمی پر بھی بات چیت کی اطلاعات ہیں۔
روس اور طالبان حکومت نے گزشتہ ہفتے طالبان کے وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب مجاہد کے ماسکو دورے کے دوران فوجی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔
یہ پیش رفت دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے، جہاں سیاسی قربت اب براہِ راست دفاعی تعاون میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یہ معاہدہ ماسکو میں منعقدہ بین الاقوامی سکیورٹی فورم کے موقع پر روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو اور طالبان کے وزیر دفاع کی موجودگی میں طے پایا تاہم اس کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔
Moscow and Taliban Sign Military Cooperation Deal
The agreement marks a shift from political engagement to direct military and technical cooperation.
Military Agreement
Russia and the Taliban government signed a military and technical cooperation agreement in Moscow.
Legal Framework
The deal may allow Kabul to purchase Russian military equipment and receive technical training.
Air Defense Focus
Air defense systems were reportedly discussed, though immediate deliveries remain uncertain.
Key Takeaways
Technical Support
The agreement opens the door to military-technical cooperation.
Training Programs
Specialized training for Afghan forces could be part of future cooperation.
Regional Stability
The Taliban says Afghan territory will not be used against any country.
No NATO Return
Moscow rejects any renewed U.S. or NATO military presence in Afghanistan.
What Is at Stake?
Defense Capabilities
The Taliban is seeking to build a more professional defense system.
Possible Equipment Deals
Future deals may include ground-force equipment, training, or advanced systems.
Security Concerns
Russia remains concerned about militancy, arms smuggling, and drug trafficking.
Diplomatic Recognition
The deal follows Russia’s formal recognition of the Taliban government.
Main Drivers Behind the Deal
قانونی فریم ورک
افغان وزارت دفاع کے ایک ذریعے کے مطابق، یہ معاہدہ طالبان حکومت کو روس سے فوجی سازوسامان خریدنے، تکنیکی تعاون حاصل کرنے اور تربیتی پروگراموں میں شرکت کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ذریعے نے بتایا کہ فوری طور پر فضائی دفاعی نظاموں کی فراہمی کی بات کرنا قبل از وقت ہے، تاہم یہ معاہدہ مستقبل میں وسیع تر دفاعی تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے۔
دوسری جانب بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں طالبان کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ زمینی افواج کے لیے جدید سازوسامان اور خصوصی تربیتی پروگراموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فضائی دفاع میں دلچسپی
سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے مولوی محمد یعقوب مجاہد نے کہا کہ افغانستان ’پیشہ ور دفاعی نظام‘ قائم کرنا چاہتا ہے جو ملک کے تحفظ اور خطے کے استحکام میں کردار ادا کر سکے۔
طالبان کی جانب سے فضائی دفاعی نظاموں میں دلچسپی اس وقت بڑھ گئی جب فروری میں پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور جھڑپوں نے افغان فضائی حدود کے دفاع میں موجود کمزوریوں کو نمایاں کر دیا۔
2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان اب تک کوئی جامع فضائی دفاعی نظام قائم نہیں کر سکے ہیں۔
ماسکو کے تحفظات
روس بدستور افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔
سرگئی شوئیگو نے کہا کہ منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں خطے کے لیے اہم خطرات ہیں۔
انہوں نے افغانستان یا اس کے پڑوسی علاقوں میں امریکی یا نیٹو فوجی ڈھانچے کی ممکنہ واپسی کی بھی مخالفت دہرائی۔
تعلقات میں تیزی سے بہتری
یہ معاہدہ روس اور طالبان کے درمیان تیزی سے بڑھتے تعلقات کا تسلسل ہے۔
روس نے اپریل 2025 میں طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کیا تھا، جبکہ جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بھی بن گیا تھا۔
اگرچہ ماسکو کا مؤقف ہے کہ طالبان کے ساتھ روابط کا مقصد دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانا ہے، تاہم طالبان اس تعلق کو بین الاقوامی تنہائی ختم کرنے اور نئے عسکری و تربیتی وسائل حاصل کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اس تناظر میں حالیہ فوجی معاہدہ دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔