امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہلت آخری ہے اور تہران کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو ایران کے توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو مکمل تباہ کر دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو مزید مواقع دے چکے ہیں، اب تہران کو درست فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ بندی کا خواہش مند ہے کیونکہ اسے
شدید عسکری دباؤ اور تباہی کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے سابقہ ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران ماضی کے مقابلے میں کچھ زیادہ معقول ہیں اور نیک نیتی سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے ہتھیار نہ ڈالے تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور دوبارہ تعمیر میں اسے 15 سال لگ جائیں گے۔
امریکی صدر نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے سوال پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے اپنے دفاع کا حصہ قرار دیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے تیل کے ذخائر کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے خواہشمند تھے تاکہ وہاں کے عوام کی مدد کی جا سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام وہاں کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لیے ہتھیاروں کے منتظر ہیں۔
امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ امریکی عوام اپنے فوجیوں کی وطن واپسی چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مشن کی تکمیل اور ایران پر مکمل فتح حاصل کیے بغیر امریکی فوج واپس نہیں آئے گی اور کارروائیاں جاری رہیں گی۔