اہم خبریں
28 May, 2026
--:--:--

مصر: سوشل میڈیا پر وائرل تصویر، حقیقت کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مصر وائرل تصویر حقیقت
تصویر کو سوشل میڈیا پر گمراہ کن انداز میں استعمال کیا گیا

مصر کی وزارت داخلہ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی ایک پوسٹ کی حقیقت واضح کر دی، جس میں ایک پل پر لٹکے ہوئے کپڑوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسماعیلیہ شہر میں متعلقہ حکام نے ایک غیر ملکی خاندان کو مذکورہ پل کے نیچے سے بے دخل کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ نے جاری اپنے بیان میں کہا کہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے بے بنیاد اور غلط ہیں۔

بیان کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ زیر گردش تصویر دراصل 20 مئی کو ایک افریقی ملک میں پہلے ہی شیئر کی جا چکی تھی اور اس کا مصر یا اسماعیلیہ سے کوئی تعلق نہیں۔

وزارت نے مزید کہا کہ اس تصویر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن انداز میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا، جس کا مقصد عوام میں بے چینی پیدا کرنا اور غلط معلومات پھیلانا تھا، جس کے باعث متعلقہ اداروں نے فوری تحقیقات کر کے حقیقت عوام کے سامنے رکھ دی۔

دعویٰ کیا گیا کہ
اسماعیلیہ میں
غیر ملکی خاندان کو
پل کے نیچے سے
بے دخل کیا گیا

وزارت داخلہ نے زور دے کر کہا کہ سکیورٹی ادارے مسلسل الیکٹرانک پلیٹ فارمز پر شائع اور گردش کرنے والے مواد کی نگرانی کرتے ہیں، خاص طور پر ایسی پوسٹس کی جن میں غلط معلومات، افواہیں یا عوامی رائے کو متاثر کرنے والی بے بنیاد باتیں شامل ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان دعوؤں کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ جھوٹی خبروں، گمراہ کن معلومات اور بے بنیاد تصاویر کے ذریعے معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کا سدباب کیا جا سکے۔
وزارت داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ معلومات کی تصدیق کے بغیر افواہوں پر یقین نہ کریں اور نہ ہی نامعلوم ذرائع سے آنے والے مواد کو دوبارہ شیئر کریں، بلکہ درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔
وزارت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ جھوٹی خبروں اور من گھڑت معلومات کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، اور سوشل میڈیا کے ذریعے غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔