اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

جدیدیت کا چور جو آپ کی جیب نہیں، شعور لُوٹتا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جدیدیت کا چور اور انسانی شعور کی مصنوعی غلامی کا علامتی منظر
موجودہ دور کی ’جدیدیت‘ نے ایک ایسے چور کو جنم دیا ہے جو روایتی چوروں سے بالکل مختلف ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

تاریخ میں چور کی ایک روایتی تصویر ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ یعنی وہ شخص جو اندھیرے میں دبے پاؤں آتا ہے، قیمتی سامان اٹھاتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

ادب اور فلموں نے ہمیں ’نوبل تھیف‘ یعنی شریف چور (جیسے آرسین لوپین) کا تصور دیا جو ایک خاص اخلاقیات کے ساتھ لوٹ مار کرتا ہے۔ 

موجودہ دور کی ’جدیدیت‘ نے ایک ایسے چور کو جنم دیا ہے جو روایتی چوروں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ ہے ’پراسرار چور‘ (Ghost Thief)۔ 

یہ چور آپ کی تجوری نہیں، آپ کی روح، آپ کی خواہشات اور آپ کی زندگی لوٹتا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ آپ نہ صرف اسے خود 

دعوت دیتے ہیں بلکہ اس کی لوٹ مار پر خوش بھی ہوتے ہیں۔

یہ چور غائب نہیں ہوتا، آپ کا حصہ بن جاتا ہے

روایتی چور کام مکمل کر کے چلا جاتا ہے، لیکن یہ’پراسرار چور‘آپ کے درمیان ہی رہتا ہے۔

یہ مغربی سرمایہ دارانہ ماڈرنزم کی پیداوار ہے جو ایک ایسے شارک  کی طرح ہے جسے مسلسل تیرنا پڑتا ہے ورنہ وہ دم توڑ دے گا۔ 

یہ آپ کی زندگی کی رگوں میں خون کی طرح شامل ہو چکا ہے اور اب یہ ہماری ثقافتی، معاشی اور سماجی شناخت کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ 

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کیسے دوسرے کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنا ہے اور ہم خود بھی اس ’جدید چکا چوند‘ کی غنودگی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم لُٹ رہے ہیں۔

جدیدیت کا چور اور انسانی شعور کی مصنوعی غلامی کا علامتی منظر
حیران کن بات یہ ہے کہ آپ نہ صرف اسے خود دعوت دیتے ہیں بلکہ اس کی لوٹ مار پر خوش بھی ہوتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

’چیز‘ نہیں، ’خواب‘ کی قیمت وصولی

اس چور کی سب سے بڑی مہارت ’شکل‘ (Form) بیچنا ہے۔

سڑک کے کنارے وہی پانی کی بوتل جو آپ کو 3 روپے میں ملتی ہے، فائیو اسٹار ہوٹل میں 50 روپے کی ہو جاتی ہے۔ آپ یہاں صرف پانی نہیں خرید رہے، آپ وہ ’خواب‘ خرید رہے ہیں جو آپ کو دکھایا گیا ہے۔

وہ عالی شان عمارت، وہ خوش اخلاق عملہ، وہ چکا چوند ماحول۔ جدید پرائیویٹ یونیورسٹیاں اور بڑے بڑے ’مالز‘  (Malls) اسی پالیسی پر چلتے ہیں۔ 

انہوں نے محلے کے اس چھوٹے دکاندار کو ختم کر دیا ہے، جو آپ کے ساتھ ہمدردی رکھتا تھا اور اس کی جگہ ایک ایسے مشینی نظام نے لے لی ہے جہاں انسانی تعلقات کی کوئی جگہ نہیں۔

انسان بطور ’مشین‘ یا ’اے ٹی ایم‘

جدیدیت نے انسان کو ایک ایسی ہستی بنا دیا ہے جس کی خواہشات کی کوئی حد نہیں ہے۔

اب انسان، انسان نہیں، ایک  اے ٹی ایم  ہے، جسے زندگی بھر کھلا رہنا ہے۔ 

اس نے ہمیں ’ٹیکنالوجیکل ہم آہنگی‘ کے نام پر ایک ایسی مشین بنا دیا ہے جس کا کام صرف معاشی پیداوار اور کھپت (Consumption) ہے۔ 

ہمارے جذبات، ہماری روح، حتیٰ کہ ہمارے روحانی اعمال بھی اب ’ذاتی بہتری‘  (Self-improvement) کے نام پر بکنے والی اشیا بن چکے ہیں۔

جدیدیت کا چور اور انسانی شعور کی مصنوعی غلامی کا علامتی منظر
روایتی چور کام مکمل کر کے چلا جاتا ہے، لیکن یہ’پراسرار چور‘آپ کے درمیان ہی رہتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

حقیقت کا فریب اور نتائج

امریکی مذہبی پیشوا فادر اسٹیفن فریمن کا کہنا ہے کہ جدیدیت کے حق میں دیے جانے والے تمام دلائل دراصل گمراہ کن ہیں۔

جدیدیت صرف نتائج (مثلاً وافر اشیاء کی دستیابی) پر توجہ مرکوز کرتی ہے، لیکن اس کے بھیانک نتائج کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ 

کیا آپ جانتے ہیں کہ جدیدیت کے ان 200 سالوں نے تدفین کے اخراجات اتنے بڑھا دیے ہیں کہ اب دنیا بھر میں ’لاشوں کو جلانا‘سب سے سستا اور عام طریقہ بنتا جا رہا ہے؟ یہ اسی چکا چوند کا ایک تاریک رُخ ہے۔

کیا ہم اب بھی لُٹ رہے ہیں؟

’پراسرار چور‘کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ حقیقت کو مسخ کر دیتا ہے۔ وہ آپ کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرتا ہے تاکہ آپ اس کے بنائے ہوئے مہنگے اور چمکدار ’خوابوں‘ کے پیچھے بھاگتے رہیں۔

جب انسان اپنی فطری ذہانت اور خواہشات سے کٹ کر ایک مشینی نظام کا حصہ بن جاتا ہے، تو اس کا درد بھی ایک ’منافع‘ (Profit) میں بدل دیا جاتا ہے۔

الجزیرہ پر شائع محمود سلطان کا یہ تجزیہ ہمیں ایک لمحہ فکر دیتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا ہم ایک ایسے ’پراسرار چور‘کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں جو ہماری انسانیت، ہمارے رشتوں اور ہماری سکون والی زندگی کو مسلسل لوٹ رہا ہے؟