یمن میں تعز اور مغربی ساحل پر لڑائی، عدن پر حملوں اور سعودی عرب کو لاحق سلامتی خطرات نے علاقائی کشیدگی بڑھا دی ہے۔ باب المندب میں جہاز رانی متاثر ہونے کی صورت میں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
یمن میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔
اس مرتبہ لڑائی صرف اقتدار یا کسی شہر پر قبضے کی نہیں بلکہ بحیرہ احمر کے ایک ایسے سمندری راستے کی بھی ہے جس سے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی سلامتی وابستہ ہے۔
حوثیوں کی تعز کی جانب پیش قدمی، عدن کے صدارتی محل پر میزائل حملے اور سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے خدشات بڑھا دیئے ہیں کہ یمن کی جنگ ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
01اہم ترین نکات⌄
- تعز اور مغربی ساحل پر لڑائی نے یمن کی سلامتی کے خدشات بڑھا دیئے ہیں۔
- عدن کے صدارتی محل پر حملے سے حکومتی مراکز کے تحفظ پر سوالات اٹھے۔
- سعودی عرب کے لیے سرحدی سلامتی اور بحری راستوں کا تحفظ اہم ہے۔
- باب المندب میں کشیدگی عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین نے 16 اکتوبر کو یمن کے سابق وزیراعظم معین عبدالملک سعید کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اگر تعز حوثیوں کے قبضے میں چلا گیا تو اس کے نتائج صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ باب المندب اور عدن کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
تعز کیوں فیصلہ کن بن گیا؟
تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر اور شمالی و جنوبی علاقوں کے درمیان اہم جغرافیائی مرکز ہے۔
اس کے گرد پہاڑی علاقے فوجی نقل و حرکت، رسد اور ساحلی راستوں تک رسائی کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
ستمبر میں حوثیوں نے مغربی ساحل پر پیش قدمی کرتے ہوئے
بندرگاہ المخا سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔
تاہم اکتوبر کے آغاز میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے جوابی کارروائی شروع کی اور باب المندب کے قریب متعدد مقامات دوبارہ حاصل کرنے کا اعلان کیا۔
02فیکٹ باکس⌄
- اہم شہر: تعز، عدن اور المخا
- اہم سمندری راستہ: باب المندب
- متعلقہ فریق: حوثی، یمنی حکومت، سعودی قیادت میں اتحاد
- اہم خطرات: شہری نقصان، نقل مکانی اور جہاز رانی میں رکاوٹ
اس کے باوجود تعز کے گرد لڑائی جاری ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے شہر سے عدن جانے والی اہم شاہراہ منقطع کی اور جنوبی علاقوں میں پیش قدمی کی۔
عدن کے صدارتی محل پر حملہ
15 اکتوبر کو حوثیوں نے عدن میں واقع صدارتی محل المعاشیق کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
یمنی حکام کے مطابق حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، جبکہ وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات محفوظ رہیں۔
03تعز کیوں اہم ہے؟⌄
- شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان اہم زمینی رابطہ ہے۔
- گردونواح کی پہاڑیاں فوجی نقل و حرکت اور رسد پر اثر ڈالتی ہیں۔
- تعز پر کنٹرول باب المندب پر مکمل کنٹرول کے برابر نہیں۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف محل کے اندر موجود سعودی فوجی کمانڈ سینٹر تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
سعودی عرب کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
یمن میں حالیہ لڑائی سعودی عرب کے لیے بھی سلامتی کا بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق حوثیوں نے گزشتہ ہفتوں کے دوران سعودی ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات پر متعدد حملے کئے۔
ان میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابہا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
04عدن پر حملے کی اہمیت⌄
- عدن بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا مرکز ہے۔
- 15 اکتوبر کے حملے میں حکام نے پانچ ہلاکتوں اور 16 زخمیوں کی اطلاع دی۔
- حوثیوں کے بیان کردہ ہدف کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائیوں میں حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں سے متعلق متعدد تنصیبات تباہ کی ہیں۔
تاہم وسیع فوجی کارروائیوں سے یمن میں انسانی نقصان اور علاقائی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
باب المندب عالمی تجارت کے لیے کیوں اہم ہے؟
باب المندب ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرہند سے ملاتی ہے۔
یہ راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان نہر سویز کے ذریعے ہونے والی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔
05سعودی عرب کے لیے کیا خطرہ؟⌄
- سرحدوں، شہری علاقوں اور اہم تنصیبات کا تحفظ بنیادی ترجیح ہے۔
- بحیرہ احمر میں محفوظ جہاز رانی سعودی معیشت کے لیے اہم ہے۔
- جوابی فوجی کارروائیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
اگر یہاں تجارتی جہازوں کو مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑے تو شپنگ کمپنیاں افریقہ کے جنوبی سرے سے طویل راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
اس سے سامان کی ترسیل میں تاخیر، بحری انشورنس کے اخراجات میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
البتہ تعز پر قبضہ خودبخود باب المندب پر مکمل کنٹرول کے مترادف نہیں ہوگا۔
اس کے لیے ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور اہم فوجی مقامات پر عملی کنٹرول بھی ضروری ہے۔
انسانی بحران سنگین تر
جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عام یمنی شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق حالیہ لڑائی سے دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً آٹھ لاکھ افراد تک امداد کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
06باب المندب کیوں اہم ہے؟⌄
- یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرہند سے ملاتا ہے۔
- نہر سویز کے ذریعے ایشیا اور یورپ کی تجارت اس راستے سے گزرتی ہے۔
- خطرات بڑھنے پر جہاز طویل متبادل راستے اختیار کر سکتے ہیں۔
تعز میں آٹے کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں اور طبی مراکز ادویات، آکسیجن اور علاج کے ضروری سامان کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
کیا ایران کا کردار بڑھ رہا ہے؟
حوثیوں کو ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد تہران پر انہیں جدید ہتھیاروں اور فوجی صلاحیتوں کی فراہمی کا الزام لگاتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے یمن کے محاذ کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
07عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات⌄
- بحری انشورنس اور مال برداری کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
- سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
- تیل اور دیگر اشیا کی قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے؛ یہ یقینی نتیجہ نہیں۔
تجزیاتی طور پر اہم سوال یہ ہے کہ آیا یمن کی جنگ مقامی اقتدار کی کشمکش تک محدود رہے گی یا ایران اور اس کے علاقائی مخالفین کے درمیان وسیع تر تصادم کا حصہ بن جائے گی۔
آگے کیا ہوگا؟
موجودہ صورتحال میں تین امکانات سامنے آتے ہیں۔
پہلا یہ کہ تعز اور مغربی ساحل پر لڑائی طویل ہو جائے اور دونوں فریق کسی فیصلہ کن کامیابی کے بغیر ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے رہیں۔
08انسانی بحران⌄
- جنگ سے شہریوں کی نقل مکانی اور امداد تک رسائی کے مسائل بڑھتے ہیں۔
- تعز میں خوراک، ادویات اور طبی سہولتوں پر دباؤ ہے۔
- جنگ بندی اور محفوظ امدادی راستے فوری انسانی ضرورت ہیں۔
دوسرا یہ کہ سعودی عرب پر حملوں اور بحری راستوں کو لاحق خطرات کے باعث علاقائی فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہو۔
تیسرا امکان اقوام متحدہ اور علاقائی طاقتوں کی نئی سفارتی کوششوں کا ہے، جن کے ذریعے جنگ بندی اور امدادی راستوں کی بحالی ممکن بنائی جائے۔
یہ ممکنہ منظرنامے ہیں، یقینی پیش گوئیاں نہیں۔