اہم خبریں
27 May, 2026
--:--:--

ایپل کی یہ 4 مصنوعات استعمال شدہ خریدنا نقصان کا سودا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایپل کی مصنوعات اور سیکنڈ ہینڈ خریداری کے نقصانات کی علامتی تصویر
ایپل کی مصنوعات اپنی پریمیم کوالٹی، جدید سافٹ ویئر اور دیرپا کارکردگی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایپل کی مصنوعات اپنی پریمیم کوالٹی، جدید سافٹ ویئر اور دیرپا کارکردگی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

مزید پڑھیں

اگرچہ ان کی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن ان کا معیار انہیں ایک بہترین سرمایہ کاری ثابت کرتا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ بہت سے صارفین پیسے بچانے کی خاطر استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ) ڈیوائسز کی تلاش میں رہتے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی ماہرین اور بی جی آر (BGR) کی رپورٹ کے مطابق ایپل کی ہر چیز سیکنڈ ہینڈ خریدنے کے قابل نہیں ہوتی۔ 

تحقیق کے مطابق کچھ ڈیوائسز ایسی ہیں جنہیں استعمال شدہ حالت میں خریدنا آپ کے لیے دردِ سر بن سکتا ہے۔

1۔ ایئر پوڈز (AirPods): بیٹری کی نامعلوم عمر

ایپل کی مصنوعات اور سیکنڈ ہینڈ خریداری کے نقصانات کی علامتی تصویر
آپ ایپل کی استعمال شدہ ڈیوائس خرید کر بہت زیادہ رقم نہیں بچا پاتے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایپل کے ایئر پوڈز مارکیٹ میں دستیاب بہترین وائرلیس ایئربڈز میں سے ایک ہیں، لیکن ان کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ ان کی بیٹری ہے۔

ایپل کسی بھی سافٹویئر کے ذریعے ایئرپوڈز کی بیٹری کی موجودہ صحت (Battery Health) چیک کرنے کی سہولت نہیں دیتا۔ یعنی آپ کو معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ پچھلے مالک نے انہیں کتنی شدت سے استعمال کیا ہے۔

اگر آپ سیکنڈ ہینڈ ایئر پوڈز خریدتے ہیں اور ان کی بیٹری خراب نکلتی ہے، تو بیٹری تبدیل کروانے کی لاگت (تقریباً 49 ڈالر) قیمتِ خرید کے ساتھ ملا کر آپ کو تقریباً نئے ایئر پوڈز جتنی ہی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ 

لہذا ایپل کی مصنوعات میں معمولی بچت کے لیے اتنی بڑی کوفت مول لینا دانشمندی نہیں ہے۔

2۔ ایپل واچ (Apple Watch): اسکریچز اور ٹوٹ پھوٹ

ایپل کی مصنوعات اور سیکنڈ ہینڈ خریداری کے نقصانات کی علامتی تصویر
ماہرین کے مطابق ایپل کی ہر چیز سیکنڈ ہینڈ خریدنے کے قابل نہیں ہوتی (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایپل واچ ایک ایسا گیجٹ ہے جسے صارف ہر وقت اپنے ہاتھ پر باندھے رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ بہت جلد ٹوٹ پھوٹ اور اسکریچز کا شکار ہو جاتی ہے۔

چونکہ زیادہ تر لوگ اس پر اسکرین پروٹیکٹر نہیں لگاتے، اس لیے سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں بہترین حالت میں ایپل واچ تلاش کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

اس کے علاوہ ایپل واچ کی بیٹری بھی روزانہ چارجنگ کی وجہ سے وقت کے ساتھ تیزی سے کمزور ہوتی ہے۔ 

بیٹری تبدیل کروانے کا خرچہ تقریباً 99 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں ایک نئی، وارنٹی والی اور مکمل بیٹری والی ایپل واچ خریدنا طویل مدت میں زیادہ فائدہ مند سودا ہے۔

3۔ ایپل پینسل (Apple Pencil): ناقابلِ مرمت اور ناقابلِ اعتبار

ایپل کی مصنوعات اور سیکنڈ ہینڈ خریداری کے نقصانات کی علامتی تصویر
کچھ ڈیوائسز ایسی ہیں جنہیں استعمال شدہ حالت میں خریدنا آپ کے لیے دردِ سر بن سکتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ایپل پینسل خریدنے کا ارادہ رکھنے والوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ نئی خریدیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر ایک چھوٹی بیٹری ہوتی ہے جس کی عمر کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

دوسری اہم بات اس کا ناقابل مرمت (رپیئر)  ہونا ہے۔ یعنی ایپل پینسل اتنی پیچیدہ ہے کہ اگر یہ خراب ہو جائے تو اسے مرمت کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ 

ایپل اپنی سروس اور ریپیئر کی معلومات میں بھی اسے شامل نہیں کرتا۔ 

اگر آپ نے ایک سیکنڈ ہینڈ پینسل خریدی جو خراب نکلی، تو وہ آپ کے لیے صرف ایک بیکار پلاسٹک کا ٹکڑا بن کر رہ جائے گی۔ یہی اصول ’میجک کی بورڈ‘ اور ’میجک ماؤس‘ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

4۔ انٹیل (Intel) پروسیسر والے میک بک: جدید تقاضوں سے پیچھے

ایپل کی مصنوعات اور سیکنڈ ہینڈ خریداری کے نقصانات کی علامتی تصویر
معمولی بچت کے لیے اتنی بڑی کوفت مول لینا دانشمندی نہیں ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

2020ء سے ایپل نے اپنے لیپ ٹاپس میں ’ایم سیریز‘ (M-series) کے پروسیسر استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں اب بھی انٹیل پروسیسر والے میک بک بہت کم قیمت پر مل جاتے ہیں، جو بظاہر بہت پرکشش لگتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ انٹیل والے میک بک اب پرانے ہو چکے ہیں۔ 

ایپل کے نئے ایم سیریز (M1, M2, M3) پروسیسر انٹیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور، تیز، توانائی کی بچت کرنے والے اور پرسکون ہیں۔ 

انٹیل والے میک بک خریدنا ایک ایسی پرانی ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری ہے جو نہ صرف کارکردگی میں پیچھے ہے بلکہ سافٹ ویئر اپڈیٹس کے حوالے سے بھی جلد ہی متروک ہو سکتی ہے۔ 

اس کے بجائے تھوڑی سی اضافی رقم لگا کر ’ایم سیریز‘ والا سیکنڈ ہینڈ میک بک خریدنا کہیں زیادہ عقلمندی ہے۔

ایپل کی مصنوعات کی ری سیل ویلیو (Resale Value) بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ آپ استعمال شدہ ڈیوائس خرید کر بہت زیادہ رقم نہیں بچا پاتے۔ 

جب آپ سیکنڈ ہینڈ ڈیوائس خریدتے ہیں تو آپ وارنٹی، بیٹری کی تسلی اور ڈیوائس کی طویل زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ 

لہذا ایپل کی مذکورہ بالا مصنوعات کے معاملے میں تھوڑے سے اضافی پیسے خرچ کر کے نیا  خریدنا ہی آپ کے ذہنی سکون اور مالی بچت کا بہترین راستہ ہے۔

ایپل کی مصنوعات اور سیکنڈ ہینڈ خریداری کے نقصانات کی علامتی تصویر
صارفین پیسے بچانے کی خاطر استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ) ڈیوائسز کی تلاش میں رہتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)