براہ راست نشریات

یمن نے مالی جنگ چھیڑ دی: حوثیوں کی اربوں ڈالر کی آمدن بند؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
یمن کی مالی جنگ اور حوثیوں کے مالی وسائل پر پابندیوں کی صورتحال
فہرست میں 129 افراد کے علاوہ ایک تجارتی کمپنی اور 5 تیل بردار جہاز بھی شامل ہیں
📊
فیکٹ باکس: حوثیوں کی مالی ناکہ بندی کے اہم حقائق
+
🏛️

مرکزی بینک کا اقدام

عدن میں قائم مرکزی بینک نے 20 اکتوبر 2026 کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے تمام بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو پابندی کی فہرست میں شامل اثاثے فوری منجمد کرنے کا پابند بنایا ہے۔

یمن کا پرچم یمن
👥

نشانے پر کون؟

پابندیوں کی اس نئی فہرست میں عسکری اور سیاسی قیادت سمیت 129 افراد، ایک تجارتی کمپنی اور 5 تیل بردار جہاز شامل ہیں جو مالیاتی نیٹ ورک چلاتے ہیں۔

🛢️

تیل کی تجارت اور آمدنی

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق حوثی غیر قانونی تیل کی فروخت سے سالانہ دو ارب ڈالر سے زیادہ کی بھاری آمدنی حاصل کرتے ہیں جسے روکنے کے لیے اب زمینی و بحری گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

امریکا کا پرچم امریکا
⚙️

اصل انتظامی چیلنج

یمن کا منقسم بینکاری نظام (عدن بمقابلہ صنعا) اس ناکہ بندی کے راستے میں سب سے بڑی عملی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے تمام غیر قانونی اثاثوں تک براہِ رسائی حاصل کرنا انتہائی پیچیدہ ہے۔

یمن میں جاری کشمکش اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا ایک اہم محاذ پیسے، تیل کی تجارت، بینک اکاؤنٹس اور بین الاقوامی مالیاتی رابطوں تک پھیل گیا ہے۔

مزید پڑھیں

یمنی حکومت نے حوثی باغیوں سے وابستہ افراد، تجارتی اداروں اور تیل بردار جہازوں کے خلاف نئے اقدامات کیے ہیں، جن کا مقصد اس گروہ کے مالی وسائل اور آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے، جب یمن کئی برس سے سیاسی تقسیم، معاشی بحران اور مختلف طاقتوں کی کشمکش کا شکار ہے۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ کیا مالیاتی پابندیاں حوثیوں کی سرگرمیوں کو واقعی 

محدود کر سکیں گی، یا یہ اقدام بھی پہلے کی کوششوں کی طرح کئی عملی رکاوٹوں میں الجھ کر رہ جائے گا؟

یمن نے مالی جنگ چھڑ دی: حوثیوں کے خلاف سخت پابندیاں

مرکزی بینک کی جانب سے حوثیوں کے مالیاتی اثاثے منجمد کرنے اور تیل کی تجارت محدود کرنے کے اقدامات۔

یمن حکومت نے 129 افراد، کمپنیوں اور تیل بردار جہازوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں تاکہ حوثیوں کی اربوں ڈالر کی سالانہ آمدنی کے ذرائع کو روکا جا سکے۔

👥 نشانے پر موجود افراد

129

عدن کے مرکزی بینک کے احکامات کے تحت پابندیوں کی فہرست میں 129 افراد، ایک تجارتی کمپنی اور 5 تیل بردار جہاز شامل ہیں۔

💰 حوثیوں کی سالانہ آمدنی

2

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق حوثی غیر قانونی تیل کی فروخت سے سالانہ 2 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

🏦 منقسم بینکاری نظام

2

عدن اور صنعا کے الگ انتظامی نظام اور منقسم بینکاری ڈھانچے کی وجہ سے ان مالیاتی پابندیوں کے نفاذ میں عملی رکاوٹیں حائل ہیں۔

🛡️ عام شہریوں کا تحفظ

حکومت کا مؤقف ہے کہ ہدف صرف غیر قانونی نیٹ ورکس ہیں، تاہم غیر واضح طریقۂ کار سے عام شہریوں اور ضروری اشیا کی درآمدات متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

📊 مالیاتی پابندیوں اور اہداف کے اہم اعداد و شمار
حوثیوں کی سالانہ تیل آمدنی
2 ارب ڈالر
فہرست میں شامل افراد
129 افراد
نشانہ بننے والے تیل بردار جہاز
5 جہاز

اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم

135 افراد، ادارے اور جہاز نشانے پر

یمن کے عارضی دارالحکومت عدن میں قائم مرکزی بینک نے 20 اکتوبر 2026 کو بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایت دی کہ وہ پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد، اداروں اور جہازوں سے متعلق مالی اثاثے منجمد کریں۔

احکامات کے مطابق ان کے ساتھ مالیاتی و تجارتی لین دین روک  دیا جائے۔ یہ کارروائی اٹارنی جنرل کے 19 اکتوبر کے فیصلے پر مبنی ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق فہرست میں 129 افراد کے علاوہ ایک تجارتی کمپنی اور 5 تیل بردار جہاز بھی شامل ہیں۔

💰
دو ارب ڈالر کا سوال: حوثیوں کی آمدنی کہاں سے آتی ہے؟
+
🛢️

غیر قانونی تیل کی تجارت

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق حوثی گروپ غیر قانونی تیل اور ایندھن کی فروخت سے سالانہ دو ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم کماتا ہے، جو ان کی عسکری سرگرمیوں کا بنیادی مالیاتی ایندھن ہے۔

🌐

بین الاقوامی تجارتی نیٹ ورکس

مختلف تجارتی کمپنیوں، بروکرز اور سمندری راستوں پر قائم کارگو نیٹ ورکس کے ذریعے سامان اور فنڈز کی ترسیل جاری رہتی ہے، جس میں بحیرہ احمر کی نقل و حرکت بھی جڑی ہوئی ہے۔

🏛️

ٹیکس، کسٹمز اور مقامی محصولات

صنعا اور زیرِ اثر علاقوں میں ٹیکسوں، کسٹمز ڈیوٹی، مواصلات اور تجارتی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی اندرونی آمدنی بھی ان کے مالی ڈھانچے کو مضبوط رکھتی ہے۔

ان میں حوثی قیادت سے وابستہ سیاسی، عسکری اور سکیورٹی شخصیات کے ساتھ مالیات، بینکاری، تیل، مواصلات، کسٹمز اور ٹیکس کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

مرکزی بینک نے متعلقہ اداروں کو 2 کاروباری دن میں عمل درآمد کے شواہد فراہم کرنے کا پابند بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہدایات میں نئے اکاؤنٹس کھولنے پر پابندی اور متعلقہ رقوم کی منتقلی کی نگرانی بھی شامل ہے۔

تیل کی آمدنی پر نظریں کیوں؟

حوثیوں کے مالی وسائل میں تیل کی تجارت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے 16 جنوری 2026 کو دعویٰ کیا تھا کہ حوثی غیر قانونی تیل کی فروخت سے سالانہ 2 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

اسی کارروائی میں امریکہ نے 21 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کیں اور ایک جہاز کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ 

🛡️
مالی جنگ کے اہم نکات: حوثیوں کے گرد گھیرا کیسے تنگ ہوگا؟
+
1

اثاثے منجمد کرنا

عدن کے مرکزی بینک کی جانب سے 129 افراد، تجارتی اداروں اور تیل بردار جہازوں کے مالی اثاثے فوری طور پر منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

2

کاروباری راستے روکنا

صرف افراد کے اکاؤنٹس نہیں بلکہ تیل کی خرید و فروخت، ٹرانسپورٹ اور تجارتی کمپنیوں کے مالیاتی چینلز کو بند کرنے کے لیے سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

3

بین الاقوامی تعاون

بیرونِ ملک موجود اثاثوں تک رسائی اور غیر قانونی ترسیلات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور اتحادی ممالک کے تعاون کی توقع کی جارہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق تیل کی خرید و فروخت، مالیاتی خدمات اور تجارتی کمپنیوں کے ذریعے حوثیوں کے لیے رقم اور سامان کی فراہمی کے راستے قائم ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ واشنگٹن ان نیٹ ورکس کو ایران سے منسلک مالی معاونت اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ 

یمنی حکومت کی نئی کارروائی میں ایک تجارتی کمپنی اور 5 تیل بردار جہازوں کو شامل کرنا بھی اسی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

یعنی صرف افراد کے بینک اکاؤنٹس نہیں، بلکہ وہ کاروباری راستے بھی محدود کیے جائیں جن کے ذریعے رقم اور تیل کی تجارت ہوتی ہے۔

🇸🇦
سعودی عرب اور خلیج پر اس فیصلے کے کیا اثرات ہوں گے؟
+
🛡️

سرحدی سلامتی اور استحکام

یمن میں جاری عدم استحکام براہِ راست سعودی عرب کی سرحدی سلامتی اور خطے کے امن پر اثرانداز ہوتا ہے، اس لیے مالیاتی دباؤ کو سکیورٹی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

سعودی عرب کا پرچم سعودی عرب
🚢

بحیرہ احمر کی جہاز رانی

بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے تناظر میں حوثیوں کے مالی وسائل کو کمزور کرنا علاقائی بحری تجارت اور سپلائی لائنز کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری مانا جا رہا ہے۔

اصل رکاوٹ یمن کا منقسم بینکاری نظام

مالیاتی پابندیوں کی کامیابی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یمن کا تقسیم شدہ بینکاری نظام ہے۔

عدن میں قائم مرکزی بینک اور حوثیوں کے زیرِ انتظام صنعا کے مالیاتی ادارے الگ انتظامی اور پالیسی نظاموں کے تحت کام کرتے ہیں۔ 

اس تقسیم نے رقوم کی منتقلی، درآمدات کی ادائیگی اور مالیاتی نگرانی کو پہلے ہی پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ 

صنعا میں موجود تمام مالیاتی وسائل تک عدن کے حکام کی براہِ راست رسائی نہیں ہے۔

اسی طرح بیرونِ ملک موجود اثاثے منجمد کرنے کے لیے متعلقہ ممالک کے قوانین اور مالیاتی اداروں کے تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ 

🌐
عالمی نقطۂ نظر: امریکہ حوثیوں کے مالی نیٹ ورک کے پیچھے کیوں ہے؟
+
🔗

ایران سے وابستہ مالی معاونت

واشنگٹن ان نیٹ ورکس کو ایران سے منسلک مالی معاونت کے تناظر میں دیکھتا ہے، جہاں تجارتی کمپنیوں اور بینکوں کے ذریعے حوثیوں کو عسکری و مالی وسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔

امریکا کا پرچم امریکا
⚡

عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ حوثیوں کے مالی اور تجارتی نیٹ ورکس کو محدود کرنے سے ان کی جنگی سازوسامان خریدنے اور حملے جاری رکھنے کی صلاحیت براہِ راست متاثر ہوگی۔

یعنی کسی شخص کا نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دینا اور اس کے تمام مالی وسائل تک پہنچ جانا دو مختلف معاملات ہیں۔

یمن میں بینکاری کے بحران پر ہونے والی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ جنگ نے درآمدات کی مالی معاونت کو مہنگا، مشکل اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ 

اس لیے نئی پابندیوں کے اثرات کا انحصار صرف فیصلے پر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ متعلقہ ادارے ان پر کس حد تک عمل کراتے ہیں۔ 

کیا حوثی متبادل راستے نکال سکتے ہیں؟

مالیاتی پابندیوں کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ متعلقہ نیٹ ورکس بعض اوقات نئی کمپنیوں، واسطہ کاروں اور مختلف ذرائع سے رقوم کی منتقلی کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

👥
عام یمنی شہریوں پر پابندیوں کا کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
+
⚠️

ضروری اشیا کی درآمدات کا چیلنج

ملک پہلے ہی شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ خوراک، ادویات اور ایندھن جیسی بنیادی اشیا کی درآمد کے لیے مؤثر مالیاتی نظام درکار ہے تاکہ عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

🔍

بینکاری نظام میں غلط شناخت کا خطرہ

اگر بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے لیے واضح طریقہ کار یا اسکریننگ نہ ہوئی تو ایک جیسے ناموں یا غیر ضروری احتیاط کی وجہ سے جائز صارفین اور خاندانی ترسیلات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

یمنی ماہرین کے مطابق حوثیوں سے وابستہ کاروباری نیٹ ورکس کی نگرانی کے لیے درست معلومات اور مسلسل مالیاتی جانچ ضروری ہے۔

امریکہ بھی اس سے پہلے حوثیوں سے منسلک تیل تجارت اور مالیاتی نیٹ ورکس پر متعدد کارروائیاں کر چکا ہے۔

جنوری 2025 میں یمن کویت بینک اور اپریل 2025 میں انٹرنیشنل بینک آف یمن کو نشانہ بنانے کے اقدامات اس وسیع تر مالی دباؤ کی مثالیں ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ان اداروں پر حوثیوں کی مالی معاونت کے الزامات عائد کیے تھے۔ 

اس پس منظر میں یمن کی نئی کارروائی کو ایک بڑے مالیاتی دباؤ کی کڑی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ حوثیوں کی آمدنی مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔

اگر نگرانی صرف معروف ناموں تک محدود رہی تو متبادل کمپنیوں اور نئے تجارتی رابطوں کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔

🔭
اب آگے کیا ہوگا؟ حوثیوں کی مالی طاقت کا اصل امتحان
+
⚖️

اثاثے اور عمل درآمد

اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حقیقتاً کتنے اثاثے منجمد کیے گئے اور کتنے مالیاتی اداروں نے ہدایات پر مؤثر عمل درآمد کیا۔

🔄

متبادل راستے

اگر نگرانی صرف معروف ناموں تک محدود رہی تو نئی کمپنیوں اور متبادل تجارتی رابطوں کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی کوششیں جاری رہ سکتی ہیں۔

🎯

توازن اور چیلنج

بنیادی امتحان حوثیوں کے مالی وسائل محدود کرنے اور عام یمنی شہریوں کو جائز بینکاری خدمات سے محروم ہونے سے بچانے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

سعودی عرب کی خطے میں اہمیت

یمن کا بحران سعودی عرب اور خلیجی خطے کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ ملک میں جاری عدم استحکام کے اثرات سرحدی سلامتی، بحیرہ احمر میں جہاز رانی اور علاقائی تجارت تک پہنچتے ہیں۔

حوثیوں کے مالی وسائل محدود کرنے کی کوششیں اسی وسیع تر علاقائی تناظر میں اہمیت رکھتی ہیں۔

بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے بعد امریکہ نے بھی ان کے مالیاتی اور تجارتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایسے نیٹ ورکس کو محدود کرنے سے گروہ کی عسکری سرگرمیوں کے لیے وسائل حاصل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ 

تاہم مالیاتی پابندیوں کے نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ آیا ان کے باعث رقوم کی منتقلی، تیل کی تجارت اور بیرونی مالیاتی رابطوں میں حقیقی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا نہیں۔

←
اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

شہریوں پر بوجھ نہ بڑھ جائے

یمن میں مالیاتی پابندیوں کا ایک حساس پہلو عام شہریوں کے مفادات کا تحفظ بھی ہے۔

ملک پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے اور خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی درآمدات کے لیے مؤثر مالیاتی نظام کی ضرورت ہے۔

یمنی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کا ہدف غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس ہیں، نہ کہ عام شہریوں کی خاندانی ترسیلات یا ضروری اشیا کی خریداری۔ 

اس مقصد کے لیے درآمدات کی مالی معاونت کا نظام بھی اہم ہے، تاکہ مختلف علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی فراہمی جاری رہ سکے۔

دوسری جانب بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو صارفین کی شناخت، لین دین اور پابندیوں کی فہرستوں کی مزید جانچ کرنا ہوگی۔ 

اگر واضح طریقۂ کار موجود نہ ہوا تو ایک جیسے ناموں، غلط شناخت یا غیر ضروری احتیاط کے باعث جائز صارفین کی ادائیگیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

ہم سے جڑے رہیں

فیصلہ نہیں، نتائج

یمن کی نئی مالیاتی کارروائی کی کامیابی کا تعین اس بات سے ہوگا کہ حقیقتاً کتنے اثاثے منجمد کیے گئے، کتنے مالیاتی اداروں نے ہدایات پر عمل کیا اور حوثیوں کے مالیاتی نیٹ ورکس کی سرگرمیاں کس حد تک محدود ہوئیں۔

ان نتائج سے متعلق مکمل سرکاری اعداد و شمار سامنے آئے بغیر پابندیوں کی کامیابی کا حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج دو مقاصد میں توازن قائم کرنا ہے۔

1: حوثیوں کے مالی وسائل کو محدود کرنا۔

2: دوسرا یمنی شہریوں کو جائز بینکاری خدمات سے محروم ہونے سے بچانا۔

اگر مالیاتی نگرانی مؤثر، معلومات درست اور بیرونی اداروں کے ساتھ تعاون مضبوط ہوا تو ان اقدامات کے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ 

بصورتِ دیگر یہ پابندیاں کاغذی فیصلوں تک محدود رہنے اور متبادل مالیاتی راستوں کے سامنے کمزور پڑنے کا خطرہ رکھتی ہیں۔

📚 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES یمن میں حوثیوں کے مالیاتی نیٹ ورکس، اثاثے منجمد کرنے اور تیل کی تجارت سے متعلق بنیادی حوالہ جات 4 معتبر ذرائع
🇾🇪 یمنی حکومت کا اصل اعلامیہ
📰 سبا نیوز ایجنسی — 135 افراد، اداروں اور جہازوں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی اصل رپورٹ۔ اس میں عدن کے مرکزی بینک کی ہدایات، اٹارنی جنرل کے فیصلے نمبر 17، مالیاتی لین دین پر پابندی اور پانچ تیل بردار جہازوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ سرکاری یمنی ماخذ اصل خبر ↗
🌍 بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ
🌐 انادولو ایجنسی — حوثیوں سے منسلک 135 افراد اور اداروں پر پابندیاں 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں مرکزی بینک کے حکم، پانچ تیل بردار جہازوں، اکاؤنٹس منجمد کرنے اور مالیاتی اداروں کو دی گئی ہدایات کی تفصیلات شامل ہیں۔ بین الاقوامی نیوز رپورٹ اصل خبر ↗
🔎 یمن پر خصوصی تحقیق اور تجزیہ
📊 ساؤتھ24 — حوثیوں سے وابستہ افراد اور تیل بردار جہازوں کی تفصیلات یمن پر توجہ رکھنے والے تحقیقی و ابلاغی مرکز کی رپورٹ میں پانچ جہازوں کے نام، کمپنی کی شناخت اور مالیاتی اداروں کو دی گئی ہدایات کی تفصیل دی گئی ہے۔ علاقائی تحقیقی ماخذ تفصیلات دیکھیں ↗
🛢️ تیل کی آمدنی اور امریکی پابندیاں
💵 امریکی محکمہ خزانہ — حوثیوں کے تیل اور مالیاتی نیٹ ورکس پر کارروائی 16 جنوری 2026 کا سرکاری بیان، جس میں 21 افراد اور اداروں کے خلاف امریکی پابندیوں اور حوثیوں کی غیر قانونی تیل فروشی سے سالانہ دو ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی کے امریکی تخمینے کا ذکر ہے۔ امریکی سرکاری ماخذ اصل بیان ↗
📝 اداراتی نوٹ: سبا نیوز ایجنسی یمنی حکام کے اعلان کا بنیادی ماخذ ہے۔ انادولو اور ساؤتھ24 اس فیصلے کی رپورٹنگ اور تفصیلات فراہم کرتے ہیں، جبکہ امریکی محکمہ خزانہ کا بیان حوثیوں کے تیل اور مالیاتی نیٹ ورکس پر سابقہ امریکی کارروائیوں کا پس منظر پیش کرتا ہے۔ امریکی تخمینوں اور الزامات کو امریکی حکام سے منسوب کرکے ہی پیش کیا جانا چاہیے۔ SOURCE REFERENCES · YEMEN SANCTIONS