ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ جنگ اور مذاکرات بیک وقت جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
ایران آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر بہتر شرائط حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ پاکستان کی ثالثی اور خلیجی ممالک کی سلامتی بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
ایران نے امریکا کے ساتھ جاری تصادم کے دوران اپنی سیاسی اور فوجی حکمتِ عملی سے متعلق ایک اہم اعلان کیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران جنگ بھی جاری رکھے گا اور مذاکرات بھی کرے گا، تاکہ امریکا کو ایرانی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔
قالیباف کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہے، دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی کارروائیوں کے خدشات برقرار ہیں۔
01اہم اعلان
ایرانی قیادت کے اس مؤقف نے ایک اہم سوال پیدا کردیا ہے:
کیا تہران واقعی جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا فوجی دباؤ بڑھا کر مذاکرات میں زیادہ فوائد حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے؟
مزید پڑھیں
جنگ اور مذاکرات ایک ساتھ کیوں؟
الجزیرہ اور انادولو کی رپورٹس کے مطابق قالیباف نے 14 اکتوبر کو کہا کہ ایران کو اپنی فوجی صلاحیت اتنی مضبوط بنانی چاہئے کہ مخالف طاقتیں دوبارہ حملہ کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور کریں۔
ان کے مطابق محض کسی معاہدے پر دستخط مستقبل میں حملوں سے تحفظ کی ضمانت نہیں، جبکہ مسلسل جنگ بھی مستقل سلامتی فراہم
نہیں کرسکتی۔
اسی لیے ایران دفاعی طاقت، فوجی کارروائیوں اور سفارتی رابطوں کو ایک ساتھ استعمال کرنا چاہتا ہے۔
02جنگ اور سفارت کاری
سیاسی تجزیے کی زبان میں اسے ایسی حکمتِ عملی کہا جاسکتا ہے جس میں میدانِ جنگ کی صورتحال کو مذاکرات میں بہتر شرائط حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم یہ ایرانی قیادت کا اعلان کردہ مؤقف ہے۔
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکا تہران کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
آبنائے ہرمز تنازع کا مرکز کیوں؟
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شامل ہے۔
خلیجی ممالک سے تیل اور دوسری مصنوعات کی بڑی مقدار اسی راستے سے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔
حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور بحری انشورنس کے اخراجات کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
03آبنائے ہرمز کی اہمیت
ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کا اہم حصہ بنانا چاہتا ہے۔
تہران کے مطالبات میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھانا، منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکا تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق اپنے تحفظات دور کرنے پر زور دیتا ہے۔
یہی بنیادی اختلافات کسی جامع سمجھوتے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
مذاکرات کہاں تک پہنچے؟
ایرانی وزارت خارجہ نے 12 اکتوبر کو بتایا تھا کہ تہران امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
04ایران کے بنیادی مطالبات
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ واشنگٹن نے بعض مطالبات پر مثبت اشارے دیئے ہیں، لیکن اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
ابھی تک کسی جامع امن معاہدے یا مستقل جنگ بندی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اس لیے سفارتی رابطوں کو حتمی کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان کا کردار کیوں اہم ہے؟
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کا سفارتی کردار بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
جون 2026 میں اسلام آباد میں ہونے والے عبوری سمجھوتے کے سلسلے میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کی تھی۔
اس کا مقصد جنگ بندی اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے ابتدائی راستہ فراہم کرنا تھا۔
05امریکا کا مؤقف
قالیباف نے اپنی تقریر میں اس سمجھوتے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے ایران کو دفاعی تیاریوں کے لیے وقت ملا۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کہ اس کے ایران، سعودی عرب، قطر اور امریکا کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں۔
اسلام آباد کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں کردار ادا کرسکتا ہے، تاہم کسی معاہدے کی کامیابی بنیادی طور پر واشنگٹن اور تہران کے فیصلوں پر منحصر ہوگی۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر اثرات
ایران اور امریکا کا تصادم سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک کی سلامتی اور معیشت پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
خطے کی تیل تنصیبات، بندرگاہیں، تجارتی جہاز اور بین الاقوامی فضائی راستے اس کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہونے والے شعبے ہیں۔
06مذاکرات کی موجودہ حالت
آبنائے ہرمز میں مسلسل رکاوٹیں تیل کی نقل و حمل مہنگی کرسکتی ہیں، جبکہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ توانائی کی درآمدات مہنگی ہونے سے ملکی معیشت پر اضافی دباؤ پڑسکتا ہے۔
خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے فضائی سفر اور علاقائی سلامتی بھی اہم مسائل ہیں۔
کیا امریکا دوبارہ حملہ کرسکتا ہے؟
قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو صرف امریکی وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنی ہوگی۔
دوسری جانب امریکی فوج کی ممکنہ مستقبل کی کارروائیوں سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
07پاکستان کی ثالثی
تاہم کسی نئے حملے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ فوجی منصوبہ بندی اور عملی کارروائی میں فرق رکھنا ضروری ہے۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور فوجی دباؤ بیک وقت موجود ہیں۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
موجودہ صورتحال میں 3 ممکنہ راستے ہیں۔
پہلا، دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے محدود سمجھوتا کرلیں، جبکہ دوسرے اختلافات پر مذاکرات جاری رہیں۔
08سعودی عرب کے لیے اہمیت
دوسرا، فوجی دباؤ اور بالواسطہ سفارت کاری طویل عرصے تک ساتھ چلتے رہیں، لیکن جامع معاہدہ نہ ہوسکے۔
تیسرا، کسی نئی فوجی کارروائی سے کشیدگی مزید بڑھ جائے اور عالمی تجارت سمیت خلیجی سلامتی متاثر ہو۔
ان میں سے کسی نتیجے کو فی الحال یقینی نہیں کہا جاسکتا۔
نتیجہ: جنگ سے امن کی طرف یا نئی کشیدگی؟
محمد باقر قالیباف کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی قیادت فوجی طاقت اور مذاکرات کو ایک دوسرے کے متبادل نہیں سمجھتی۔
تہران بہتر شرائط کے لیے دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اپنے سلامتی اور جوہری پروگرام سے متعلق مطالبات پر قائم ہے۔
09پاکستانی معیشت پر اثر
موجودہ صورتحال میں 3 ممکنہ راستے ہیں۔
پہلا، دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے محدود سمجھوتا کرلیں، جبکہ دوسرے اختلافات پر مذاکرات جاری رہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک فوجی تصادم کو سیاسی سمجھوتے میں تبدیل کرسکیں گے، یا مذاکرات کے باوجود جنگ کا دائرہ مزید پھیل جائے گا؟
اس سوال کا جواب صرف ایران اور امریکا نہیں بلکہ سعودی عرب، پاکستان اور پورے خطے کے مستقبل کے لیے اہم ہوگا۔