مناسکِ حج مکمل کرنے کے بعد جلد روانہ ہونے والے حجاجِ کرام نے طوافِ وداع کی ادائیگی کے لیے مسجد الحرام کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی ان کے روحانی سفر کے اختتام کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔
اس موقع پر حرمین شریفین انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کے تعاون سے وسیع آپریشنل اور انتظامی تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں تاکہ حجاج کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ہجوم کے نظم و نسق کے لیے جامع منصوبے
انتظامیہ طوافِ وداع کے دوران حجاج کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے اپنے آپریشنل منصوبوں پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا گیا ہے جو مسجد الحرام اور اس کے صحنوں میں ہجوم کے مؤثر انتظام اور آمدورفت کی روانی کو یقینی بناتا ہے، تاکہ حجاج آسانی اور اطمینان کے ساتھ اپنا آخری نسک ادا کر سکیں۔
انتظامات کے تحت میدان میں تعینات خصوصی ٹیمیں راہداریوں، صحنوں اور داخلی راستوں پر موجود ہیں، جو حجاج کی رہنمائی، سوالات کے جوابات اور طواف و سعی کے لیے مختص راستوں کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
اس سے مطاف اور مسعی تک رسائی آسان بنانے اور ہجوم کی منظم نقل و حرکت میں مدد مل رہی ہے۔
علاوہ ازیں طواف اور سعی کے راستوں پر متعدد زبانوں میں رہنمائی بورڈ نصب کیے گئے ہیں، جبکہ خصوصی رہنمائی ٹیمیں حجاج کی نقل و حرکت کو سہل بنانے میں مصروف ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مناسک کی تکمیل کے بعد بڑی تعداد میں حجاج اپنے وطنوں کو واپس روانہ ہو رہے ہیں۔
چوبیس گھنٹے صفائی اور جراثیم کشی کا عمل
انتظامیہ مسجد الحرام اور اس کے صحنوں میں صفائی اور جراثیم کشی کا عمل 24 گھنٹے جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس مقصد کے لیے خصوصی ٹیمیں نماز کی جگہوں، راہداریوں اور مختلف مقامات کی مسلسل دیکھ بھال کر رہی ہیں تاکہ طوافِ وداع کے دوران بڑھتی ہوئی تعداد میں حجاج کے استقبال کے لیے تمام مقامات مکمل طور پر تیار رہیں۔
اسی طرح مسجد الحرام کے مختلف اہم مقامات پر آبِ زمزم کی فراہمی کے متعدد مراکز اور واٹر پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
بزرگوں، خصوصی افراد اور مدد کے محتاج حجاج کے لیے برقی اور دستی گاڑیوں کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ آرام اور سہولت کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
حجاج کی وطن واپسی کی تیاریاں
یہ تمام اقدامات حجاج کرام کی خدمت کے لیے ترتیب دی گئی جامع آپریشنل اور انتظامی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد حجاج کو طوافِ وداع محفوظ، منظم اور آسان ماحول میں ادا کروانا ہے، تاکہ وہ مناسکِ حج کی تکمیل کے بعد اطمینان کے ساتھ اپنے وطنوں کو واپس لوٹ سکیں۔